’’آل انڈیا کشمیر کمیٹی لاہور‘‘ داستان بدل گئی اِک نکتہ ٔ مروان سے

(قسط ششم)

ش م احمد کشمیر
7006883587
تاریخ گواہ ہے کہ ۱۳؍جولائی۳۱ء نے کشمیر کی سیاسی تاریخ کا رُخ یکسر بدل کر رکھ دیا تھا۔ بلاشبہ یہ شہدائے کشمیر کے پاک لہو کی دین تھی کہ اس خو نچکاںواقعہ کے کچھ ماہ بعد ریاستی سطح پر’’ جموں وکشمیر مسلم کانفرنس ـ‘‘ کا قیام ہوا ، مگر اندوہناک سانحہ کا فوری ردعمل یہ بھی تھا کہ شمالی ہند میں رہنے والے کشمیری تارکین وطن سمیت عام پنجابی مسلمانوںمیں مظلومان ِ کشمیر کی حمایت کی زوردار لہر چل پڑی ۔ یہاں دو سطحوں پر اہم پیش رفت ہوئی: اول’’ مجلس ِاحرار پنجاب‘‘ نے کشمیر کاز کے لئے انقلاب کا راستہ اختیار کر لیا ، دوم ۲۵ ؍ جولائی ۳۱ء کو کشمیریوں کا دردوغم بانٹنے کے نام پر ’’ آل انڈیاکشمیر کمیٹی ‘‘ کا قیام عمل میں آیا ۔ کشمیریوں کے تئیں مجلس کے بے لوث اظہار یکجہتی کے پیچھے اس کا خالص مذہبی جذبہ کارفرما تھا ۔ اسی ناطے احرار نے اَٹل فیصلہ لیا کہ مجلس اہل ِ کشمیر کے سلب شدہ حقوق کی بازیابی کے لئے راست اقدام تک سے گریز نہ کر ے گی۔ ابتداء ً افہام وتفہیم کو پہلی ترجیح دے کر انہوں نے شخصی حکومت سے گفت وشنید کا راستہ اختیار کیا ۔ چنانچہ احرار کا ایک نمائندہ وفد سرکردہ لیڈر مولانا مظہر علی کی رہنمائی میں وزیراعظم کشمیرسے مذکرات کی میز پر بیٹھا۔ مولانا نے مہاراجی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیدار کے سامنے کشمیر یوں کا دُکھڑا مطالبات کی صورت میں پیش کیا، زبانی طور بھی کشمیریوں کی مدافعت میں اپنی قوتِ گویائی خرچ کی مگر بے سود کیونکہ مکالمے سے کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہوا۔ ظاہر ہے شخصی راج کشمیری مسلمانوں کے تئیں نرم گوشہ ا پنانے کا روادار نہیں ہوسکتا تھا ۔ ویسے بھی تاناشاہی نظام کا اصل الاصول ظلم وجبر اور بر بریت ہوتا ہے ، اس نظام کے لئے رعایا کے ساتھ عدل گستری کا مطلب ہے خود اس کا خاتمہ ۔ مہاراجی نظام بھی انہی اصول پر کاربند تھا۔ بایں ہمہ مذاکرات کی ناکامی سے احرار کی ہمت متزلزل ہوئی نہ عزم وارادے کے قدم ڈگمگائے۔انہوں نے راست اقدام کے طور اپنے ہزاروں رضاکار براستہ سوچیت گڑھ کشمیر روانہ کئے تاکہ و ہ کشمیر میں ظلم کے خلاف عوامی انقلاب وبغاوت برپا کر سکیں ۔ احرار ی رضاکاروں کا داخلہ کشمیر میں روکنے کے لئے حکو مت نے امتناعی احکامات نافذ کئے ، مگر جھتے پوری گرم جوشی کے ساتھ واردِ کشمیر ہوتے رہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ کشمیر کی حدود میں قدم رکھتے ہی انہیںپابند سلاسل کیا جاتارہا۔ اس غیر متوقع صورت حال سے مہاراجہ کے او سان خطا ہوئے ۔ اُس نے مہاراجہ پنجاب سے درخواست کی کہ احراری جتھوں کا مارچ پنجاب میں ہی روکے۔ ان وجوہ سے احراریوں کی جوشیلی تحریک زیادہ دیر چل نہ سکی مگر اس سے ۱۳؍جولائی کے معاً بعد غیر منظم تحریک کشمیر میں ایک نئی حرکت وحرارت دوڑ گئی۔
تحریک ِاحرار کے بالکل برعکس کشمیر کاز کے نام پر ـ’’آل انڈیاکشمیر کمیٹی‘‘ کا قائم ہوئی۔ کمیٹی کے زیر نظر’’ ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ‘‘ کے مصداق کچھ اور ہی مقاصد کی آبیاری مقصود تھی ۔ اسے معرض ِ وجود میں لانے میں چونکہ مرزائیوں کا زبردست عمل دخل تھا ،اس لئے زبانی کلامی کمیٹی جس نصب العین پر گامزن ہونے کا عندیہ دیتی تھی، پس ِپردہ کمیٹی کی حقیقت کچھ اور تھی۔ موٹے طور پر کمیٹی کے اغراض و مقاصد میں کشمیر میں کسی سیاسی انقلاب کی دعوت تھی نہ شخصی نظام کے خلاف کسی ناراضگی کا شائبہ، بلکہ کمیٹی مرزائی سوچ کے عین مطابق حالات جوں کا توں رکھنے کی قائل تھی ، البتہ مہاراجی قانون وآئین کے دائرے میں رہ کر ا س کا سروکار کشمیر ی قیدیوں کی قانونی چارہ جوئی اور مقدموں کی پیروی تھا ۔ اس کا منشور میں درج تھا کہ آئینی ذرائع سے مسلمانان ِ کشمیرکی جائز اور واجبی حقوق دلائے اورنظر بند کشمیریوںکے مقدمات کی پیروی کرے۔ یہی ا س کے وجود کا لب لباب تھا ۔ اُس وقت کشمیریوں کی بے نوائی کے پس منظر اتنا بھی غنیمت مانا جاتا مگرکمیٹی کی رگ وپے میں مسلمانوں کے سواد اعظم سے کٹے مرزائیوںکا غیر معمولی اثر ورسوخ اس کے وجود پر سوالیہ نشان بنا ہوا تھا ۔ اسی سوالیہ نشان نے ایک موڑ پر شیخ صاحب اور میرواعظ ِکشمیر کو آپسی شکر رنجیوں ، تلخیوں اور کدورتوںکی نذر کر کے ایک دوسرے سے بہت دور کردیا۔
کشمیر کی سیاست میں شخصیاتی ٹکراؤ کی یہ کڑواہٹ تاریخ کاالمیہ تھا، ایک حادثہ تھا ،اغیار کی سازش تھی ، مقہور قوم کی بدنصیبی تھی،جو کچھ بھی کہئے سو ٹھیک مگر مذکورہ دواہم لیڈروں کے درمیان چپقلش کے پیچھے بنیادی طور قادیانی تنازعہ ہی ایک اہم معاملہ تھا ۔تنازعے کی ایک کڑی یہ بھی تھی کہ۱۷ ؍ دسمبر۱۹۳۲ء کو جب شیخ صاحب مسلم کانفرنس کی مجلس عاملہ کے اجلاس میںشرکت کے لئے لاہور گئے تو ان کی عدم موجودگی میں میرواعظ صاحب نے شہر خاص کی خانقاہِ نقشبند صاحب میں اپنی مجلس وعظ کے دوران شیخ کو علانیہ طور مرزائی کہا۔ اس گل افشانی سے سری نگر میں ’’شیر بکرا‘‘ کے نام سے دو متحارب گروپ بن گئے جو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے ۔پہلا دھڑہ شیخ عبداللہ کا حامی تھا،جب کہ دوسرا طبقہ میرواعظ کے عقیدت مندوں پر مشتمل تھا۔دونوں کے درمیان ہاتھا پائی ، پتھراؤ اورتصادمات ایک معمول بنا۔ لڑائی دنگوں کی اس آفت سے نجات پانے کے لئے دونوں لیڈروں کو ’’امن معاہدہ‘‘ نام سے ایک اعلامیہ تک وقت کے سپرانٹنڈنٹ آف پولیس وزیر محمد خان کی موجودگی میں جاری کرنا پڑا مگر بے سود۔ اتنا ہی نہیں بلکہ میرواعظ نے مسلم کانفرنس تک سے بھی علحٰیدگی اختیار کر لی ۔
مسلم کانفرنس کی بالائی قیادت میں مذہبی اختلاف کی کوکھ سے جنمی سیاسی سر پھٹول سے جو شر انگیزیاں منصہ شہود پر آئیں انہوں نے بالآخر کشمیری مسلمانوں کے کھاتے میں اتنا بھاری نقصان درج کیا کہ ان کی تمام قربانیاں رائیگاں ہوئیں۔ صحیح تر لفظوں میں اُن کی سیاسی جدوجہد ایک بے لنگر جہاز ثابت ہوئی ۔ سچ مچ مسلمانان ِکشمیر میںتصادم وتزاحم کا یہ نکتہ ٔ مروان مسلم آبادی کے لئے اول تاآخر شکست کا افسوس ناک پیغام تھا ۔
کشمیر ی قیادت دوپھاڑ ہونے کی وجوہ میں مورخین اورمبصرین ضمناً یہ اشارے دیتے ہیں کہ شیخ محمد عبداللہ اور میرواعظ یوسف شاہ صاحب کے مابین پھوٹ کی خارجی وجوہات کے ساتھ ساتھ کچھ داخلی اسباب بھی ذمہ دار تھے۔ ان کی رائے میں میرواعظ کے بعض خاص الخاص مصاحبوں نے مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے جب شیخ صاحب کی بڑھتی ہوئی ہر دل عزیزی دیکھی تو اُ نہیںکھٹکا لگا کہ جو اولیت اب تک میرواعظ خاندان کو کشمیر میں مسند ِقیادت پر بر اجماںرکھے ہوئی تھی اور جس والہانہ عقیدت کے سہارے خانوادۂ میرواعظاں اپنے ہم وطنوں کی اجتماعی زندگی میں سکہ جمائے تھا، نئی سیاسی قیادت اُبھر نے سے یہ حسن ِ عقیدت اب شیخ صاحب کی ذات سے مرکوز اور منسوب ہو رہی تھی۔ ا س مبنی بر حقیقت تجزیہ سے اُن لوگوں نے میرواعظ سے شیخ مخالف کن سوئیاں شروع کیں۔ ان فتنہ پرور کن سوئیوں کا میرواعظ پر کوئی ا ثرہو اکہ نہیں، اس بارے میںواللہ اعلم بالصواب کے علاوہ کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا،البتہ بہت جلد میرواعظ نے شیخ کو مرزائیوں کے دائرہ اثر سے باہر آنے اور مرزائیوں کو تنظیم سے نکال باہر کر نے کا سجھاؤ دیا۔ شیخ نے میرواعظ کے صلاح کی اَن سنی کر دی ۔ یہی وہ معاملہ تھا جس پر اُن میں ٹھن گئی ۔اس طرح وقت کے دو اہم سیاسی کرداروں میں اتنی خلیج پیدا ہوئی جو پھر کبھی نہ پاٹی جاسکی ۔
جب حالات نے یہ منفی رُخ اختیار کیا کہ کشمیر کی ہنگامہ خیز سیاست شیخ بمقابلۂ میرواعظ پر مرتکز ہوئی تو عوام میں اختلافات اور تفرقہ بازی کی مسموم ہوائیں شدت کے ساتھ چلنے لگیں ۔ یہ صورت حال مہاراجی نظام کے لئے گویاہوا کا تازہ جھونکا تھا۔
یہاں یہ بات لکھے بغیر چارہ نہیں کہ کشمیر کے سیاسی منظر نامے پر قادیانیت کے ایڈوانس مارچ سے میرواعظ کو جو فکروتشویس لاحق تھی، وہ قابل ِفہم تھی کیونکہ دیوبند سے فارغ ایک حساس ذہن زیرک مذہبی رہنما سے اسی چیزکی توقع کی جاسکتی تھی ۔ میرواعظ کشمیر قادیانیت کے خلاف صف آراء علمائے دیوبند خاص کر اپنے مرشد ومر بی مولانا انور شاہ کشمیری کی جانب سے دفاعِ ختم نبوت کے حوالے سے اُن کی ہمہ
و قت علمی ، نظری اور مناظرانہ سرگرمیوں کے چشم دید گواہ تھے ، وہ
مقد مۂ بہاول پور جیسے عدالتی معرکوں سے بھی لاتعلق ہوسکتے تھے اورنہ اپنی منصبی ذمہ داریوں سے بے اعتنائی برت سکتے تھے ۔ اس بنا پر میرواعظ کا مسلم کانفرنس کی صفوں میں قادیانیوں کا سرگرم کردار اُن کے لئے ناقابل قبول تھا ۔البتہ کشمیر کے مرزائی شیخ عبدالصمد سے لے کر مولوی عبداللہ وکیل تک ناخواندگی اور لاعلمیت کی اندھیر نگری میں وہ پڑھا لکھا طبقہ تھا جن سے شیخ کی ذہنی قرابت تھی ۔ نیز شیخ بڑے سیاسی قد وقامت کے حامل لیڈر تھے ،دوم ان کو تمام طبقاتِ خیال کو اپنے ساتھ رکھنے کی مجبوری تھی، سوم ممکنہ طور قادیانیوں کی جانب سے تحریک ِکشمیر میں غیر معمولی دلچسپی کے سیاسی اغراض ومقاصد کا گورکھ دھندا میرواعظ اور شیخ کے فہم سے بالاتر تھا ۔ یوں جہاں میرواعظ قادیانیوں کی مخالفت کر نے کے باوجود اُن کا کھیل نہ بگاڑ سکے بلکہ خود سیاسی طور حاشیہ پر چلے گئے ، وہاں قوم شیخ کے تئیں شخص پرستی کی رو میں بہک کر اپنے خراب ہوتے مستقبل تک کو نظر انداز کر تی گئی ۔ لمحوں کی اس خطا نے کس کس طرح صدیوں کی سزا پائی، وہ آج بھی ہمارے سامنے ایک کھلی کتا ب کی مانند عیاںو بیاں ہے ۔ شیخ پر مرزائی ہونے یا اُن سے خفیہ ساز باز رکھنے کا الزام کوئی چھوٹا الزام نہ تھا ۔ اس سے اُن کی سیاسی شبیہ پر حرف گیری ہوتی رہی۔ چنانچہ ایک موقع پر انہیں لاہور میں، جہاں یہ افواہیں کچھ زیادہ گشت کر رہی تھیں، اپنے تئیںمرزائی نہ ہونے کا اعلان تک کرناپڑا ، ساتھ ہی یہ کہہ کر انہوں نے اپنی سیاسی مجبوری کا رونابھی رویا کہ ’’ہم اپنی ا س جدوجہد میں ہر طبقہ کی امداد کا خیرمقدم کریں گے ‘‘( اشرف عطاء’’ کچھ شکستہ داستانیں ، کچھ پریشان تذکرے ‘‘)
تاریخ دان اس امر پر متفق ہیں کہ قادیانیوں کے زیر اثر ’’کشمیر کمیٹی‘‘ محض ایک چھلاورن تھا، جب کہ اس کے پس ِ پردہ ان کا مقصد یہ تھا کہ اُ نہیں مسلم اکثریتی کشمیر میں اپنے قدم جمانے کا موقع ملے ۔ اصل میں قادیانیوں کی اوپری لیڈرشپ ملک میں نئی سیاسی کروٹوں کے بیچ اپنے لئے ایک سیاسی پناہ گاہ کی متلاشی تھی۔ اُن کی نظریں کشمیر پر پڑیں تو منہ میں یہ سوچ کر رال ٹپکی کہ ہو نہ ہو کشمیر میں وہ اپنی ایک جداگانہ ریاست قائم کرسکیں گے یا کم ازکم انہیں آگے ریاست کی طرف سے ویسی ہی حوصلہ افزائی، تحفظ اور سہاراملے جیسے انگریزوں کی علانیہ وفاداری کے صلے میں انہیںملتی رہی تھی ۔ قادیانی اکابرین چاہتے تھے کہ انگریزوں سے آزادی پانے کے بعد بھی اس مذہبی اقلیت کو اُسی پیمانے کی حکومتی چھترچھایہ ملے جو ملک کی جدوجہد آزادی سے جفاکاریاں کر نے اور گورے آقاؤں سے مصالحانہ اور دوستانہ روش اختیار کر نے کی شاباشی میں ان کو نصیب ہوئی تھی۔ مرزا بشیر الدین کے ذہن میں برصغیر سے انگریز چلے جانے کے بعد کسی مرزائیت نواز ریاست کا خاکہ مچل رہا تھا تاکہ وہاں وہ اپنے فکر کی ترویج واشاعت کے ساتھ ساتھ اپنی سیاسی بالادستی قائم کر سکیں۔اس کے لئے مرزا کا نظر انتخاب کشمیر پر پڑا۔ مبصرین کی رائے میں یہی وجہ تھی کہ شملہ میں ذوالفقار علی خان کی رہائش گاہ پر جب کشمیر کمیٹی کا قیام عمل میں آیا تو اس کی صدارت مرزابشیراالدین محمود احمد کے ہاتھ سونپ دی گئی اور عبدالرحیم دردؔ اس کے سیکرٹر ی بنائے گئے۔ شملہ اجلاس میں جو لوگ مدعو کئے گئے تھے،ان کو دعوت نامے مرزا کی طرف سے ہی ملے تھے ۔ ظاہر ہے وہ اکثریت میں مرزائی ہی تھے یا ان کے ہم نوا۔ کشمیری الاصل علامہ اقبال ایسی مستند ہستی کا کمیٹی کے مرکزی عہدے کے لئے منتخب نہ کیا جانا اس بات کی چغلی کھارہاتھا کہ دال میں کچھ کالا ہے ۔ اگرچہ علامہ اقبال بھی بعدازاں کمیٹی کے مرکزی قائد بن گئے مگروہ بھی چلتے چلتے کمیٹی میںمرزا ئیوں کے زبردست عمل دخل کے سبب ا س سے مستعفی ہوئے ۔ مرزابشیر کو بھی ایک موڑ پر کمیٹی سے مستعفی ہونا پڑا ( تفصیلات آگے آئیں گی )
مرزائی جماعت کشمیر کمیٹی کی آڑ میں نئی کشمیری قیادت سے بآسانی راہ ورسم رکھنے کے قابل ہوئی تھی ۔ یہ روابط ملاقاتوں اور دوستیوں کے چکر سے آگے بڑھ کر ان لیڈروں کی مالی امداد تک پہنچ گئی تو سارا کھیل قادیانیوں کے ہاتھ آگیا ۔قائدین ِ کشمیر کو اپنا ممنون ِ احسان کر کے مرزائی جماعت نے کہیں لوگوں کی ہمدردیاں جیت لیں ، کہیں اس کے لئے سماجی پذیرائی کا حصول ممکن بنا ، کہیں اس کے واسطے تبلیغ و اشاعت کے امکانات روشن ہوئے مگر بہ حیثیت مجموعی مرزائیت کشمیری مسلمانوں میں اپنا اثر ونفوذ قائم نہ کرسکی ۔زیادہ سے زیادہ یہ ہوا کہ سیاسی قیادت اس ایک نکتہ ٔ مروان کی وجہ سے جس طرح دست وگریباں ہوکر باہم دگر شکوک وشبہات کی نذر ہوئی، اس کی بھاری قیمت کشمیری عوام کو چکانی پڑی ، جب کہ قیادت ذاتیات کے گرداب میں اُلجھ گئی ، قوم کا ملّی اتحاد پارہ پارہ ہوا، کشمیر کا سیاسی مستقبل ڈانواں ڈول ہو کر رہا۔
(باقی باقی)
نوٹ: ش م احمد کشمیر کا آازاد صحافی ہے

 

Comments are closed.