"ہندو تو فطری دیش بھکت ہوتا ہے” –

 

 

محمد صابر حسین ندوی

Mshusainnadwi@gmail.com

7987972043

 

 

آر ایس ایس کے مکھیا موہن بھاگوت کا کہنا ہے کہ ملک کا ہر ہندو فطرتاً دیش بھکت ہے، ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی ہندو ہو اور دیش بھکتی سے عاری ہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ فطری طور پر دیش کی محبت سے چور ہوتا ہے، ان میں پیدائشی ملک کیلئے مر مٹنے کا جذبہ موجزن رہتا ہے، بالفاظ دیگر وہ کچھ بھی ہوسکتے ہیں مگر ملک مخالف نہیں ہوسکتے؛ البتہ کبھی کبھی اس کی بھکتی گرد و غبار میں چھپ جاتی ہے، وقت کی تہوں میں دب جاتی ہے، جسے ہٹانے اور اس کے اندرون کے محب وطن کو جگانے کی ضرورت ہوتی ہے، بھاگوت نے اسے گاندھی جی کی طرف منسوب کرتے ہوئے کہا تھا، اور یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ ہر ہندو کسی نہ کسی شکل میں دیش کی مٹی کو مانتا اور پوجا کرتا ہے، اسے چومتا ہے، ماتھے سے لگاتا ہے، آنکھوں کا سرمہ بناتا ہے، اس بیان کو بی بی سی وغیرہ نے کوریج دی ہے، غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ ایک مضحکہ خیز بیان ہے، انسان جہاں پیدا ہوتا ہے، اس ملک اور سماج سے محبت فطری بات ہوتی ہے، اگر کوئی نامساعد حالات نہ ہوں تو شاید ہی کوئی اپنی مٹی سے لاتعلقی کا خیال کرے، اس سلسلے میں کسی مذہب، مسلک اور سماجی طبقہ کا کوئی امتیاز نہیں ہوتا، دنیا کا کوئی شخص نہ ہوگا جو اپنے دل میں جائے پیدائش کیلئے نفرت رکھتا ہو، دراصل موہن بھاگوت اس بیان سے ایک عمومی اشارہ بلکہ وضاحت دینا چاہتے ہیں؛ کہ ملک میں صرف ہندو ہی دیش بھکت اور حب وطن سے لیس ہیں، اس کے علاوہ بالخصوص مسلمانوں میں وہ محبت اور دیش کے تئیں میلان نہیں پایا جاتا، عجیب بات ہے کہ دیش کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والے یہی ہندو ہیں، حکومتی پیمانے پر کرپشن سے ملک کا ایک ایک حصہ کراہ رہا ہے، بیرون ملک بھاگنے والے، اس ملک کو چھوڑ کر دوسرے ملک کی شہریت لینے والے اور غبن و دھوکہ دھڑی کر کے اربوں کا چونا لگا کر ملک کو ٹھینگا دکھانے والے یہی ہندو ہیں، سماج کی تقسیم، طبقہ واریت اور فتنہ و فساد میں سب سے بڑا ہاتھ ان کا ہی سامنے آتا ہے، گودھرا کانڈ، مالیگاؤں بم دھماکہ، گجرات فساد وغیرہ کی فہرست تو طویل ترین ہے جس میں باقاعدہ ان میں ملوث ہندو ملزومين پر دہشتگردی کا چارج لگا ہے، تاریخ کی متعدد داستانیں چیخ چیخ کر کہتی ہیں کہ ہندوؤں نے دیش کو مفاد پرستی اور خود غرضی کی خاطر کہیں کا نہیں چھوڑا، اکثر و بیشتر پکڑے جانے والے جاسوسوں کی پہچان ہندو کے طور پر کی گئی ہے، ابھی چین کے ساتھ کشمکش کے دوران کئی جاسوس ہندو پکڑے گئے ہیں، کشمیر میں ایک سردار آفیسر کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا.

ویسے بھی جس گاندھی کی مثال دی جارہی ہے، اور جس کے کاندھے پر بندوق رکھ کر نشانہ لگایا جارہا ہے وہ خود کس کی گولی کا شکار ہوا تھا، ناتھورام گوڈسے کو متفقہ طور پر دیش کا پہلا غدار مانا جاتا ہے، آرایس ایس کو اگر دیش بھکتی کی پرواہ ہے تو بتائے کہ وہ کونسا جرم تھا جس کی وجہ سے ان پر پابندی عائد کردی گئی تھی، اور کیا ان کی فکر و فساد میں ان کا ہاتھ صریحی طور پر نہیں پایا گیا، کئی دفعہ وہ جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل نہیں گئے اور ان کے لیڈروں کا مواخذہ نہیں کیا گیا، کیا وہ سب کچھ یوں ہی تھا؟ ہندو دیش بھکتی کی بات کی جاتی ہے اور مسلمانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، تو بتائیں پچھلے چھ سالوں سے وہ دیش کے کل مختار ہیں، تو کیا دیش میں امن و امان قائم ہوگیا؟ کہیں دہلی کے فساد کراہتے، بلکتے متاثرین ہیں، تو کہیں نوجوانوں کی غنڈہ گردی ہے، اب تو کھلے عام مقدس مقامات پر حملہ کیا جاتا ہے، ایک بابری مسجد کی یاد کیا کم تھی کہ یہی لوگ مندسور، مدھیہ پردیش میں مسجد کی پامالی اور اس کے گنبدوں پر بگھوا پھہرا کر ایک اور سیاہ دھبہ دیش کے ماتھے پر تھوپنا چاہتے ہیں؟ ملک کا کوئی سرا نہیں جہاں کوئی کہہ سکے کہ یہاں سر اٹھا کر چلا جاسکتا ہے، ہندوؤں کی پیٹھ تھپتھپائی جارہی ہے اور انہیں کے سہارے اقلیت کو دبوچا جارہا ہے، لوجہاد کا قانون تازہ مثال ہے کہ دیش بھکتی کے نام پر ملک کی امن پسند آبادی کو سیاست کی بھینٹ چڑھایا جارہا ہے، موہن بھاگوت اکثر یہ کہتے نہیں تھکتے کہ دیش میں ہندوؤں کا کیا کردار ہے؛ لیکن وہ کبھی یہ نہی بتاتے ہیں کہ خود ان کی تنظیم کا کیا رویہ ہے؟ مدد کیلئے ہاتھ بڑھانے کے نام پر کس طرح سماج کو بانٹا جارہا ہے، نوجوانوں کو بے روزگار کیا جارہا ہے، ان کے درمیان کشمکشِ اور ملک کے تئیں تشویش پیدا کی جارہی ہے، آر ایس ایس کی سرپرستی میں جاری بی جے پی کی حکومت کے دوسرے ٹرم سے ہی پورا ملک احتجاج کی لہر سے دوچار ہے، شاہین باغ کی تحریک کو جب کرونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے ذریعے پردہ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو پھر ایہ عظیم تحریر کسانوں کی شکل میں سامنے ہے، ٹھنڈ کی شدت کے باوجود دہلی کی سرحدوں پر دھرنا دینے والے اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے کیا دیش بھکت نہیں ہیں؟ پھر آخر کیا بات ہے کہ شاہین باغ دہشتگردی کا داغ جھیلے اور دوسرے ملکی محبت کا تمغہ پائیں؟ بلاشبہ موہن بھاگوت اپنے بیانات کے ذریعہ ہند و مسلم کی موٹی لکیر کھینچنا چاہتے ہیں اور اس لکیر پر اپنی حکومت کی کرسی مضبوط کرنا چاہتے ہیں.

 

 

 

Comments are closed.