سعودی اور قطر تعلقات – فکر کے کچھ زاویے!!
محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
جون سنہ ٢٠١٧ کی بات ہے جب سعودی عرب، بحرین، عرب امارات اور مصر نے متحدہ طور پر قطر کیلئے سمندری حدود پر پابندی عائد کر دی تھی، بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ کلی معاشی مقاطعہ کردیا گیا تھا، ان ممالک کا یہ کہنا تھا کہ قطر اخوان المسلمین جیسی اسلامی تحریکوں کی معاونت کرتا ہے، یہ جگ ظاہر ہے کہ قطر کے بادشاہ تمیم بن حمد آل ثانی اسلام پسند ہیں، انہوں نے اسلامی تحریکوں اور شخصیات کو ہمیشہ عزت ووقار کی نظر سے دیکھا ہے، اس وقت استاذ العلماء علامہ شیخ یوسف القرضاوی بھی وہیں پناہ گزیں ہیں، جن پر سعودیہ نے اخوانی فکر کی بنیاد پر دہشت گردی کا الزام عائد کیا تھا اور انہیں ملک بدر ہونے پر مجبور کردیا تھا، ایسے میں کوئی شبہ نہیں کہ ان ممالک کو قطر کی نیک نامی کھٹکتی ہو، نتیجتاً اپنے ہی مسلم بھائی کو پورے خلیجی ممالک کے درمیان تن تنہا کردیا گیا تھا، مگر پھر اب تعلقات بحال ہوئے ہیں، سعودی عرب اور ان کے اکثر ہم نواؤں نے اسے قبول کرلیا ہے کہ قطر سے سفارتی تعلقات بحال کئے جائیں، مگر عرب امارات کی جانب سے کوئی صریحی بیان اب تک نہیں آیا، ایسا مانا جاتا ہے کہ آل نہیان اگرچہ سعودیہ اور امریکی پالیسی کے سامنے زبان نہ کھولیں لیکن اسے قبول کرنے میں وقت ضرور لیں گے، بہرحال منگل کے روز سعودی عرب کی سرزمین العلا میں خلیج تعاون کونسل کی سپریم کونسل کی اکتالیسویں سیشن میں قطر کے شیخ نے شرکت کر کے اس معاہدے کو انجام دیا، اس سلسلہ میں عام نگاہیں تو یہی کہتی ہیں کہ سعودی عرب نے ایک خوش آئند قدم اٹھایا ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خلیجی ممالک کا آپسی اتحاد اور ان میں اسلامی روح پھونکنا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے، بلکہ ترکی و ایران کی شمولیت بھی ہوجائے تو جام دوآتشہ بن جائے، مگر تجزیہ نگاروں نے مختلف تجزیے کئے ہیں، ان میں جی سی سی اجلاس کے بارے میں تحلیل و تجزیہ کرتے ہوئے بی بی سی کے نامہ نگار برائے سکیورٹی امور فرینک گارڈنر کا کہنا ہے؛ کہ قطر پر لگائی گئی پابندیاں ہٹانے کیلئے مہینوں سے سفارتی کوششیں جاری تھیں، جس میں کویت کا بڑا اہم کردار تھا؛ لیکن ساتھ ساتھ تعلقات بحال کرنے کیلئے وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی اشارے دیے گئے تھے، جہاں موجودہ صدر ٹرمپ کا دور صدارت اپنے اختتام کے قریب پہنچ رہا ہے۔ فرینک گارڈنر نے اس پر مزید تبصرہ کیا کہ ساڑھے تین سال کے عرصے پر محیط اس پابندی سے نہ صرف قطر کو شدید معاشی نقصان ہوا ہے؛ بلکہ اس کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک کے آپسی اتحاد کو بھی بہت ٹھیس پہنچی ہے اور قطر اتنی جلدی اپنے ساتھ کیے گئے اس سلوک کو نہ بھولے گا نہ معاف کرے گا جسے وہ خلیجی ممالک کی جانب سے اپنی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کے مترادف سمجھتا ہے۔ فرینک گارڈنر لکھتے ہیں کہ سفارتی بیان بازی اپنی جگہ، متحدہ عرب امارات کو ابھی بھی قطر سے بہت خدشات لاحق ہیں اور انھیں شک ہے کہ قطر اپنی ڈگر نہیں بدلے گا۔
یہ شکوک و شبہات دراصل دونوں جانب سے ہے، قطر اگر اپنی بے گناہی اور اسلام پسندی کی پاداش میں مقاطعہ کا بحران جھیلتا رہا اور تو وہیں سعودی اور اس کے ہم. نوا کوئی بنفس نفیس خود دوسروں کے اشاروں پر چلنے کی بنا پر شبہات کے شکار ہیں، بی بی سی کے رپورٹر ایک سینئر اور نامور صحافی ہیں، ذرا غور کیجئے! اس تحلیل و تجزیہ میں ایک طرف معاشی بحران کی باتیں ہیں تو دوسری طرف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے چرچے ہیں، یہاں پر دو احتمال ضرور ہیں – سب سے پہلی بات یہ ہے کہ قطر پر جب سے بائیکاٹ مسلط کیا گیا اس نے ترکی اور ایران کی طرف میلان دکھایا تھا، یہ صحیح بات ہے کہ یہ دونوں ممالک سعودی کیلئے آنکھ میں پھانس کی مانند ہیں، ایران نیوکلیئر پاور بننا چاہتا ہے اور اس کیلئے دنیا کو چیلینج کر رہا ہے؛ جبکہ ترکی نے جس تیزی سے گزشتہ سال اپنی پالیسیوں میں تبدیلی کی ہے اور کرونا وائرس کے باوجود صدر طیب أردوغان نے ترقی پائی ہے اس سے یہ خطرہ مزید بڑھ گیا ہے کہ امت مسلمہ میں قیادت کی کمی دور ہو، لوگ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوجائیں جس کی قیادت ترکی کے ہاتھوں میں ہو، اب اگر قطر ترکی کے قریب بھی جائے گا تو سعودی اسے تیکھے نظروں سے دیکھتا ہے، نیز اخوان کے سلسلہ میں سعودی کا نظریہ واضح ہے بلکہ تمام اسلامی تحریکوں کے متعلق وہ اچھی سوچ نہیں رکھتے، اب تو وہاں کے اسلامی نمائندوں کی جانب سے بھی انہیں دہشت گرد کا خطاب دلوایا جاچکا ہے، اسی طرح شہزادہ محمد بن سلمان نے متوسط دین کا شوشہ چھوڑ رکھا ہے، اس پر وہ خود بھی عمل کر رہے ہیں اور آل نہیان کے ساتھ پورے خلیج کو اسی پر ابھار رہے ہیں، اب ممکن ہے کہ قطر کی معاشی دقتیں کم ہوجائیں؛ لیکن اسلامی حمیت سے لبریز ترکی اور دیگر اسلامی تحریکوں سے تعلقات میں کھٹاس پیدا ہوسکتی ہے، اور خود قطر سعودی دباؤ میں آسکتا ہے…… دوسری اہم بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کچھ ہی دنوں میں واہٹ ہاؤس سے رخصت ہونے والے ہیں، مگر اس پوری کارروائی میں وہ پیش پیش تھے؛ بلکہ ان کے خاص مشیر نے ہی دونوں محاذ سنبھالا ہے، حتی کہ معاہدے کے دستخط میں بھی قصر ابیض کا سفید فارم اعلی مشیر شامل تھا، اس میں امریکی سیاست کی الجھنیں بھی واضح ہوتی ہیں؛ کہ مستقبل کے امریکی صدر جو بائیڈن جو مصالحتی اقدام کے خلاف ہیں اور خلیج و دیگر اسلامی ممالک کو گوشہ چشم سے دیکھتے ہیں، انہیں ٹرمپ اپنی موجودگی درج کروا رہے ہیں، ویسے بھی ٹرمپ اپنی شکست سے خوش نہیں ہیں، اندازہ ہے کہ مستقبل میں امریکی سیاست کی گرمی خلیجی ممالک کو تپش میں مبتلا کردے…. تیسری بات یہ بھی سمجھنے کی ہے کہ جو اس صورت حال میں اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے؛ کہ سعودی عرب کس قدر امریکہ کہ غلامی میں مبتلا ہے، جو لوگ اندھے اور بہرے ہیں اور ان کے خادم الحرمين ہونے کو ہی جنت کی کنجی مان رہے ہیں وہ دیکھ لیں کہ کس طرح ان کے اشاروں پر ہر فیصلے ہوتے ہیں، عالمی خبر رساں ادارے متفق ہیں کہ اس میں امریکہ کا ہاتھ ہے- تو کون ہے جو عبرت حاصل کرے!!
Comments are closed.