گزرا سال(2020) بنا میرا فخر 

از قلم :آمنہ جبیں

جیسے جیسے وقت کی آندھی زندگی کے دن کم کر رہی ہے ۔ ویسے ہی یہ سال 2020 اپنے اختتامی سفر کی طرف گامزن ہے ۔ دسمبر کے چند آخری دن نئے سال کی نوید اور پچھلے سال کے گزر جانے کی خبر سے آگاہ کر رہے ہیں ۔ دسمبر کی آہٹ سے لے کر اس سے بچھڑنے تک ہر دن ہی مجھے بے حد محبوب ہے ۔ دسمبر کے موسم میں میرے دل میں وفاؤں کی کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں ۔ جب یخ بستہ شامیں ہواؤں میں خنکی اور کہر کے کٹورے آ کر بدن میں گھلنے لگتے ہیں ۔ جب دھند کی نمی سے چھنتی روشنی جس میں تپش نہیں پیار محبت اور لگاؤ کی مہک بھری ہوتی ہے جب چہرے پہ پڑتی ہے تو کسی عجب سی تازگی کا احساس ابھرتا ہے۔ دسمبر میں چلتی ٹھندی ہوا اور برف کی سفیدی اور شبنم کے قطرے جزبوں میں حرارت بھر دیتے ہیں ۔ زندگی کے خوابوں کا کارواں تپش پکڑنے لگتا ہے ۔ کیونکہ دسمبر کی یہ چند شامیں آنے والے سال کی تیاری کے لیے وقف ہو جاتی ہیں ۔ کہنے کو تو سردی ٹھنڈ اور کہر جما دینے والی چیزیں ہیں ۔ لیکن نہیں یہ موسم یہ ٹھنڈک بھرا احساس خوابوں کو نیا رخ دے جاتا ہے ۔ نئے راستے نئے عنوان بتا جاتا ہے ۔ اور اختتام ہوتے سال کی خوبصورتی اور اصلاحی تحریک کو ابھار جاتا ہے ۔ اور دسمبر اس گزرتے سال کو گرمائش دے کر اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے ۔جیسے 2020 اختتام کی طرف نکل پڑا ہے ایسے ہی دسمبر بھی جدائی کے گھونٹ لے رہا ہے ۔ خیر امید سے وابستہ یہ شجر اس کے لوٹنے کی اس رکھتے ہیں ۔ یہ دسمبر پھر لوٹے گا یہ یخ بستہ شامیں یہ خنک ہوائیں یہ احساسِ محبت پھر سے لوٹے گا ۔

 

اب 2020 تو تقریباً گزر گیا سب کا کسی خوشی اور غمی کا مجموعہ بن کر اور اس سال میں ایک سب سے بڑی آزمائش جس کا ہر انسان ہر ملک ہر قوم کو سامنا کرنا پڑا ہے وہ ہے کرونا وائرس ۔ یہ کیا انہونی تھی کہ یہ سال ابھی جوبن پہ تھا کہ ایک آگ نے ایسا دھواں چھوڑا جس نے پوری دنیا کو ہر چہرے کو تاریک کر دیا ہر منظر میں افسردگی اور شور میں سناٹا بھرپا کر دیا ۔ سارے ادارے ساری مساجد ایک وقت کو ویران ہو گئیں یہاں تک کہ رب کعبہ بھی اور مدینہ بھی خاموشی کا مسکن بن گیا ۔ یہ کیا تھا جو اس سال آیا اور ہر چیز پہ اپنا اثر چھوڑ گیا۔ یہاں تک کہ سڑکیں ویران ہو گئیں پھولوں کی مہک سے منافقت کی بو آنے لگی ۔ اور باغ باغیچے اپنی تازگی سے روٹھنے لگے ۔ کئی لاکھ چہرے صرف ایک سال میں زمین میں سو گئے کسی کو زمین نصیب ہوئی تو کسی کی لاش در بدر بھٹکتی رہی ۔ کیا ہوا کہ سارے ہاسپٹل بھر گئے اور تو اور دینی مدارس اور تعلیم کے مرکز بھی ہاسپٹل کے شکل اختیار کر گئے ۔ یہ کیا تھا سب مجھے لگتا ہے یہ انسان کی تاریخ کا ایک اور تلخ باب تھا جسے انسان نے پڑھنا تھا ۔ اور سیکھنا تھا ۔ اس سے پہلے دنیا خوش گپیوں میں تھی نہ دوسروں کو تو دور اپنی ذات تک سے پیچھے ہٹ کر انسان اپنی حقیقت بھول چکا تھا ۔ مگر پھر رب نے عرش سے فیصلہ بھیجا اور بھولا ہوا سبق یاد کروایا ۔ جب کرونا سے مسجدیں ویران ہوئیں تو آنکھیں بھی ویران ہو گئیں پھر جہاں گھر میں ایک جائے نماز ایک وقت میں بچھتا تھا وہیں ندامت کے آنسو بہانے کے لیے کئی جائے نماز پانچ وقت زمین کی زینت بن کر کئی پیشانیوں کو سجدے کا اعزاز بخشتے رہے ۔ رب العالمین نے انسان کو یہ سکھانے اور بتانے کو یہ آزمائش انسان پہ بھیجی ہو گی ۔ کہ انسان کتنا بے بس اور لاچار ہے ۔اور اللہ کیسے اس چلتی پھرتی دنیا کو ساکن کر سکتا ہے اور اس کی کایا پلٹ سکتا ہے ۔ بہت سے لوگوں میں اس کرونا نے روحانیت بھری ہے ۔ اللہ پہ یقین کر کے اور ندامت کی سسکیاں لے کر بہت سے وجود ہلکے ہوئے ہیں ۔ اس کرونا نے یہ اس سال میں یہ سکھا دیا سمجھا دیا کہ اپنی دھن میں مگن ہو کر جب اپنے ورثے اور مذہب کو بھول کے چلو گے تو تمہارے قدم روک دیے جائیں گے اور تمہیں احساس دلایا جائے گا کہ اپنی ذات کی نفی کیسے کرنی ہے ۔ اور اپنے خاک ہونے کا یقین کیسے رکھنا ہے ۔ جتنے بھی تاریک پہلو لکھ دیے جائیں مگر میرے خیال میں ہر آ زمائش ہر مصیبت بھی ایک رب تعالیٰ کا انعام ہوتی ہے ۔ کہ وہ انسان کو اللہ کے قریب کر دیتی ہے ۔ ہم سب نے یہ جنگ لڑی اور اب تک لڑ رہے ہیں لیکن اس جنگ نے ہمیں بہت کچھ سکھایا ہمیں اپنے اپنوں سے ملایا ہمارے اعتقادات اور یقین کو پختگی دی تو ہم نے بہت سی جانوں کو گنوایا مگر بہت سی جانوں کو اس کرونا نے حقیقت سے آگاہ کر کے زندگی کی نئی نوید بھی تو سنائی ہے ۔ کہ بھرے حالات سے کیسے نمٹنا ہے ۔ اس لیے ہم کیوں تاریک پہلو دیکھیں ہم آزمائش میں سے کوئی مثبت پہلو نکال کر رب کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں اس مصیبت سے لڑنے اور اس پہ ثابت قدم رہنے کا حوصلہ دیا اور ہمیں اپنے قریب ہونے کا موقع دیا ۔ اس کے علاؤہ ملک بھر میں اس سال ٹڈی دل کے فصلوں پہ حملے نے انسان کو حیرانگی تک پہنچا دیا اسکا اندر تک جھلس گیا اور کئی ہی ہرے درخت اس وبا کے بھی شکار ہوئے ۔ بہت سے غریبوں کسانوں کے پیٹ اس ٹڈی دل نے کاٹ لیے ۔ لیکن رب آزمائش ڈالتا ہے تو پھر واپس بھی لے لیتا ہے ۔ جلد ہی اس پہ اقدامات کر کے ٹڈی دل کے حملے کو روکا گیا اور پھر سے درختوں کی ہریالی بہال ہو گئی۔اور زندگی کو نئی امید مل گئی ۔

 

گزری ہوئی چیزوں کو اچھی یادوں میں یاد کرتے ہیں ۔ 2020 کی بھی بہت سی بری اور اچھی دونوں یادیں ہیں ۔ جہاں یہ سال تاریخ میں لکھا جائے گا کہ اس سال پوری دنیا کیسے حرکت میں رہی وہیں پہ یہ سال میرے لیے باعث برکت انعام اور ایک خاص زینت بن کے رہا ۔اس سال نے مجھے پھولوں کی مہک محسوس کر کے اپنے اندر تک سرائیت کروانا سیکھی ۔ ابھی بچپن ہی تھا کہ قلم کو تھامنا سکیھا اور شدت سے خواہش رکھی کہ کبھی اپنے اس قلم سے جو رب العزت کی طرف سے مجھے ودیت کیا گیا ہے اس کی لاج رکھنی ہے ۔ اور اس قلم سے اپنے معاشرے میں تغیر لانا ہے ۔ مگر یہ قلم میری ڈائری تک محدود ہو کر رہ گیا ۔ لیکن خیر امید اور لگن ہو تو راستے بن ہی جاتے ہیں ۔ 2020 نے میرے لیے امکان پیدا کئے کہ میں اپنے قلم سے ملک کے اخبارات میں کچھ تحریر کر کے لوگوں کے ذہنوں کو چھو سکوں ۔ اللہ تعالیٰ کی مدد کے بعد ایک عظیم شخصیت جو از خود ایک رائٹر ہیں میم ہما مختار احمد ان کے زیر سایہ میں نے اس سفر پہ قدم رکھا ۔ اور اپنے خوابوں کی تکمیل کی طرف رخ موڑا ۔ اور الحمدللہ یہ سفر بڑے زوق و شوق سے جاری ہے ۔ اس کے علاؤہ میرے تعلیمی کیریئر نے بھی اس سال مجھے خوشی سے بھرپور کیا ۔ بہت سی محبتیں بہت سی عزتیں اس سال میرے دامن میں آئیں ۔ بہت سی کامیابیوں نے قدم چومے اپنے بی ایس سی کے اختتامی سال میں میں نے اللہ کے کرم اور فضل سے کالج بھر میں نو انعامات جیت کر اپنے والدین کے سر پہ فخر کا تاج سجایا ۔ وہ دن تو بہت ہی خوشگوار تھا اور مجھے زندگی بھر وہ دن یاد رہے گا ۔ جب میں نے اتنے انعامات جوق درجوق جیتے اور جب انعامی تقریب ختم ہوئی تو میں نے کیا دیکھا میری بہت سی جونیرز بہت سی کلاس فیلوز آنکھوں میں نمی لیے میری طرف بڑھ رہی ہیں اور مجھ سے آٹو گراف کے لیے قلم اور ڈائری میرے ہاتھ میں تھما رہی ہیں ۔ میری آنکھیں نم تھیں کہ یہ کیا ہے ۔ لیکن پھر نگاہ آسمان کی طرف بلند ہوئی کہ یہ عرش والے کا کرم اور میرے حصے میں منتخب محبت اور عزت ہے ۔ اس دن بہت سے چہرے مجھے ایسے ملے جنہوں نے مجھ نہ چیز کو اپنا رول ماڈل بنایا ۔میری حیرت اور خوشی دونوں کی انتہا تھی کہ جب انسان اللہ کے بندوں کی فلاح کو نکلتا ہے تو عزتوں کے در کیسے بندے پہ کھل جاتے ہیں اور اس دن میرا اپنے رب پہ یقین اور پختہ ہو گیا ۔ اور میرے خوابوں میں مزید پختگی بھی آئی ۔ یہ دن میری زندگی کاسب سے اہم خوبصورت دن تھا جب میں نے عزتوں اور محبتوں کو اپنی طرف امنڈتے دیکھا اس لیے یہ سال 2020 بھی میرے لیے باعث فرحت رہا ۔ میں نے اس سال میں اپنے شاعری کے خواب کو سینچا اسے نئا رخ دیا ۔اپنے قلم کو مضبوطی سے تھامنا سیکھا ۔

 

اس کے علاؤہ مجھے بہت شوق تھا اپنی نوجوان نسل کے شعور کو بیدار کرنے کا انہیں اپنے ورثے سے ملا کر ان کے جسم کے ساتھ ساتھ سوچ کوبھی آزاد کرنے کی جستجو میرے اندر کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ۔ میرے دل

میں یہ خواہش بہت شدت سے تھی کہ میں اپنے معاشرے کی لڑکیوں بیٹوں کے لیے کچھ کروں ان کے لیے مثال اور ہمت بنوں پھر میں نے2020 میں اس سیڑھی پہ بھی قدم رکھ دیا اور نوجوانوں کے شعور کو بیدار کرنے کے لیے ان کے زخموں پہ مرہم اور روتی آنکھوں کے لیے خشک مٹی بننے کے لیے میں نے موٹیویشنل اسپیکنگ سٹارٹ کر دی ۔ بچپن ہی سے محسوسات اچھی ہیں درد اپنا ہو یا دوسروں کا بہت قریب سے ہمیشہ سے محسوس کرتی آئی ہوں ۔ جب کسی کی آنکھ نم ہوتی تو یہی سوچ آتی کہ یہ پانی کی بوندیں کتنی منزلیں پار کر کے آئی ہیں کتنے درد سے کتنی تکلیف سے یہ آنکھوں تک پہنچی ہیں ۔ اود خشک مٹی کو گیلا کرنا آسان نہیں ہوتا اس لیے میں نے یہ سوچ لیا کہ مجھے آنسو صاف کرنے والا دلوں کو جوڑنے والا اور زندگی کی نئی امید سنانے والا بننا ہے ۔ بس پھر میں اپنی محسوسات سے ہی دوسروں کو موٹیوٹ کر دیتی ۔ سوچنے کے بغیر تو میں زندہ نہیں رہ سکتی روز رات کو اور دن بھر کسی بھی کام کے دوران میرا مناظر پہ اور لوگوں کے رویوں پہ اور زندگی پہ غور وفکر رہتا اگر یوں کہوں کہ سوچنا اور غوروفکر کر کے نتیجا اخذ کرنا بھی میرا ایک خواب ہے تو غلط نہ ہو گا۔ بس پھر اسی غوروفکر نے مجھے دوسروں کی زندگی میں رنگ بھرنا سیکھائے ۔ اور میں نے 2020 میں موٹیویشنل اسپیکنگ کا آغاز اپنے کالج کے اسٹیج سے کیا بہت ہی اچھا خوبصورت رہا یہ تجربہ بہت سی لڑکیوں کی سوچ بدلتے دیکھی ۔ اور ازخود بہت سی تنقیدی شخصیات کو بھی برداشت کیا خیر یہ تنقیدی جملے میرا کیا بگاڑ سکتے تھے جب میرا اپنے رب پہ پورا یقین تھا اور مجھے اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے یہ سب برداشت کرنا تھے اور میں نے انہیں اگنور کر کے ان ذہنوں کی طرف دیکھا جو میرے زبان سے ادا ہونے والے لفظوں سے بدل رہے ہیں ۔یہ خوشی میرے لیے کافی تھی کسی تنقید کو بھلانے کے لیے بس پھر مجھے کامیابی ملی پہلی کامیابی اور میں نے اس سفر پہ قدم جما لیے اور الحمدللہ اپنی سانسوں کے ختم ہونے تک اپنے معاشرے میں مثبت بیج بوتی رہوں گی ۔

 

گو کہ یہ سال ہر سال کی طرح ایک سال تھا مگر نہیں میرے لیے یہ سال میرا فخر ہے ۔ اس سال میرے خوابوں کے پرندے نے اڑان بھرنا سیکھی ۔ میں نے اپنے رب پہ بھروسہ کر کے اپنے راستوں کو خوش تلاش کرنا سیکھا ۔ میں نے یہ سیکھا کہ ہمت اور سچی لگن کسی چیز کی محتاج نہیں میں نے یہ سیکھا کہ انسان جو چاہے کر سکتا ہے اگر اس کا یقین اور اس کی نیت سچی اور کھری ہے ۔ اس سال نے میرے دل میں محبت کے جذبات کو بھی بہت خوبصورت کر دیا ۔ میری آنکھوں کی ٹھنڈک یہی سال بنا میری یاد میری زندگی کے مقصد کی تکمیل کا آغاز یہی سال بنا ۔ اب یہ سال اختتام کو ہے تو آنکھیں نم ہیں لیکن پر امید ہوں کہ اگلا سال اس سے بھی بہتر بلکہ بہترین اور سب کے لیے کامیابیوں سے بھرپور ہوگا ۔ اللہ سے امید اور دعا ہے کہ اللہ اس سال کے برے اور تاریک پہلو جن میں کرونا وائرس بھی شامل ہے اسے اگلے سال پہ چھانے سے بچا کے رکھے ۔ آخر میں میں آپ سب سے اگلے سال کا اپنا ایک اچھا خواب شیر کرنا چاہوں گی کہ اللہ کے کرم اور فضل سے 2021 میں میں اپنے معاشرے کی

نوجوانوں کے لیے خاص طور پر آج کی لڑکی کے لیے ایک کتاب لکھنے جا رہی ہوں بلکہ کچھ حد تک لکھ چکی ہوں بس ترتیب اور کچھ ایڈیشن باقی ہے ایسی لڑکی جو اندھیروں میں بند ہے اور مشکلوں میں پھنسی ہوئی ہے ۔ میں اب اس کتاب کو لکھنے کی تیاری میں ہوں انشاللہ بہت جلد یہ کتاب لکھ کر اپنے ملک کی لڑکیوں کے لیے زندگی کی حقیقت کا باب کھولوں گی ۔ اللہ تعالیٰ میری اس مقصد میں مدر فرمائے ۔ اور آپ سب کے خواب بھی تکمیل کے سفر پر نکل پڑیں ۔ اللہ سے دعا ہے کہ آنے والا سال سب کا ہی خوشیوں اور تغیر سے بھرا ہو ۔ آمین

یہ چند باتیں تھیں جو میرے 2020 کے سال کو میرا فخر بنا گئیں ہیں میں نے یہ چند باتیں آپ سب کی نظر کیں مجھے امید ہے آپ سب کو پسند آئیں گی ۔ آپ بھی اپنے اس سال کے مثبت پہلو اور اللہ پاک کی طرف سے عطاء کی گئی خوشیوں کو لکھیے انہیں شمار کئجیے چاہے یہ سال کتنا ہی تلخ تھا مگر سب کے آنگن میں کوئی اہم جگنو ضرور آیا ہو گا بس اسے شمار کیجیے اور تشکر کے ساتھ اگلے سال کا استقبال کیجیے

 

شکریہ

 

Comments are closed.