شب برأت فیصلہ کی رات

مفتی اصغر علی قاسمی
9972925392
ایسا لگتاہے کہ سال گذشتہ کی طرح اس سال بھی ہمیں’’ کورونا وائرس ‘‘ کے خوف کے سایہ تلے شب برأت اور رمضان المبارک گذارنا پڑے گا۔حکومت کی طرف سے اس بات کا اشارہ مل چکا ہے ۔ مذہبی عبادت گاہوں اور مساجد میں اجتماعی عبادات پر روک لگنے والی ہے ۔بلکہ 98% فیصد لاک ڈان کا اندیشہ ہے۔ مگر اللہ کرے یہ اندیشہ محض اندیشہ ہی ہو۔ہمیں یاد ہے جب ہم سال گذشتہ نماز وجمعہ جیسے اہم فریضے کو ہم اپنے گھروں میں ادا کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔
اس میں ہمیں مشتعل ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔جان ہے تو جہان ہے ۔جان بچے گی تو نماز بھی ہوگی، حج بھی ہوگا۔اور دیگر عبادتیں بھی ہوں گی ۔اور جب جان ہی نہبچے گی تو کوئی عبادت کیسے ہوگی؟
اس لئے یہ بات قابل غور ہے کہ جب ہم اپنی اوراپنے ملک کی سا لمیت کی خاطر پچھے سال نماز و جمعہ جیسے اہم فریضے کو گھروں پرہی ادا کررہے تھے۔ تو شب برأت کے اعمال جو فرض وواجب بھی نہیں ،محض مسنون ومستحب ہیں(جس میں اخفا وپوشیدہ ہی مقصودہے) توہمیں بد رجہ اولیٰ ان اعمال مسنونہ کو اپنے گھروں پر ہی ادا کرنا چاہئے ۔جیساکہ ملک کے اکابر علماء کرام نے اپیل بھی جاری کی ہے ۔لہٰذا اس باربھی شب برأت کے اعمال مسنونہ اپنے اپنے گھروں میںہی رہ کرانجام دیں۔
ماہ شعبان کی فضیلت
ماہ شعبان کی فضیلت کے لئے بس یہ بات کافی ہے کہ سروردوعالم رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان اللہ کا مہینہ ہے ۔حضرت انسؓ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ماہ رجب کو باقی مہینوں پر ایسی فضیلت ہے جیسے قرآن کو دوسری کتابوں پر فضیلت ہے اور شعبان کو دوسرے مہینوں پرایسی فضیلت ہے جیسے مجھ کو تمام انبیاء علیہم السلام پر فضیلت ہے ،اور رمضان کو باقی مہینوں پر ایسی فضیلت ہے جیسے اللہ کو تمام مخلوقات پر فضیلت حاصل ہے ۔غنیۃ الطالبین
شب برأت فیصلہ کی رات
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ نے مجھ سے فرمایااے عائشہ کیا تم جانتی ہو کہ آج کی رات میں کیا ہوتا ہے ؟ میں نے کہا مجھے تو نہیں معلوم آپ ہی بتا دیں توآپ نے فرمایا کہ بنی آدم میں ہر شخص جو اس سال پیدا ہونے والا ہے لکھ دیا جا تاہے اور بنی آدم کا ہر وہ شخص جو اس سال مرنے والا ہے لکھ دیا جاتاہے،آج کی رات بندوں کے اعمال اوپر ٹھا لئے جاتے ہیں اور اسی رات کو رزق کا فیصلہ ہوتا ہے ،حضرت عائشہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ کی رحمت کے بغیر کوئی جنت میں داخل نہیں ہوگا ؟ آپ نے فرمایاہاں؛ کوئی بھی اللہ کی رحمت کے بغیر جنت میں داخل نہ ہوگا ۔۔۔ اس جملہ کو آپ نے تین مرتبہ دوہرایا ،میں نے عرض کیا اور نہ آ پ یا رسول اللہ ؟ یعنی آپ بھی اللہ کی رحمت کے بغیر جنت میں داخل نہ ہوںگے ؟تو آپ نے اپنے دست مبارک کو اپنے سر اقدس پر رکھتے ہوئے تین مرتبہ یہی ارشاد فرمایا ’’ ہاں میں بھی‘‘ ۔ مشکوٰہ شریف
گویا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ شب برأت انسانی تقدیریں لکھنے کی رات ہے۔ اور آج کی زبان میںکہیں تو شب برأت مملکت خدا وندی کے بجٹ کی رات ہے ۔
حضرت علی ؓ سے منقول ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب شعبان کی پندرہویں رات آئے تو اس رات کو جاگو اور اس کے بعد والے دن میں روزہ رکھو ،کیونکہ اس رات کو اللہ تعالیٰ غروب آفتاب کے بعد سے ہی سماء دنیا پر جلوہ گر ہوتا ہے اور فرماتا ہے کہ ہے کوئی مغفرت چاہنے والا جس کی میںمغفرت کروں ؟ہے کوئی روزی طلب کرنے والا جس کو میں روزی عطا کروں؟ہے کوئی مصیبت زدہ جس کی میں فریاد رسی کروں ؟اور یہ آواز اسی طرح صبح تک آتی رہتی ہے۔ترغیب ؍ روح المعانی
؎ ہم تو مائل بہ کرم ہیںکوئی سائل ہی نہیں
راہ دکھلائیں کسے رہ رو منزل ہی نہیں
شعبان میں آپ کی عادت شریفہ
ایک روایت میںہے کہ آقائے مدنی جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی عادت شریفہ ماہ شعبان میں اکثر روزہ رکھنے کی تھی، کسی صحابی نے پوچھا یا رسول اللہ !آپ ماہ شعبان میں جتنے روزے رکھتے ہیں اتنے کسی اور مہینہ میں نہیں رکھتے ؟تو آپؐ نے فرمایا کہ لوگ رجب اور رمضان کے بیچ والے مہینہ سے غافل رہتے ہیں ، جبکہ اسی ماہ میں بندوں کے اعمال اللہ کے حضور پیش کئے جاتے ہیں ،تو میں چاہتا ہوں کہ اللہ کے سامنے جب میراعمل پیش کیا جائے تو میں روزہ سے رہوں۔بیہقی فی شعب الایمان
شب برأت کے اعمال مسنونہ
ا حادیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ شب برأت میں آپ ﷺ سے تین امو ر ثابت ہیں ۔(۱)رات کو بیدار رہ کر عبادت کرنا ۔(۲)صبح قبرستان جاکر مرحومین کے لئے ایصال ثواب اور دعاء مغفرت کرنا ۔(۳)شب برأت والے دن میں روزہ رکھنا ۔
مفکر اسلا م حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب حفظہ اللہ شب برأت کے روزہ کے تعلق سے لکھتے ہیں کہ پورے ذخیرہ احادیث میں صرف ایک روایت ملتی ہے وہ بھی ضعیف حدیث ہے ۔جس میں آپ ﷺ نے فرمایا قُوْ مُوْ ا لَیْلَھَا وَ صُوْمُوْا نَھَارَھَا (را ت کو جا گو اوردن کو روزہ رکھو)اور آگے لکھتے ہیں کہ یہ بات بلا غبار ہے کہ یہ حدیث ضعیف تو ہے لیکن موضوع نہیں ہے ۔اسی لئے آج تک کسی امام حدیث یا حافظ حدیث نے اس حدیث کو موضوع قرار نہیں دیا ۔
محقق علامہ ابن الہمام ؒ نے ضعیف حدیث کے بارے میں ایک اصول بیان فرمایا ہے کہ استحباب کا اثبات موضوع حدیث سے تو نہیں ہوسکتا ؛ البتہ اس سے اوپر والی احادیث سے ہو سکتا ہے اور اس سے اوپر حدیث ضعیف ہوتی ہے ۔فتح القدیر
لہٰذا اس اصول کے مطابق حدیث ضعیف سے استحباب کا اثبات ہوسکتا ہے ۔مگر جو حضرات استحباب کے اثبات کے لئے حدیث ضعیف کو ناکافی سمجھتے ہیں ان کے یہاں اس دن (شب برأت )کا روزہ رکھنا مستحب نہ ہوگا ۔البتہ ایام بیض یعنی ہرقمری ماہ کی ۱۳،۱۴،۱۵تاریخ کے روزے جو سنت ہیں ،اگر کوئی اس نیت سے شب برأت کی صبح کوروزہ رکھے تو مسنون ضرور کہلائے گا۔
شب برأت میں محروم رہنے والے
مختلف راویتوں سے معلوم ہوتاہے کہ شب برأت میں اللہ کی رحمت ومغفرت کی ہوا عام ہوتی ہے ، اللہ کی رحمت جوش میں ہوتی ہے، مگر چند گنہگار ایسے ہیں جو اس رات کو بھی محروم رہ جاتے ہیں ، اللہ کی رحمت ان سے رخ موڑ کر چل دیتی ہے ۔(۱) مشرک( ۲)کینہ پرور( ۳)والدین کا نافرمان (۴)قاطع رحم( ۵)قاتل( ۶)عادی شرابی( ۷)ٹخنے سے نیچے پائجامہ لٹکانے والا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مخلوق کی پیدائش سے چار ہزارسال پہلے عرش کے چاروں طرف لکھ دیا گیا تھا { اِ نِّیْ لَغََّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلاًصٰلِحاً ثُمَّ اھْتَدیٰ} (جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل کئے میں اسے بخشنے والا ہوں)یعنی اللہ تعالیٰ نے تخلیق انسانی سے پہلے یہ فرمان جاری کردیا تھا کہ جو شخص گناہ کے بعد سچی توبہ کرلے گا، عمل صالح کر ے گا اور ایمان پر قائم رہے گا میں اسے ضرور بخشوںگا ۔
کافر و مشرک کی بھی مغفرت
حضرت ثوبان ؓسے مروی ہے کہ حضور ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے اس آیت کے مقابلہ میں ساری دنیا اورا س کی نعمتوں کا لینا بھی پسند نہیں{یٰا عِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلیٰ اَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوْا مَنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُالذُّنُوْبَ جَمِیْعاً اِنہٗ ہُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ}(اے میرے بندو! جنہوں نے (گناہ کرکے )اپنے نفسوں پر ظلم کیا (اور اپنے آپ کو تباہ کرلیا )تم اللہ کی رحمت سے نا امید مت ہو اللہ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے،وہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے )
ایک شخص نے عرض کہ یا رسول اللہ !کیا جن لوگوں نے شرک کیا ہے، ان کے لئے بھی یہی ارشاد ہے ؟ آپ نے پہلے تو کچھ سکوت فرمایا پھر تین دفعہ فرمایا:اَلَا وَمَنْ اَشْرَکَ ،سن لو ! مشرکوں کے لئے بھی یہی ارشاد ہے،سن لو ! مشرکوں کے لئے بھی یہی ارشاد ہے،ہاں ! مشرکوں کے لئے بھی یہی ارشاد ہے۔مسند احمد بحوالہ معارف الحدیث ۵؍۳۳۲
شب برأت یقیناً باعث رحمت ہے ،مگر قدردانوںکے لئے ۔ناقدروں کے لئے باعث رحمت نہیں ،باعث زحمت ہے۔ یادرہے کہ مبارک ایام و مواقع میں جس طرح نیکیوں کا ثواب زیادہ ہوتاہے،اس ناقدری میںگناہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔
حضرت عمر فاروق ؓ فرمایا کرتے تھے کہ میں مکہ میں رہ کر ایک خطا کروں اس سے زیادہ پسندیہ ہے کہ (مکہ سے باہر ) ’’ رکیہ‘‘ میں ستر گناہ کروں۔ کذا فی الکنز عن الازرقی
لہٰذا اس رات میں جب تک آدمی کی طبیعت میں نشاط رہے خلوص کے ساتھ عبادت و اذکارمیں مصروف رہے اور جب نیند کا غلبہ ہو نے لگے تو پاؤں پھیلاکر آرام سے سوجائے ۔
؎ ہم نے تو دل جلاکے سر عا م رکھ دیا
اب جسکے جی میں آئے وہی پائے روشنی

Comments are closed.