بنگال میں کیوں ہے مودی کے لئے جیت ضروری۔

 

مشرف شمسی

 

پورے ملک میں کورونا کو لے کر ہا ہا کار مچا ہوا ہے۔اسپتالوں میں کورونا مریضوں کے لئے بیڈ کم پڑ رہے ہیں ۔آکسیجن اور دوسری دواؤں کی کمی کی وجہ سے لوگوں کے مرنے کی جگہ جگہ سے خبر آ رہی ہیں اسکے باوجود وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کسی بھی قیمت پر بنگال کا چناؤ جیتنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتے ہیں۔وزیر اعظم اس کورونا وبا میں بھی دن کے دو تین ریلیاں کر رہے ہیں۔وہ اور اُنکی پارٹی بی جے پی اس بات کے لئے بھی راضی نہیں ہیں کہ مغربی بنگال کا چناؤ مختصر کر دیا جائے۔آخر بی جے پی مغربی بنگال کے چناؤ کو لے کر اتنا ضدی کیوں ہے۔یا یوں کہیں مغربی بنگال کا چناؤ جیتنا وزیر اعظم مودی کے لئے کرو اور مرو کی حالت میں کیوں ہو گیا ہے؟
وزیر اعظم کے لیئے آسام میں اپنی پارٹی کی سرکار کو برقرار رکھنا اور مغربی بنگال میں سرکار بنانے کی ضرورت اسلئے بھی ہے کہ اُنہیں اپنے کارپوریٹ آقاؤں کو بتانا ہے کہ ملک میں کسان آندولن جیسے حالات ہوں یا لوگ کورونا وبا سے مر رہے ہوں تب بھی اس ملک کے لوگوں کی پسند وہ ہی ہیں ۔ان چناؤ میں کامیابی سے یہ بھی سندیش جائیگا کہ وے کتنا بھی عوامی مخالف پالیسی اپنائیں لوگ ووٹ اُنہیں ہی کو کرتے ہیں۔اسلئے مغربی بنگال کا چناؤ بی جے پی خاصکر وزیر اعظم مودی کے لئے کرو اور مرو کی حالت ہے۔کیونکہ کارپوریٹ ہمیشہ اپنے حق میں کام کرنے والی پارٹی اور اس کے وزیر اعظم پر اپنا پتہ لگاتے ہیں۔ اُنہیں یہ بھی معلوم ہے کہ کس شخص سے کتنا کام لیا جا سکتا ہے۔فلحال ملکی اور غیر ملکی کارپوریٹ کسی بھی قیمت پر تینوں زرعی قانون چاہتے ہیں اسلئے عوامی مخالفت کے باوجود وزیر اعظم چاہ کر بھی اُن زرعی قانون کو واپس نہیں لے سکتے ہیں۔جب کے پورے ملک کا کسان متحرک ہے اس کورونا وبا سے چاروں جانب موتوں کی خبر سنائی پڑ رہی ہے اسکے باوجود کسان دلّی کی سرحدوں پر ڈٹے ہیں۔کہا یہ جا رہا ہے کہ اگر آسام اور مغربی بنگال میں بی جے پی کامیاب ہوتی ہے یا یوں کہیں دو مئی کے نتیجے کے بعد دلّی کی سرحدوں پر بیٹھے کسانوں کو آپریشن کلین کے ذریعے ہٹایا جائیگا۔چونکہ ہیڈلائن ابھی کورونا وبا ہے تو کسانوں کے خلاف دلّی کے سرحدوں پر ہونے والی طاقت کا استعمال میڈیا میں جگہ نہیں لے پائےگی۔کسان آندولن کی وجہ سے مودی سرکار کے اصلاحات کا کام دھیمی پڑ گئی ہے۔اصلاحات کا دوسرا نام سرکاری ملکیت کو پرائیویٹ ہاتھوں میں دینا ساتھ ہی کارپوریٹ کے حق میں ٹیکس کا بھاڑ کم کرنا اور عام عوام کو نئے نئے ٹیکس کی زد میں لانا ہوتا ہے۔مودی سرکار کسی بھی حالت میں مغربی بنگال کا چناؤ جیتنے کی کوشش کریگی اور جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ آسام میں کانگریس اور بدرالدین اجمل کی پارٹی مل کر سرکار بنا رہی ہے تو وے خوش فہمی میں ہیں۔بہار میں جس طرح سے بی جے پی اور نتیش نے مِل کر سرکار بنائی ہے ٹھیک وہی ہتھکنڈہ مغربی بنگال اور آسام میں بھی کام کریگا۔حزب اختلاف کی پارٹیاں تھوڑی بہت شور شرابا کے علاوہ کچھ نہیں کر پائےگی۔خدا نہ خواستہ بی جے پی مغربی بنگال اور آسام میں چناؤ (جس کی امید نہ کے برابر ہے) شکست کھا گئی اور سرکار نہیں بنا پائی تو پھر سمجھ لیں مودی سرکار کا زوال یہاں سے شروع ہو جائے گی۔مودی سرکار چناؤ میں جیت کو ہی اپنی پوپولاریٹی مانتی ہے۔اگر ان ریاستوں میں مودی سرکار کی شکست کے ساتھ ہی اصلاحات کے کام کرنا مشکل ہو جائیگا۔اور جب سرکار اپنے ایجنڈے کے تحت اصلاحات کے کام کو انجام دینے میں تاخیر کریگی تو کارپوریٹ بھی اس کام کو انجام دینے کے لئے دوسرے گھوڑے کی تلاش شروع کر دینگے۔کیونکہ کارپوریٹ تبھی تک کسی سے دوستی رکھتا ہے جب تک اُنکا فائدہ ہوتا رہے۔
مغربی بنگال اور آسام کے چناؤ نتیجے پر منحصر ہوگا کہ جو گودی میڈیا آج گودی میڈیا ہے وہ بھی اس سرکار سے نظر پھیر لے گی۔ویسے کچھ کچھ تو گودی میڈیا کو بھی احساس ہونے لگا ہے یا کارپوریٹ کی جانب سے سگنل ملنے لگا ہے تبھی تو موجودہ سرکار سے ابھی سے کچھ مشکل سوال اب گودی میڈیا بھی کرنے لگی ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی کو معلوم ہے کہ عوام میں اُنکی پوپولارٹی ہوا ہوائی ہے اور جو ہے میڈیا کی بنائی ہوئی ہے ۔اس پوپُلاریٹی کو ایک دن میں زمین پر لایا جا سکتا ہے اگر میڈیا چاہ لے تو۔
مودی سرکار پر عالمی تنظیموں کی بھی نظر ہے۔اب وزیر اعظم مودی کی سرکار عوام کے خلاف اس طرح کی جارحانہ کاروائی کرنے سے گریز کرتی نظر آ رہی ہے جس طرح کی کارروائی ڈونالڈ ٹرمپ کے امریکی صدر رہتے کر رہی تھی۔وزیر اعظم مودی کے خلاف کچھ بھی لکھنے اور بولنے پر کہیں نہ کہیں مقدمے ہو جاتے تھے لیکِن امریکہ میں سرکار بدلتے ہی اس طرح کی کارروائی میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ مودی سرکار دنیا کو یہ بھی بتانا چاہتی ہے کہ آج بھی ان کی حکمرانی میں بھارت میں جمہوریت پہلے جیسا ہے اور جمہوری ادارے پوری طرح آزاد ہیں اور اس ملک میں انسانی حقوق کی بھی پوری طرح پاسداری ہو رہی ہے۔لیکِن ابھی کچھ دنوں پہلے ہی یوروپین یونین کے پارلیمنٹ میں بھارت میں جمہوری ادارے کی آزادانہ حثیت کو کمزور کرنے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے واقعات میں اضافہ پر ووٹنگ ہوئی جس میں بھارت کی موجودہ سرکار کے حق میں صرف چھ ووٹ پرے۔غرض کہ بھارت سرکار ملکی اور غیر ملکی دونوں سطح پر دباؤ میں ہے اور موجودہ مودی سرکار کو تھوڑی بہت آکسیجن مغربی بنگال اور آسام کی جیت ہی دے سکتی ہے اسلئے تو وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ اپنی اپنی جان کی پرواہ کئے بنا مغربی بنگال میں چناؤ پرچار میں مشغول ہیں۔جبکہ پورے ملک میں کورونا سے مرنے والوں رشتےداروں کی چیخ پکار گونج رہی ہے ۔لوگوں کی چیخ اور ماتم بھی وزیر اعظم کو مغربی بنگال میں پرچار سے روک نہیں پا رہا ہے کیونکہ یہ سرکار کے رہنے یا نہیں رہنے کا سوال ہے۔

Comments are closed.