بقیۃ السلف حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ، جامعہ ہدایہ جے پور کے زیر اہتمام ایک باوقار تہنیتی نشست کا انعقاد
لکھنؤ:20مئی( ندوۃ العلماء سے محمد نفیس خان ندوی کی خصوصی رپورٹ)
حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی کی علمی، دینی اور ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں ’’لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا۔ یہ ایوارڈ جامعہ ہدایہ کی جانب سے رئیسِ جامعہ حضرت مولانا فضل الرحیم مجددی نے پیش کیا۔
یہ اعزاز دار العلوم ندوۃ العلماء میں منعقدہ دو روزہ ’’تفہیمِ شریعت ورکشاپ‘‘ کے اختتام پر جامعہ ہدایہ جے پور کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی ایک خصوصی نشست میں پیش کیا گیا۔ اس موقع پر حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی کی علمی و تحقیقی، دینی و دعوتی اور ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا، اور ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں اس ایوارڈ کا اعلان کیا گیا۔
حضرت مولانا فضل الرحیم مجددی نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ جامعہ نے گزشتہ چند سالوں سے مختلف علمی، دینی اور ادبی میدانوں میں گراں قدر خدمات انجام دینے والی شخصیات کے اعتراف میں اس ایوارڈ کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس سال حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی کی خدمت میں یہ ایوارڈ پیش کرنا ہمارے لیے باعثِ سعادت و افتخار ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایوارڈ حضرت مولانا کی عظیم علمی و دینی خدمات، شاہکار تصنیفات، اور تقریباً ستر برس سے ماہنامہ ’’البعث الاسلامی‘‘کے ذریعے انجام دی جانے والی مسلسل صحافتی و فکری خدمات کے اعتراف میں پیش کیا جا رہا ہے۔
مولانا حبیب الرحیم ندوی مجددی نے ندوۃ العلماء اور جامعہ ہدایہ جے پور کے مابین علمی و فکری ہم آہنگی اور ذمہ داران کے دیرینہ و خوش گوار تعلقات کا ذکر کیا، نیز جامعہ کی علمی، فکری اور دعوتی سرگرمیوں کا جامع تعارف پیش کیا۔
حضرت مولانا بلال عبدالحی حسنی ندوی نے ڈاکٹر سعید الرحمٰن اعظمی صاحب کی عظیم علمی، دینی اور صحافتی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے خانوادۂ حسنی سے اُن کے گہرے، مخلصانہ اور دیرینہ تعلقات کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ ہمارے والد حضرت مولانا محمد الحسنی ندویؒ اور ڈاکٹر سعید الرحمٰن صاحب کے تعلقات زمانۂ طالب علمی ہی سے قائم تھے۔ دونوں حضرات نے عہدِ شباب میں مل کر عربی مجلہ ’’البعث الاسلامی‘‘ کا اجرا کیا، جو بعد میں علمی و فکری دنیا میں ایک معتبر اور مؤثر ترجمان کی حیثیت اختیار کرگیا۔
مولانا نے فرمایا کہ والدِ محترم تو کم عمری ہی میں اس دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن ڈاکٹر سعید الرحمٰن صاحب نے نہایت پابندی، استقامت اور اخلاص کے ساتھ ’’البعث الاسلامی‘‘ کی اشاعت کا سلسلہ جاری رکھا۔ غالباً یہ عالمِ عربی کا واحد ایسا رسالہ ہے جو تقریباً ستر سال سے بلا ناغہ مسلسل شائع ہورہا ہے، اور یہ خود ڈاکٹر صاحب کی علمی سنجیدگی، عزم و وفا اور غیر معمولی محنت کا روشن ثبوت ہے۔
انہوں نے مزید فرمایا کہ حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمٰن صاحب ’’بقیۃ السلف‘‘ ہیں۔ آپ نے اپنی پوری زندگی ندوۃ العلماء کی خدمت، علمی فروغ اور دینی و فکری بیداری کے لیے وقف کردی۔ آنے والی نسلوں کے لیے آپ کی حیات ایک قابلِ تقلید نمونہ اور روشن اسوہ ہے۔ خاص طور پر وقت کی پابندی، نظم و ضبط، وفاشعاری اور ادارہ سے غیر معمولی وابستگی میں آپ کی مثال کم ہی ملتی ہے۔
مولانا نے کہا کہ آج آپ کی خدمت میں جو ایوارڈ پیش کیا جارہا ہے، حقیقت میں وہ آپ کی عظیم شخصیت، بے مثال خدمات اور بلند مقام کے مقابلہ میں بہت معمولی حیثیت رکھتا ہے؛ البتہ اہلِ علم و خدمت کی قدر شناسی اور ان کے کارناموں کے اعتراف کی ایک اپنی اہمیت ہے، تاکہ نئی نسلوں کو اکابر کی قربانیوں، اخلاص اور مسلسل جدوجہد سے سیکھنے اور سبق حاصل کرنے کا موقع ملے۔
اس مؤثر اور بصیرت افروز خطاب کے بعد مولانا محمد حذیفہ ندوی، برطانیہ(جو شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہے ہیں) نے اپنا مقالہ پیش کیا، جس میں حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمٰن اعظمی ندوی کی علمی، ادبی، دینی اور صحافتی خدمات کا جامع جائزہ پیش کرتے ہوئے آپ کی ہمہ گیر اور ہمہ جہت کاوشوں کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ حضرت مولانا کی علمی و ادبی خدمات کئی دہائیوں پر محیط ہیں، اور آپ نے تدریس، تصنیف، تحقیق، صحافت اور ادارتی میدان میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ خصوصاً عربی زبان و ادب کی ترویج، اسلامی فکر کی اشاعت اور ندوۃ العلماء کی علمی روایت کو زندہ رکھنے میں آپ کا کردار نہایت نمایاں اور قابلِ قدر ہے۔مولانا نے اپنے مقالہ میں ’’البعث الاسلامی‘‘ کی ادارت، عربی زبان پر آپ کی غیر معمولی دسترس، علمی وقار، تحقیقی بصیرت اور تحریر کی شگفتگی کا خصوصی تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت مولانا کی شخصیت علم و عمل، اخلاص و استقامت اور سادگی و وقار کا حسین امتزاج ہے، اور آپ کی زندگی نئی نسل کے لیے ایک روشن نمونہ اور قابلِ تقلید مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔
حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی (صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ) نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے انسان کے منہ پر بے جا اور مبالغہ آمیز تعریف سے ضرور منع فرمایا ہے، لیکن خدمات کے اعتراف، اہلِ علم کی قدر افزائی اور اصحابِ فضل کے مناقب بیان کرنے کی عملی مثالیں بھی خود پیش فرمائی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ حضرات واقف ہوں گے کہ کتبِ حدیث میں ’’کتاب المناقب‘‘ کے مستقل ابواب موجود ہیں، جن میں رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحابؓ کی خوبیوں، امتیازی اوصاف اور دینی خدمات کا ذکر فرمایا ہے۔مولانا نے فرمایا کہ حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمٰن اعظمی ندوی کی علمی، ادبی، دینی اور صحافتی خدمات کا اعتراف بھی اسی مبارک سنت کا ایک حصہ ہے۔ اہلِ علم اور اہلِ خدمت کی قدر شناسی دراصل علم، وفا اور اخلاص کی قدردانی ہے، اور اس سے نئی نسلوں کو اپنے اکابر کے نقشِ قدم پر چلنے کا حوصلہ ملتا ہے۔مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے مزید فرمایا کہ حضرت ڈاکٹر صاحب کی زندگی سادگی، تواضع، اخلاص، وقت کی پابندی اور ادارہ سے وفاداری کا عملی نمونہ ہے۔ ایسے بزرگ شخصیات محض افراد نہیں ہوتیں بلکہ وہ ایک عہد، ایک روایت اور ایک علمی و اخلاقی سرمایہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ حضرت مولانا کو صحت و عافیت کے ساتھ مزید طویل عمر عطا فرمائے اور ان کی علمی و دینی خدمات کو ملت کے لیے نافع بنائے۔
پروفیسر وسیم اختر (چانسلر، انٹیگرل یونیورسٹی) نے حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمٰن اعظمی ندوی سے اپنے دیرینہ اور مضبوط تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ آج انٹیگرل یونیورسٹی کو جو وقار، شناخت اور استحکام حاصل ہے، اس کی بنیادوں میں حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمٰن اعظمی ندوی کے اخلاص، للّٰہیت، بے لوث تعاون اور غیر معمولی قربانیوں کا بڑا دخل ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب میں نے ڈاکٹر صاحب کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ ایک ایسا تعلیمی ادارہ قائم کیا جائے جہاں خصوصیت کے ساتھ مسلم بچوں کے لیے اعلیٰ عصری تعلیم کا معیاری نظام موجود ہو، تو ڈاکٹر صاحب نے نہ صرف اس خیال کا خیر مقدم کیا بلکہ اسی دن سے میری حوصلہ افزائی اور رہنمائی شروع کردی۔ وہ ہر چھوٹی بڑی ضرورت میں میرا تعاون کرتے رہے اور اس منصوبہ کو حقیقت کا روپ دینے میں عظیم قربانیاں دی ہیں۔
پروفیسر وسیم اختر نے کہا کہ کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ کسی مناسب جگہ یا زمین کے معائنہ کے لیے طویل سفر کرنا پڑا، اور ہم لوگ لمبے فاصلے صرف اسکوٹر پر طے کرتے تھے۔ بسا اوقات مسلسل سفر کی وجہ سے مولانا کی کمر میں تکلیف بھی ہونے لگتی تھی، لیکن انہوں نے کبھی کسی پریشانی، تھکن یا تکلیف کا اظہار نہیں کیا۔ ان کی پوری توجہ صرف اس مشن کی تکمیل اور ملت کے تعلیمی مستقبل کی تعمیر پر مرکوز رہتی تھی۔
مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے محقق العصر حضرت مولانا نورالحسن راشد کاندھلوی بھی شریک تھے۔ انہوں نے اپنے تاثراتی بیان میں کہا کہ حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمٰن اعظمی ندوی کی شخصیت اخلاص، سادگی، استقامت اور بے نفسی کا حسین پیکر ہے۔ انہوں نے خاموشی کے ساتھ جس انداز میں علمی، دینی اور تعلیمی میدان میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں، وہ آنے والی نسلوں کے لیے یقیناً مشعلِ راہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حضرت مولانا کی خدمات کا دائرہ نہایت وسیع اور ہمہ گیر ہے، اور ان کی زندگی مسلسل جدوجہد، علمی وابستگی اور ادارہ جاتی وفاداری سے عبارت ہے۔ ان کی خدمت میں جو ایوارڈ پیش کیا جا رہا ہے، اس سے ان کے مقام و مرتبہ میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ خود ایوارڈ کے لیے باعثِ اعزاز ہے کہ اس کا انتخاب اس قدر عظیم اور قدآور شخصیت کے لیے ہوا۔
اس پر وقار نشست کی نظامت ڈاکٹر محمد فرمان ندوی نے انجام دی۔ انہوں نے اپنی تمہیدی گفتگو میں کہا کہ حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمٰن اعظمی ندوی نے اپنی پوری زندگی علمِ دین کی اشاعت، عربی زبان و ادب کی خدمت، ندوۃ العلماء کی علمی روایت کے تحفظ اور ملت کی فکری رہنمائی کے لیے وقف کردی۔ خصوصاً ’’البعث الاسلامی‘‘ کے ذریعے انہوں نے عالمی سطح پر اسلامی فکر اور اعتدال پسند دینی مزاج کو متعارف کرانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ حضرت مولانا کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں آج کی یہ نشست منعقد کی جا رہی ہے، اور ہم اس کے لیے جامعہ ہدایہ کے بھی شکر گزار ہیں کہ اس نے اس اعترافِ خدمات کے لیے اس باوقار نشست کا اہتمام کیا۔
آخر میں ناظمِ اجلاس نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور نشست کے اختتام کا اعلان کیا۔
اس علمی و تہنیتی نشست کے بعد علماء و عمائدین کا ایک وفد حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمٰن اعظمی ندوی کی رہائش گاہ پر تشریف لے گیا، جہاں ان کی خدمت میں ایوارڈ پیش کیا گیا۔ حضرت مولانا اپنی پیرانہ سالی اور ضعفِ عمری کی وجہ سے جلسہ گاہ تشریف نہیں لا سکے تھے، اس لیے مولانا عبداللہ مخدومی ندوی نے حضرت کے گھر پر ہی ایک خصوصی نشست کے انعقاد کا اہتمام کیا۔
اور حضرت مولانا کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
اس موقع پر شرکائے مجلس تہنیت کے علاوہ مختلف علمی و دینی شخصیات نے بھی شرکت کی، جن میں مولانا عمار حسنی ندوی، مولانا خالد رشید صاحب فرنگی محلی، پروفیسر سید ندیم اختر پرو وائس چانسلر انٹیگرل یونیورسٹی،
مولانا ڈاکٹر جنید قریشی نوی علیگ، مولانا ظفر الدین ندوی اور مولانا محمد علی ندوی خاص طور پر قابل ذکر ہیں.
Comments are closed.