قربانی – احکام و مسائل

 

(1)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔

دگھی، گڈا (جھارکھنڈ)

رابطہ نمبر 9506600725

 

قربانی کا اجر و ثواب بے حد و حساب ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قربانی

کے دنوں میں قربانی سے زیادہ اور قربانی سے بڑھ کر کوئی چیز اللہ تعالی کو پسند نہیں۔ ان دنوں میں یہ نیک کام سب نیکیوں

سے بڑھ کر ہے اور قربانی کرتے وقت یعنی ذبح کرتے وقت خون کا جو قطرہ زمین پر گرتا ہے، تو

زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی اللہ کے پاس مقبول ہو جاتا ہے، تو خوب خوشی اور دل کھول کر قربانی کیا

کرو، ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ قربانی کے جانور کے بدن پر جتنے بال ہوتے ہیں ہر بال کے

بدلہ میں ایک نیکی لکھی جاتی ہے اس کے ساتھ حدیث میں یہ وعید بھی ہے کہ جو شخص وسعت رکھنے

کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔

 

قربانی کن پر واجب ہے:

 

ہر مسلمان ( مرد و عورت) آزاد، مقیم جو ضروریات زندگی کے علاوہ مقدار نصاب یعنی

ساڑھے سات تولہ (تقریباً ساڑھے ستاسی گرام) سونا یا ساڑھے باون تولہ (تقریباً

612.50) چاندی یا اس کی قیمت یا بنیادی ضروریات کے علاوہ اس قیمت کی جائیداد و سامان کا

دسویں ذی الحجہ کی صبح کو مالک ہو، اس پر قربانی واجب ہے۔

امام ابو حنیفہ رح کے یہاں بالغ، عاقل ہونا ضروری نہیں، اگر نا بالغ بچہ یا پاگل اتنی جائیداد کا

مالک ہو جس میں زکوۃ واجب ہو جایا کرتی ہے، تو اس پر قربانی واجب ہے۔ اور اس کا باپ یا جو

اس کا ولی ہو اس کی طرف سے قربانی کرے گا۔ ایک دوسری روایت کے مطابق مستحب ہے اور

اسی قول کو اکثر فقہاء احناف نے قابل ترجیح قرار دیا ہے، البتہ ایسے افراد کی طرف سے صدقہ فطر

کی ادائیگی کو واجب قرار دیا گیا ہے۔

جس پر صدقہ فطر واجب ہے، اس پر بقر عید کے دنوں میں

قربانی کرنا بھی واجب ہے۔ اگر اتنا مال نہ ہو جتنے کے ہونے سے صدقہ فطر واجب ہوتا ہے، تو

اس پر قربانی واجب نہیں ہے۔ اگر پھر بھی کرے تو ثواب کا مستحق ہوگا۔ مسافر پر حالت سفر میں

قربانی واجب نہیں ہے۔ دسویں گیارہویں اور بارہویں تاریخ کو سفر میں تھا پھر بارہویں تاریخ کو

سورج ڈوبنے سے پہلے گھر پہنچ گیا۔ یا پندرہ دن کہیں ٹھہرنے کی نیت کر لی تو اب اس پر قربانی کرنا واجب ہو گیا ، اسی طرح پہلے اگر اتنا مال نہ تھا اس لئے قربانی واجب نہ تھی پھر بارہویں تاریخ

سورج ڈوبنے سے پہلے کہیں سے مال مل گیا تو قربانی کرنا واجب ہے۔

 

قربانی کا جانور

 

قربانی کے جانوروں میں اونٹ پانچ سال سے کم نہ ہو، بیل، بھینس ، گائے دو سال سے کم نہ ہوں، اور بھیڑ بکری دنبے ایک سال سے کم نہ ہوں۔ اگر بھیڑ اور دنبہ چھ ماہ سے زائد کا ہو اور اتنا موٹا ہو کہ ایک سال کا نظر آرہا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔ قربانی کے جانور کو فربہ تندرست اور بے عیب ہونا چاہئے ۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ قربانی کے جانوروں کو کھلا پلا کر خوب قوی کیا کرو کیونکہ پل صراط پر وہ تمہاری سواری ہوں گے۔ قربانی کا جانوراگر ایسا مریل اور دبلا کمزور ہو کہ اس کی ہڈیوں میں گودا ہی نہ رہ گیا ہو تو اس کی قربانی درست نہیں۔ ایسا جانور جو اندھا ہویا کانا یا لنگڑا ہو جو مذبح تک نہ جا سکتا ہو یا اس کا کوئی عضو ( مثلاً کان یادم ) تہائی سے زیادہ کٹا ہوا ہوان سب کی قربانی جائز نہیں۔ جس جانور کے سینگ پیدائشی طور پر ہی نہ نکلے ہوں یا نکلے ہوں مگر کچھ حصہ ٹوٹ گیا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔ البتہ جس جانور کے سینگ بالکل جڑ سے ہی ٹوٹ گئے ہوں، تو اس کی قربانی جائز نہیں ہے۔ وہ جانور جس کے پیدائشی طور پر کان نہیں ہیں یا ہیں تو بہت چھوٹے ہیں اس کی قربانی درست نہیں ہے۔ جس جانور کے دانت بالکل ہی نہ ہو اس کی قربانی درست ہے۔ جس جانور کا تھن کٹا ہوا اس کی قربانی بھی جائز نہیں ہے ۔

گائے اور بکری اگر حاملہ ہو تو اس کی قربانی بھی جائز ہے۔ اگر بچہ زندہ ہی برآمد ہو تو اس کو بھی ذبح کر لینا چاہئے۔ دنبہ بکرا بکری، بھیڑ کی قربانی صرف ایک آدمی کی طرف سے ہو سکتی ہے۔ ایک سے زائد کئی آدمی اس میں حصہ دار نہیں ہو سکتے ۔ بیل ، گائے اور اونٹ میں سات حصے ہو سکتے ہیں۔ سات سے زائدہ نہیں۔ مگر اس کے لئے دو شرطیں ہیں۔ پہلی یہ کہ حصہ دار کی نیت قربانی یا عقیقہ کی ہو محض گوشت حاصل کرنے کی نیت نہ ہو۔ (اس سے معلوم ہوا کہ قربانی کے جانور میں عقیقہ کی نیت سے شریک ہوا جاسکتا ہے ) دوسری شرط یہ ہے کہ ہر حصہ دار کا حصہ ٹھیک 7.50 ہو۔ اس سے کم کا حصہ دار نہ ہو،ان دو شرطوں میں سے کوئی شرط بھی پوری نہ ہو تو کسی کی قربانی صحیح نہیں ہوگی۔

گائے، بھینس اور اونٹ میں سات افراد سے کم بھی شریک ہو سکتے ہیں۔ مثلاً کوئی دو، چار

یا کم و بیش حصہ لے۔ مگر اس میں یہ شرط ضروری ہے کہ کوئی بھی حصہ دار ساتویں حصہ سے کم کا شریک نہ ہو ورنہ کسی کی قربانی درست نہ ہوگی۔ جن لوگوں کے بھی حصہ رکھے جائیں ان کے کہنے سے رکھے جائیں۔ یہ نہیں کہ قربانی کا حصہ دار تجویز کر کے قربانی تو پہلے کر لی جائے اور حصہ داروں کی مرضی واجازت بعد میں حاصل کی جائے تو اس صورت میں قربانی صحیح نہ ہوگی۔ نر اور مادہ دونوں کی قربانی جائز ہے اس میں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں ہے۔

 

چنداہم مسائل:

 

کسی پر قربانی واجب نہیں تھی لیکن اس نے قربانی کی نیت سے جانور خرید لیا تو اس جانور کی قربانی واجب ہوگئی۔ کسی پر قربانی واجب تھی، لیکن قربانی کے دن گزر گئے اور اس نے قربانی نہیں کی تو ایک بکری یا بھیڑ کی قیمت کے برابر خیرات کر دے۔ اور اگر بکری خریدی تھی تو ۔۔۔

بعینہ وہی بکری خیرات کر دے۔ (شامی) اگر قربانی کے لئے جانور خریدا اس وقت کوئی ایسا عیب پیدا ہو گیا جس سے قربانی درست نہیں تو اس کے بدلے دوسرا جانور خرید کر قربانی کرے، ہاں اگر غریب آدمی ہو جس پر قربانی واجب نہیں تو اس کے واسطے درست ہے کہ وہی جانور قربانی کر دے۔ متوفیٰ رشتہ داروں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے بزرگوں کی طرف سے قربانی کرنا درست ہے۔ البتہ قربانی واجب ہے تو اپنی طرف سے کرنے کے بعد حسب سہولت اور گنجائش ہو تو دوسروں کی طرف سے کرے۔ اگر اپنی خوشی سے کسی مردے کو ثواب پہنچانے کے لئے قربانی کرے تو اس کے گوشت میں سے خود کھانا، کھلانا، بانٹنا سب درست ہے ،اسی طرح اپنی قربانی کا گوشت برادران وطن کو بھی دینا جائز ہے، بشرطیکہ اجرت میں نہ دیا جائے۔ (عالمگیری) قربانی کی کھال کی قیمت کسی کو اجرت میں دینا جائز نہیں اس کا خیرات کرنا ضروری ہے۔ قربانی کے کھال کی قیمت کو مسجد کی مرمت یا کسی اور نیک کام میں لگانا درست نہیں۔ خیرات ہی کرنا چاہئے اگر کھال کو اپنے کام میں استعمال کرے مثلا مشک یا ڈول یا جائے نماز وغیرہ بنوا لیا تو بھی درست ہے ، قصائی کو گوشت چربی مزدوری میں نہ دے بلکہ مزدوری اپنے پاس سے الگ سے دے۔ قربانی کرتے وقت زبان سے نیت پڑھنا اور دعا پڑھنا ضروری نہیں اگر دل میں خیال کر لیا کہ میں قربانی کرتا ہوں اور زبان سے کچھ نہیں کہا صرف باسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر ذبح کر دیا تو بھی قربانی درست ہوگئی۔ اگر یاد ہو تو پڑھ لینا ہی بہتر ہے۔

 

قربانی کا وقت:

 

بقرعید کی دسویں تاریخ سے لے کر بارہویں تاریخ کی شام تک قربانی کرنے کا وقت ہے۔ چاہے جس دن قربانی کرے۔ لیکن قربانی کرنے کا سب سے بہتر دن بقر عید کا دن ہے، پھر گیارہویں تاریخ پھر بارہویں تاریخ۔ بقر عید کی نماز ادا ہونے سے پہلے قربانی درست نہیں۔ جب لوگ نماز پڑھ چکیں تب کرے۔ رات کو قربانی جائز ہے پسندیدہ اور بہتر نہیں۔ قربانی کے جانور کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا افضل ہے، اگر خود ذبح کرنا نہ جانتا ہو تو کسی اور سے ذبح کروالے اور ذبح کے وقت وہاں جانور کے سامنے کھڑا ہو جانا بہتر ہے۔

 

قربانی کا طریقہ :

 

جانور کو قبلہ رُخ لٹا کر پہلے یہ دعا پڑھے: ”انی و جهت وجهي للذي فطر السماوات والارض حنيفا وما انا من المشركين. ان صلاتی و نسکی و محیای و مماتی لله رب العالمين لا شریک له وبذالک امرت وانا اول المسلمين. اللهم منک ولک بسم الله الله اکبر” اب ذبح کیجئے اور ذبح کرنے کے بعد کہے: "اللهم تقبل منی كما تقبلت من حبیبک محمد و خلیلک ابراهيم عليهما الصلواة والسلام“ اگر

 

آپ دوسرے کی طرف سے ذبح کر رہے ہوں تو منی کی بجائے من کہہ کر اس کا نام لیجئے۔

 

قربانی کا گوشت:

 

افضل اور بہتر ہے کہ قربانی کا گوشت ایک تہائی غرباء ومساکین پر صدقہ کرے، ایک تہائی اپنے عزیزوں اور دوستوں کو دے اور ایک تہائی اپنے اہل وعیال کے لیے رکھ لے لیکن اگر کسی شخص کا کنبہ بڑا ہو یا کوئی اور ضرورت ہو تو تمام گوشت خود خرچ کر سکتا ہے، البتہ فروخت کرنا یا قصاب کو مزدوری دینا منع ہے۔ کئی حصہ دار ہوں تو قربانی کا گوشت آپس میں برابر وزن سے تقسیم کیا جائے اندازے سے تقسیم کرنا جائز نہیں۔

 

قربانی کرنے والے کے لئے بال و ناخن تراشنے کا حکم :

 

جو شخص قربانی کرے اس کے لئے مستحب ہے کہ ماہ ذی الحجہ کے آغاز سے جب تک قربانی

ذبح نہ کرے، جسم کے کسی عضو سے بال و ناخن صاف نہ کرے کہ قربانی کرنے والا اپنی جان کے فدیہ میں قربانی کر رہا ہے اور قربانی کے جانور کا ہر جز و قربانی کرنے والے کے جسم کے ہر جزو کا بدلہ ہے ،جسم کا کوئی جزو نزول رحمت کے وقت غائب ہو کر قربانی کی رحمت سے محروم نہ رہے۔ اس لئے آنحضرت نے مذکورہ حکم دیا ہے۔ لیکن چالیس دن سے زائد مدت ہو جاتی ہو تو کراہت سے بچنے کی خاطر بال وغیرہ کی صفائی میں ڈھیل اور سستی نہ کرے۔ (شامی بحوالہ فتاویٰ رحیمیہ ج ۲ ص ۸۸)

 

تکبیر تشریق کی حقیقت واہمیت:

 

تکبیرات تشریق کی ابتدا نویں ذی الحجہ کی فجر سے لے کر تیرہویں ذی الحجہ کی نماز عصر تک ہے۔ ان تکبیرات کا حکم یہ ہے کہ فرض عین نماز جو جماعت مستحب کے ساتھ ادا کی گئی ہو اس کے بعد متصل تکبیرات کا پڑھنا واجب ہے۔ تکبیرات تشریق کے الفاظ یہ ہیں: "اللہ اکبر الله اكبر لا اله الا الله والله اكبر الله اكبر ولله الحمد“.

امام ابوحنیفہ کے نزدیک تکبیرات تشریق عورتوں پر نہیں ہیں، لیکن مفتیٰ بہ قول یہ ہے کہ باجماعت نماز پڑھنے والے اور تنہا نماز پڑھنے والے اس میں برابر ہیں۔ اسی طرح یہ تکبیر مرد، عورت دونوں پر واجب ہے۔ البتہ عورت بآواز بلند تکبیر نہ کہے۔ آہستہ کہے۔ (شامی و فتاوی دار العلوم دیوبند ) تکبیرات تشریق کا متوسط بلند آواز سے کہنا ضروری ہے بہت سے لوگ اس میں غفلت کرتے ہیں یا تو پڑھتے ہی نہیں یا آہستہ پڑھ لیتے ہیں اس کی اصلاح ضروری ہے۔ (جواہر الفقہ : ج اول ص: ۴۴۶) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (جاری)

Comments are closed.