گوشت خوری:ملک اور ہندو مذہب کے پس منظر میں

 

قاضی محمدفیاض عالم قاسمی

ہمارے بہت سے ہندو بھائی سمجھتے ہیں کہ گوشت کھانا صرف مسلمانوں کا خاص عمل ہے اور صرف اسلامی شریعت ہی اس کی اجازت دیتی ہے، جبکہ اگر ہندو مذہبی کتابوں کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان کی مذہبی تعلیمات میں بھی گوشت خوری کی اجازت موجود ہے، اور گوشت کھانے کو معیوب نہیں سمجھا گیا۔

ہندوؤں کی مشہور مذہبی و قانونی کتاب منو اسمرتی (Manu Smriti) کی پانچویں فصل، شلوک 30 میں مذکور ہے:

“جو شخص ان جانوروں کا گوشت کھاتا ہے جو کھانے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، وہ کوئی برائی نہیں کرتا، خواہ وہ روزانہ ہی ایسا کرے، کیونکہ خود خدا نے بعض مخلوقات کو کھائے جانے کے لیے اور بعض کو کھانے والے کے طور پر پیدا کیا ہے۔”

اسی کے بعد منو اسمرتی کے شلوک 31 میں کہا گیا ہے:

“قربانی کے مقصد سے گوشت کھانا درست ہے، اور یہ دیوتاؤں کا مقرر کردہ طریقہ سمجھا جاتا ہے۔”

مزید آگے شلوک 39 اور 40 میں بیان کیا گیا ہے:

“خدا نے خود قربانی کے جانور قربانی ہی کے لیے پیدا کیے ہیں… لہٰذا قربانی میں جانور کو قتل کرنا، قتل شمار نہیں ہوتا۔”

ہندو مذہبی کتابوں میں وید سب سے قدیم اور مقدس سمجھی جاتی ہیں۔ ان میں بھی جانوروں کے گوشت کا ذکر موجود ہے۔ رِگ وید (Rig Veda)، کتاب 10، باب 27، منتر 2 میں مذکور ہے:

“پھر میں، جب اپنے ساتھیوں کو بے دین اور خدا سے منکر لوگوں کے خلاف جنگ کے لیے لے جاؤں گا، تو تیرے لیے گھر میں ایک طاقت ور بیل تیار کروں گا اور تیرے لیے پندرہ گنا قوت بخش مشروب پیش کروں گا۔”

گوشت نہ کھانے کی سزا:

ہندو مذہبی کتابوں میں نہ صرف گوشت کھانے کی اجازت دی گئی ہے بلکہ بعض مقامات پر ہندوؤں کے لیے گوشت کھانا ضروری بھی قرار دیا گیا ہے۔ اگر کوئی شخص اس سے انکار کرے تو اس کے لیے سخت نتائج بیان کیے گئے ہیں۔ وشنو دھرموتر پران، اور منو اسمرتی میں اس کا ذکر ملتا ہے۔

وشنو دھرموتر پران، کتاب 1، باب 140، شلوک 49 اور 50 میں کہا گیا ہے:

“جو لوگ مرنے والے کی رسم میں پیش کیا گیا گوشت نہیں کھاتے، وہ جہنم میں جائیں گے۔”

اسی طرح منو اسمرتی میں اس سے بھی زیادہ سخت سزا بیان کی گئی ہے:

“لیکن جو شخص کسی مذہبی رسم میں باقاعدہ شریک ہونے کے باوجود گوشت نہیں کھاتا، وہ مرنے کے بعد اکیس جنموں تک قربانی کا جانور بنتا رہے گا۔”

اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ گوشت نہیں کھاتے، وہ اگلے اکیس جنموں میں قربانی کے جانور بنیں گے۔ یہاں صرف جانور بننے کی بات نہیں کہی گئی بلکہ “قربانی کا جانور” بننے کا ذکر ہے، یعنی دوسرے لوگ انہیں قربان کریں گے۔

گوشت خوری نہ کرنے کے نقصانات:

اگر کسی ملک میں چوپایوں کے ذبح اور گوشت کے استعمال پر مکمل پابندی لگا دی جائے یا بہت زیادہ کمی آ جائے، تو اس کے کئی معاشی، زرعی اور سماجی نقصانات سامنے آسکتے ہیں:

اترپردیش میں گاؤکشی (Cow Slaughter) پر سخت پابندی اور غیر قانونی ذبیحہ خانوں کے خلاف کارروائی کے بعد بعض نمایاں معاشی، زرعی اور سماجی مسائل سامنے آئے ہیں۔ مختلف رپورٹس اور سرکاری اعداد و شمار کی روشنی میں چند اہم نقصانات یہ ہیں:

١۔ آوارہ مویشیوں میں غیر معمولی اضافہ:

2017 کے بعد کسانوں کی بڑی شکایت یہ رہی کہ غیر دودھ دینے والی گائیں اور بیل پالنا معاشی بوجھ بن گئے، جس کی وجہ سے بہت سے جانور چھوڑ دیے گئے۔ایک رپورٹ کے مطابق 2019 کی مویشی مردم شماری میں اترپردیش میں تقریباً 11.84 لاکھ آوارہ مویشی درج کیے گئے۔ 2024ء تک مختلف سرکاری مہمات کے باوجود تقریباً 14 لاکھ سے زائد مویشی پناہ گاہوں میں منتقل کیے جاچکے تھے، پھر بھی ہزاروں جانور سڑکوں اور کھیتوں میں موجود رہے۔

٢۔ کسانوں کی فصلوں کو بھاری نقصان:

دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق 2017ء میں غیر قانونی سلاٹر ہاؤسز کے خلاف کارروائی کے بعد آوارہ مویشیوں کا بحران بڑھا۔ کسانوں نے بتایا کہ گائیں اور بیل فصلیں تباہ کررہے ہیں۔ کئی علاقوں میں لوگ رات رات بھر کھیتوں کی رکھوالی کرتے ہیں۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق کسانوں نے سبزیوں اور دوسری نقد فصلوں کی کاشت کم کردی اور نسبتاً محفوظ فصلوں جیسے گنا اور گیہوں کی طرف رجوع کیا۔

٣۔ سرکاری خرچ میں بڑا اضافہ:

آوارہ مویشیوں کے لیے حکومت کو ہزاروں گاؤ شالائیں قائم کرنی پڑیں۔2024ء کی سرکاری مہم کے مطابق اترپردیش میں6,168 عارضی گاؤ شالائیں، 298 بڑی پناہ گاہیں، 253 کنہا گاؤ شالائیں قائم کی گئیں۔ حکومت نے تقریباً 14,02,491 مویشیوں کو ان مراکز میں رکھنے کا دعویٰ کیا۔اس پورے نظام پر حکومت کو چارہ، پانی، علاج اور نگرانی کے لیے بھاری اخراجات برداشت کرنے پڑے۔(Daijiworld)

ان کے علاوہ سڑک حادثات اور عوامی پریشانی،آوارہ مویشیوں کی وجہ سے ٹریفک جام، رات کے حادثات، انسانی جانوں کا نقصان،جیسے مسائل بڑھے۔ مقامی رپورٹس اور عوامی شکایات میں یہ مسئلہ بار بار سامنے آیا کہ سڑکوں پر گھومتے بیل اور گائیں حادثات کا سبب بن رہے ہیں۔

آوارہ جانوروں خصوصاً گائے اور بیلوں کی وجہ سے سڑک حادثات کا مسئلہ ہندوستان میں ایک سنگین عوامی مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ مختلف تحقیقی رپورٹس، عدالتی دستاویزات اور سرکاری اعداد و شمار میں اس کے نقصانات درج کیے گئے ہیں۔

دی نیو انڈین ایکسپریس کے مطابق مدھیہ پردیش میں دو سال میں 237 حادثات، 94 اموات ہوئےاور133 افراد زخمی ہوئے۔ریاستی اسمبلی میں پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً ہر تیسرے دن ایک شخص آوارہ مویشیوں سے متعلق حادثے میں یا تو جان گنواتا ہے یا شدید زخمی ہوتا ہے۔

چھتیس گڑھ میں پانچ سال میں 404 اموات،اور129 شدید زخمی ہوئے، جب گاڑیاں سڑکوں پر موجود آوارہ جانوروں سے ٹکرائیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ حکومت نے ایک سال کے اندر 26,713 آوارہ مویشی سڑکوں سے ہٹائے۔

٤۔ گوشت اور لیدرکی صنعت پر اثر:

غیر قانونی ذبیحہ خانوں کی بندش کے بعد گوشت سے وابستہ مزدور، ٹرانسپورٹ، چمڑا صنعت، چھوٹے تاجر،متاثر ہوئے۔ اترپردیش پہلے گوشت اور لیدر انڈسٹری کا ایک بڑا مرکز سمجھا جاتا تھا۔لیکن پابندی کی وجہ سے متوسط کمزور طبقہ بھاری نقصان اٹھاناپڑا۔ ان وجوہات کی بناء پر عافیت اسی میں سمجھ میں آرہی ہے کہ ملک کے کسی بھی حصہ میں گوشت خوری پر پابندی نہیں ہونی چاہئے۔

Comments are closed.