امن، دور جدید کے تناظر میں
تحریر :محمد عارف (ایسوڑی پایان، اکوڑہ خٹک، نوشہرہ) maarif443@yahoo.com
امن جدید دور کی وہ اصطلاح ہے جو صرف کتابوں اور ڈکشنریوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ عملی طور پر تلاش اور تحقیق کرنے سے دکھائی نہیں دے گی۔ لفظِ سکون کو نظرِ بد کا مسئلہ پیش آیا ہے یا یہ گوہرِ نایاب کی طرح آنکھوں سے اوجھل رہتا ہے۔ گھر کی دہلیز سے لیکر قبر بلکہ قبر میں رکھنے کے باوجود انسانی بدن کو راحت و سکون کا نصیب ہونا بہت دشوار نظر آ رہا ہے۔ اس کے مقابلے میں فساد ، بغاوت، آبرو ریزی اور ظلم و ستم کی روزانہ اخبارات اور تبصروں میں فراوانی کے ساتھ ساتھ عملی صورت میں ہر جگہ دکھائی دینا اس کی ارزانی اور شہرت کی بڑی نشانی ہے۔خون، عزت، آبروریزی، اور فساد و دہشت گردی جو ارزاں اور سستی ہوئی ہے تبھی تو ہر جگہ دستیاب ہے۔
امن کا معنیٰ نفس کے مطمئن ہونے کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اس کے مترادف اطمینان، آرام، چین، سکون، آسودگی، صلح و آشتی کے الفاظ آتے ہیں۔ انگریزی زبان میں اس کے لیے
Security, Safety, tranquility اور Peace
کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں لیکن بطورِ اصطلاح امن اور جنگ کی ضد کے طور پر
Peace
کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور یہی مشہور و معروف ہے۔ امام راغب اصفھانی کے مطابق امن عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی نفس کے مطمئن ہونے کے ہیں۔امن، امان اور امانت تینوں کبھی حالتِ امن اور کبھی بطورِ امانت محفوظ کی ہوئی چیز کے لیے استعمال ہوتےہیں، جبکہ بعض محققین کے مطابق امن عدل و انصاف کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ مولانا وحیدالزماں قاسمی نے امن، امان، اور امانت کو بے خوف، محفوظ اور مطمئن ہونے کے معنوں میں بیان کیا ہے۔ اصطلاح میں لفظِ امن کسی فردِ خاص اور انفرادی حیثیت تک محدود نہیں بلکہ علاقائی، بین الاقوامی اور معاشرتی امن کے طور پر اس کا استعمال ہوتا ہے۔ معاشرے میں جھگڑے، فساد اور اختلافات سے ہٹ کر رہنا امن کہلاتا ہے۔
جس طرح اوپر ذکر ہوا کہ دورِ جدید میں امن کے اصطلاحات کتابوں اور ڈکشنریوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں ،عملی طور پر محسوس کی جا سکتی ہے اور نہ نظروں سے دکھائی دیتی ہے۔ چہار سو پریشانی اور غم و درد کے روداد دیکھنے کو ملتے ہیں، ہرشخص دوسرے سے مشت و گریباں دکھائی دیتا ہے، مال و دولت، جائداد، وراثت و ترکہ اور رشتوں کے تنازعوں نے معاشرے کا امن ، سکون اور چین برباد کر رکھا ہے جس سے زر ، زن، زمین پر لڑائی کی کہاوت کے الفاظ صادق آتے ہیں اور یوں معاشرہ ہر طرف بدامنی کا منظر پیش کر رہی ہے۔بھائی بہن ایک دوسرے سے ناراض تو والدین دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور، اولاد نافرمان تو بیوی اور شوہر کے جھگڑے زبان زدِ عام ہیں یو ں نفسا نفسی کا سماں ہے اوربے چینی کا عالم ہے۔
اس میں شک و شبہ نہیں کہ بدامنی اور دہشت گردی کا تعلق کسی مذہب، ثقافت، اور قوم سے نہیں ہوتا لیکن موجودہ دور میں خاص اقوام اور ممالک نے دنیا پر اپنی گرفت مضبوط کرنے، اجارہ داری قائم کرنے اور دنیا کی معیشت، تجارت اور مال و دولت پر قبضہ جمانے کے لیے ہر ملک کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے، اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب دنیا پر قابض اور حکومت قائم کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں جس کے لیے وہ کسی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرتے۔ مسلمانوں کے مقابلے میں کچھ خاص طبقوں نے اپنی مفادات کی خاطر سرد جنگ کا آغاز کیا ہوا ہے جبکہ ان میں سے ایک خاص مگر محدود گروہ نے پرامن لوگوں کی سرزمین اور قبلہ اول پر غاصبانہ قبضہ جما رکھا ہے، پڑوس میں ایک خاص جماعت جو عدم تشدد سے مشہور ہے نے مسلمانوں کا قتلِ عام جاری کیا ہوا ہے تو دوسری جانب جنت نظیر وادی اور اس کے باشندوں کو محصور کرکے ان پر ظلم و ستم کے وہ پہاڑ گرائے جا رہے ہیں جو انسانی تصور سے باہر ہیں ، اس ایک خاص مذہب کے ماننے والے (مسلمانوں)کو ہر جگہ ٹارگٹ کیا گیا ، اس ظلم و ستم کے مقابلے میں مسلمان صرف دفاع کی حد تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ ان تمام ظلم و ستم کے اوپر بڑا ظلم یہ کہ بدامنی اور ظلم و بربریت اور دہشت گردی کو مسلمانوں سے جوڑ رہے ہیں جو کہ بہت ہی نقصان کی بات ہے۔
زمین کی سطح پر اسلام ہی وہ واحد مذہب اور دین ہے جو ہر قسم کی ظلم و بربریت کی بیخ کنی کرتا ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ بعض مسلمان غیروں کی چال میں پھنس کر خود اپنی بلکہ بین الاقوامی سطح پر مسلمانوں کے لیے بدنامی اور ذلت کا سبب بن رہے ہیں لیکن ان کا تعلق مذہب سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ ہر مذہب امن کا درس دیتا ہے ، پر سکون معاشرے کے قیام کی ضرورت پر زور دیتا ہے ۔ اس میں آخری کتاب اور آخری مذہب تمام اممِ سابقہ کا خلاصہ لیے ہوئے ہر دور اور ہر مکتبِ فکر کے اقوام کو امن و سکون سے مل کر رہنے کا درس دیتا ہے۔ اسلام ہی وہ واحد مذہب کے طور پر ابھرا ہے جس میں انسان کی تکلیف کو اللہ کی تکلیف قرار دیا گیا ہے، ضرر اور ضرار کو اسلام میں حرام قرار دیا گیا ہے ، ایک فرد کی قتل کو انسانیت کی قتل قرار دی گئی ہے جبکہ اس ایک شخص کی حیات کو انسانیت کی حیات قرار دی گئی ہے۔ اسلام اور مسلمان ہی وہ مذہب و قوم ہے جن کی ملاقات بھی کلامِ امن سے ہوتا ہے اور اختتامِ ملاقات بھی کلامِ امن سے ہوتا ہے۔ انسان خواہ جس مذہب سے ہو کو عزت دیتا ہے اور اس کی عزت و ناموس کو تحفظ دیتا ہے۔
علاقائی چین و سکون اور بین الاقوامی امن کے لیے چند عوامل ایسے ہیں جن پر عمل، پیرا ہو کر ظلم و بربریت اور فساد و بغاوت کی لعنت اور غلاظت سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔ ذیل میں چند ایسے تجاویز کا نکات کی شکل میں ذکر کیا جاتا ہے جو امن کی راہ ہموار کرنے میں ممد و معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔
1: معاہدات
شہریوں کی پر سکون زندگی کے لیے مخالف ملک سے کچھ لو اور کچھ دو کے اصولوں پر معاہدہ کیا جائے تاکہ مالی نقصان ہونے کے بعد جانی نقصان سے محفوظ رہا جا سکے اور ملک کے شہری اس مالی نقصان کو ترقی میں بدل سکیں۔
2: بھائی چارے کو فروغ
قریبی ملک یا علاقے سے دوستانہ تعلقات اور حسنِ سلوک سے امن کی تشکیل کا آغاز ہوتا ہے ، جو نہ صرف ان کے مابین اصلاح کا سبب بنتا ہے بلکہ امن و امان کو قائم رکھتا ہے۔ جس سے دونوں جانب خونریزی اور فساد ات سے بچا جا سکتا ہے۔
3: نظریاتی جنگ سے پرہیز
دورِ جدید میں نظریاتی لحاظ سے اقوام کا جنگ جاری رہتا ہےجو ہر قوم و نسل دوسرے کو برا بھلا کہتے ہوئے جنگ و جدال پر آمادہ کرتا ہے ، ان نظریاتی اختلافات کو کسی پر مسلط کرنے سے پرہیز کریں، ان کو پسِ پشت ڈال کر امن کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
4: اسلحے کی مشروط اجازت پر استعمال اور فروخت
امن کے لیے ہزاروں اور لاکھوں قربانیاں دینے کے باوجود شر و فساد کا ماحول ضرور پیدا ہوسکتا ہے۔ ایسے میں اسلحے کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اسی بناء پر کسی دوسرے کو اسلحہ فروخت کرنے سے پہلے امن کے اصولوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے قوانین اور شرائط پر اسلحے کی فروخت کی اجازت ہو۔
5: علاقائی سطح پر صلح
امن کی تشکیل کے لیے منصفین (انصاف کرنے والے) اور مصلحین (صلح کرنے والے) سے کردار ادا کرنا ایک پرسکون معاشرے کو جنم دے سکتا ہے جو کہ فتنہ و فساد اور جنگ و جدال کی صورتِ حال سے بچانے کا ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتاہے۔
دنیا ایک چھوٹے گاؤں کی شکل اختیار کرکے ایک مٹھی میں بند ہوکر سکڑ گئی ہے۔ جدید ایجادات نے دور اور قریب کا تصور مٹا دیا ہے، کوئی بھی اور کسی بھی جگہ آسانی سے نشانے پہ لایا جا سکتا ہے اور انسان کیابلکہ انسانیت کو بہت محدود وقت میں صفحۂ ہستی سے مٹایا جا سکتا ہے۔ اختلافات شدت اختیار کرکے نہ صرف علاقائی امن بلکہ بین الاقوامی امن کو داؤ پر لگا دیتا ہے۔ ایسے میں ہر علاقے اور ملک کے اقوام کو، عقلاء اور ماہرین کو دانش مندی سے سوچنے کی ضرورت ہے کہ ظلم و ستم ، فساد و غارت گری کو کس طرح امن میں بدلنا ہے۔ فساد کا خاتمہ کرکے امن کے لیے کس طرح کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خود بھی امن و سکون سے رہیں اور آنے والی نسل کو بھی ایک پرسکون اور پرامن معاشرہ دے سکیں۔ اپنے بچوں کی آسانی اور پرسکون ماحول کے ساتھ ساتھ ان کی سہولت کے لیے کردار ادا کریں تاکہ وہ امن و سکون اور صلح و بھائی چارے اور پیار و محبت کی زندگی گزاریں جس کے لیے وہ کتابیں اور ڈکشنریاں تلاش کرنے میں اپنی اوقات اور توانائی ضائع نہ کریں۔
Comments are closed.