کامیابی اور وقت
تحریر:
محمد حذیفہ معاویہ تونسوی
03485814615
کسی شخص نے” امام اعظم ابو حنیفہ رح” کے عظیم اور خاص شاگرد "امام محمد رح” سے سوال کیا کہ حضرت آپ رات کو آرام کیوں نہیں فرتے؟؟ کیوں علم حدیث، قرآن اور فقہ کے مسائل میں اس قدر مستغرق رہتے ہیں کہ ساری ساری رات آپ کو بستر پر لیٹنے کی فرصت بھی حاصل نہیں ہوتی۔
کس چیز نے آپ کے پہلو کو نرم اور ملائم بستر سے جدا کر کے آپ کو علم الہی میں مشغول کر دیا ہے؟؟
جواب میں امام محمد رح نے ایک خوبصورت جواب دیا، جو "آب زر”سے لکھنے کے قابل ہے۔
فرمایا:
” پوری دنیا سوتی ہے کہ جب بھی کوئی مسئلہ درپیش ہو گا، کسی مسئلے میں اختلاف رائے پیدا ہو گا گا، یا پھر کسی تحقیق کی ضرورت اور حاجت ہوگی۔ ہم "امام محمد”کے پاس چلے جائیں گے ہمارامسئلہ حل ہو جائے گا۔ اگر میں بھی سو گیا تو اس امت کا کیا بنے گا؟؟ ”
اس لیے کسی دانشور نے کیا ہی خوبصورت بات فرمائی ہے کہ خواب وہ نہیں ہوتے جو سوتے ہوئے دیکھے جاتے ہیں،بلکہ خواب تو وہ ہوتے ہیں جو انسان کو سونے نہیں دیتے۔
وقت ہر دن میں ہر شخص کو ایک جیسا ہی ملتا ہے۔کچھ لوگ اسی وقت کو قیمتی بنا کر، اپنی جان کھپا کر، خواہشات اور لذات دنیا کو ترک کرکے اس وقت کو بروئے کار
لاتے ہوئے امام غزالی، جنید بغدادی، عالم، فقیہ، اور دنیا کے کامیاب ترین لوگ بن جاتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ آخری عمر تک وقت نہ ملنے یا وقت کی کمی اور اپنی سسستی و کاہلی کا رونا روتے رہتے ہیں۔
یاد رکھیں سورج کی دھوپ تو سب کو یکسا میسر ہوتا ہے۔ لیکن دھوپ میں کھڑے ہونے یا چھاءوں میں رہنے کا فیصلہ ہر کسی کا اپنا ہوتا ہے۔ پتھر تو ہر کسی کے راستے میں ہوتے ہیں لیکن کچھ لوگ ان کے ہٹ جانے کے انتظار میں منزل سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور اسی انتظار میں اپنی زندگی کی حسین ساعتیں گنوا بیٹھتے ہیں۔جب کہ کچھ لوگ انہیں پتھروں سے رستے بنا کر منزل مقصود حاصل کر لیتے ہیں۔
تھک جاتے ہیں بے راہ منزل کے مسافر۔
منزل پانے والے تو رستوں کو تھکا دیتے ہیں۔
مشہور سپیکر قاسم علی شاہ سے کسی نے سوال پوچھا کہ ہم قاسم علی شاہ جیسا اعتماد کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟؟
انہوں نے جواب دیا اس کا مفہوم یہ ہے کہ:
” دیکھواگر قاسم علی شاہ آج اس مقام پر کھڑا ہے تو اس کے پیچھے ایک محنت،جستجو ، مستقل مزاجی اور پر مشقت،کٹھن سفر ہے۔
اگر میں آج لکھ رہا ہے تو میں نے بیس سال تک لکھا ہے۔ اگر آج اچھا بول رہا ہوں تو میں نے بیس سال تک اس کی پریکٹس کی ہے۔ دن رات ایک کیا ہے۔ خواہشات کو فضولیات سے روکا ہے۔ تب جا کر اس مقام تک پہنچا ہوں ۔ اگر تم بھی اس مقام تک پہنچنے کی خواہش مند ہو تو وہ کرنا شروع کر دو جو میں کرتا ہوں ۔ اور اسی پر جم جاءو۔ ایک نہ ایک دن تم بھی میری طرح پر اعتماد بن جاءو گے۔
آج ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم امام غزالی بننے کی خواہش تو رکھتے ہیں،لیکن اس جیسی محنت نہیں کرنا چاہتے۔ ہماری دل اس بات کو تو چاہتا کہ میں ان لوگوں میں شامل ہو جاءوں جن کو دنیامانتی ہے۔ لوگ ان کو عزت احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان کی کتابیں پڑھنا ہر شخص اپنی سعادت سمجھتا ہے۔ لوگان کے پیچھے چلتے ہے۔ کامیابی کامرانی ہر مقام پر ان کا مقدر بنتی ہے۔ لیکن ان جیسی محنت، مشقت اور دل جمی سے کام کرنا ہمارے کسی ارادے میں بھی شامل نہیں ہوتا۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص کی کامیابی کے پیچھے ایک محنت ہوتی ہے۔ایک کٹھن اور مشکل سفر ہوتا ہے۔ جس کو طے کر کے وہ بلندی کے اس مقام تک پہنچا ہوتا ہے۔ قائد کے
” کام ،کام،کام اور بس کام” کے سنہرے قول کو نظر انداز کر تے ہوئئ بغیر جستجو اور مستقل مزاجی کے کوئی شخص بھی دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔
بقول شاعر کامیابی ایک نوجوان سے یوں مخاطب ہوتی ہے :
ان پتھروں پہ چل کے آ سکو تو آءو۔
میرے گھر کے راستے کوئی کہکشاں نہیں ہے۔
Comments are closed.