تربیت

 

ازقلم ماٸرا عظمت

 

تربیت ایک ایسا ضروری عمل ہے جس کے مرکزی کرداروں میں ماں باپ اور بچے شامل ہوتے ہیں اور جس میں زرا سے بھی کمی رہ جاۓ توگھر بار بربادی کے دہانے پر آ کھڑے ہوتے ہیں..ہمیں اپنے بچوں کی تربیت اول روز سے ہی بہترین کرنی چاہیے اور اُس میں کوٸی بھی کمی نہیں چھوڑنی چاہیے دین دنیا کے بارے میں بچے اپنے بڑوں سے جتنا سیکھتے ہیں اور کہیں سے نہیں سیکھتے اور اس تربیت کے کرداروں میں ماں کا کردار سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے کیوں کے ماں کی گود بچوں کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے…دراصل اس تربیت کا ذکر یہاں شروع میں ہی اس لیے کیا گیا ہے کیوں کے میری اگلی بات کا سارا دارومدار تربیت کے زیرِ سایہ ہے..

ہمارے معاشرہ کا ہمیشہ سے یہ المیہ رہا ہے کے ماں باپ اپنی اولادوں کی تربیت میں کمیاں چھوڑ دیتے ہیں اور صرف ماں باپ کو ہی اس بات میں قصور وار نہیں ٹھرا سکتےگھر کے دیگر افراد بھی اس میں شامل ہوتے ہیں مگر بات کو آگے بڑھاتے ہیں کے بچے بگڑ جاتے ہیں خواہ وہ بیٹیاں ہوں یا بیٹے پھر آ جاتی ہے ان کی شادیوں کی باری تو پہلے آ جاتے ہیں لڑکیوں کی جانب کے ہم اپنی بیٹیوں کو بگاڑ کر خود کو اور لڑکیوں کو بھی یہی تسلی دیتے ہیں کے سسرال کی ذمہ داریاں سر پر پڑیں گی تو خود ہی سدھر جاٸیں گی مگر ایسا بہت کم دیکھنے میں آتا ہے لڑکیاں خود کو سدھارنے کے بجائے  کوشش کرتی ہیں کے وہاں کا نظام بدل دیا جاۓ اور اسی سلسلے میں لڑاٸی جھگڑے رونما ہوتے ہیں اور ازدواجی زندگی میں شدید دشواریاں پیدا ہوتی ہیں…اور پھر آ جاتے ہیں لڑکوں کی طرف لڑکیوں کی طرح لڑکے بھی سرکشی میں اپنے آپ کو بہت آگے لے جاتے ہیں اور پھر ماں باپ یہ خیال کرتے ہیں کے آنی والی خود ہی سُدھار لے گی کیا یہ ستم نہیں کے ہم کیوں یہ خیال کرتے ہیں کے آنے والی کو ہم اس لیے لے کر آ رہے ہیں کے وہ ساری زندگی ایک بگڑے ہوۓ شخص کو سدھارنے میں ہی گزار دے ہم کیوں اپنے بیٹوں کو شادی سے پہلے تک کی تربیت میں سدھار نہیں پاتے اور پھر آنے والی اگر تو بیٹوں کو سدھار لے تو پھر الزام آتے ہیں کے ہمارا بیٹا ہم سے دور کر دیا…!

بھٸی آپ نے خود ہی تو اپنا بیٹا اس کے حوالے کیا تھا ..

یا پھر لڑکی کی ساری زندگی اسی عتاب کو جھیلنے میں ہی گزر جاتی ہے

 

تو اس سارے حقائق کا مقصد یہ ہے کے ہم آنے والیوں یا جانے والیوں کے اوپر سب نہ چھوڑ دیں بلکہ خود اپنے بچوں کی بہترین تربیت کریں کے کسی اور کو یہ ذمہ داری نہ اٹھانی پڑے اور بچوں کی ازدواجی زندگی بہترین بن سکے..

Comments are closed.