کمال مولا مسجد اور بھوج شالا تنازعہ کا تنقیدی جائزہ

 

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

مدھیہ پردیش کے شہر دھار میں واقع کمال مولا مسجد اور بھوج شالا کا تنازعہ صرف ایک عمارت یا عبادت گاہ کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ہندوستان میں تاریخ، مذہب، سیاست، عدالت اور اکثریتی قوم پرستی کے باہمی تعلق کی ایک اہم مثال بن چکا ہے۔ حالیہ دنوں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے  اس متنازعہ مقام کو ہندو عبادت گاہ قرار دے دیا  اور وہاں پوجا شروع ہو گئی ہے ۔  اس  فیصلے نے نہ صرف مسلمانوں میں تشویش پیدا کی بلکہ ہندوستان کے آئینی اور قانونی ڈھانچے سے متعلق کئی بنیادی سوالات کو بھی دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔یہ تنازعہ اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ اس میں صرف مذہبی عقیدہ یا جذبات شامل نہیں، بلکہ تاریخ نویسی، آثارِ قدیمہ، قانونِ حد (Law of Limitation)، مذہبی مقامات ایکٹ 1991، اور عدلیہ کی غیر جانب داری جیسے معاملات بھی براہِ راست زیر بحث آ گئے ہیں۔

تاریخی ریکارڈ کے مطابق دھار میں واقع یہ مقام صدیوں تک ’’کمال مولا مسجد‘‘ کے نام سے جانا جاتا رہا۔ یہ مسجد صوفی بزرگ حضرت کمال الدین مالویؒ سے منسوب تھی، جو حضرت نظام الدین اولیاءؒ کے سلسلۂ چشتیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ مختلف فارسی کتبوں، برطانوی دور کے سرویز اور آثارِ قدیمہ کی رپورٹس میں اس مقام کو ایک مسجد اور مقبرے کے احاطے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔مؤرخ ڈاکٹر روچیکا شرما نے  یوٹیوب پر اپنی تحقیقی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ انیسویں صدی کے ابتدائی برطانوی سرویز میں اس مقام کا ذکر ’’بھوج شالا‘‘ کے طور پر موجود نہیں تھا۔ 1822ء میں برطانوی افسر جان میلکم نے دھار کا تفصیلی سروے کیا، جس میں اس عمارت کو ایک “خستہ حال مسجد” قرار دیا گیا۔ اس  کے  بعد برطانوی افسر ولیم کنکیڈ اور دیگر محققین نے بھی اسے مسجد اور صوفی مقبرے کا حصہ قرار دیا۔

فارسی کتبوں میں اس مقام کو ’’روضہ قطبِ کمال‘‘ کہا گیا ہے، جبکہ ایک کتبے میں یہ بھی درج ہے کہ سلطان دلاور خان غوری نے 1392ء میں اس مسجد کی مرمت کروائی تھی۔ یہ تمام شواہد اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ مقام تاریخی طور پر اسلامی عبادت گاہ اور صوفی مرکز کے طور پر موجود رہا۔ ڈاکٹر روچیکا شرما کے مطابق ’’بھوج شالا‘‘ نام کا پہلا باقاعدہ استعمال 1903 میں کیا گیا۔ نوآبادیاتی دور میں بعض ماہرین آثارِ قدیمہ نے یہ قیاس پیش کیا کہ مسجد میں موجود بعض سنسکرت کتبے کسی قدیم علمی مرکز سے تعلق رکھتے تھے، اور بعد میں یہی مفروضہ ’’راجہ بھوج کے قائم کردہ سنسکرت مدرسہ‘‘ کے نظریے میں تبدیل ہو گیا۔

اس کے بعد ہندو قوم پرست تنظیموں نے اس مقام کو ’’سرسوتی مندر‘‘ قرار دینا شروع کیا۔ حالانکہ اس دعوے کے حق میں کوئی قطعی تاریخی ثبوت موجود نہیں۔ مسجد میں استعمال ہونے والے ستونوں یا قدیم پتھروں کو بنیاد بنا کر یہ دعویٰ کیا گیا کہ مسجد کسی مندر کو گرا کر تعمیر کی گئی تھی، جبکہ مؤرخین کے مطابق قرونِ وسطیٰ میں پرانی عمارتوں کے تعمیراتی مواد کو دوبارہ استعمال کرنا ایک عام روایت تھی۔اسی طرح جس مجسمے کو بعد میں ’’بھوج کی سرسوتی‘‘ کہا گیا، اس کے متعلق بھی مؤرخین کا کہنا ہے کہ اس کے کتبے اسے جین مذہب کی دیوی ’’امبیکا‘‘ قرار دیتے ہیں۔ اس مجسمے کو مسجد کے احاطے سے جوڑنے کا بھی کوئی مضبوط تاریخی ثبوت موجود نہیں۔ جبکہ کمال مولا مسجد  میں 2000 ء کے اوائل تک باقاعدہ نماز ادا کی جاتی تھی ۔ اس مقام پر ہندو گروہوں کی شدت کے بعد ، حکام نے عبادت کا ایک مشترکہ انتظام متعارف کرایا  جس کے تحت مسلمانوں کو جمعہ کی نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی اور ہندوؤں کو منگل کے روز پوجا کی اجازت ملی ۔

ملک میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد 1991ء میں ’’مذہبی مقامات ایکٹ‘‘ منظور کیا گیا تھا۔ اس قانون کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ 15 اگست 1947ء کو جس عبادت گاہ کی جو حیثیت تھی، وہی برقرار رکھی جائے۔ اس قانون کا مقصد مذہبی تنازعات کو روکنا اور ملک کو مسلسل تاریخی جھگڑوں سے بچانا تھا۔اس قانون کے تحت بابری مسجد کے علاوہ دیگر مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس قانون کو انڈیا کے سیکولر آئینی ڈھانچے کا ایک اہم ستون سمجھا جاتا تھا۔لیکن کمال مولا مسجد اور بھوج شالا کے حالیہ فیصلے نے اس تصور کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ اگر عدالتیں صدیوں پرانے تاریخی یا مذہبی دعووں کو بنیاد بنا کر موجودہ حیثیت تبدیل کرنے لگیں، تو پھر ملک میں ہزاروں مذہبی مقامات مستقل تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔وشو ہندو پریشد اور دیگر ہندو قوم پرست تنظیمیں پہلے ہی یہ دعویٰ کر چکی ہیں کہ انڈیا میں پچاس ہزار مساجد، مزارات اور وقف املاک  قدیم مندروں کی جگہ تعمیر کی گئی تھیں۔ حالانکہ آر ایس ایس صدر موہن بھاگوت  ہندو تنظیموں سے کہہ چکے ہیں کہ  ہر مسجد کے نیچے مندر تلاش کرنا بند کرنا چاہئے ، اس کے باوجود بھی   اگر یہ راستہ کھلتا ہے تو ملک مسلسل فرقہ وارانہ  کشیدگی  کا شکار ہو سکتا ہے ۔

بظاہر عدالت نے آثارِ قدیمہ اور ہندو عقیدے کی بنیاد پر فیصلہ سنایا، مگر اس فیصلے کے سیاسی پس منظر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ گزشتہ چند برسوں میں ہندوستان میں ہندوتوا سیاست کے عروج نے مذہبی تنازعات  میں  شدت  پیدا کی  ہے۔بابری مسجد کے بعد گیان واپی مسجد، متھرا عیدگاہ ، جونپور کی اٹالا مسجد ،بدایوں کی شمسی جامعہ مسجد ، سنبھل کی جامعہ مسجد اور اب بھوج شالا-کمال مولا مسجد جیسے معاملات مسلسل عدالتوں میں لائے جا رہے ہیں۔ اس سے یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ مذہبی مقامات کے تنازعات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔مسلمان حلقوں میں یہ احساس بھی بڑھا ہے کہ موجودہ ماحول میں عدلیہ حکومت اور اکثریتی دباؤ سے مکمل طور پر آزاد نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ اس فیصلے کو صرف قانونی یا تاریخی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک سیاسی عمل کا حصہ سمجھتے ہیں۔

اگرچہ عدلیہ کا احترام ہر جمہوری معاشرے کے لیے ضروری ہے، لیکن یہ سوال بہرحال اہم ہے کہ کیا عدالتیں عقیدے کو تاریخ اور قانون پر فوقیت دے سکتی ہیں؟ اگر مذہبی احساسات کو فیصلہ کی بنیاد بنایا جاتا ہے ، تو پھر مستقبل میں ہر تاریخی مقام تنازعے کا شکار ہو سکتا ہے۔ لاہور کی تاریخی شہید گنج مسجد کے مقدمہ  سے اس تنازعے کو سمجھا  جا سکتا ہے۔  لاہور پر سکھ وں کے قبضہ کے بعد مسجد شہید گنج کو گوردوارے میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ بعد میں مسلمانوں نے عدالت سے اس کی واپسی کا مطالبہ کیا، مگر برطانوی عدالتوں نے “لاء آف لیمیٹیشن” یعنی قانونِ حد کی بنیاد پر فیصلہ سکھوں کے حق میں دیا۔عدالتوں نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ طویل عرصے سے اس عمارت کا استعمال تبدیل ہو چکا ہے، اس لیے صدیوں پرانا دعویٰ قابلِ سماعت نہیں۔ یہاں تک کہ  شدید احتجاج اور جذباتی ماحول کے باوجود پاکستان کی   محمد علی جناح  کی حکومت نے بھی اس معاملے میں قانونی عملداری کو ترجیح دی اور عوامی جذبات کو قانون پر غالب نہیں آنے دیا۔ اس کے برعکس بھارت میں بعض حلقے صدیوں پرانے تاریخی دعووں کو دوبارہ زندہ کر کے مذہبی تنازعات کو بڑھا رہے ہیں، جو مستقبل کے لیے نہایت خطرناک رجحان ہے۔

یہ سوال بھی اہم ہے کہ یہ مسئلہ اسی وقت کیوں شدت اختیار کر رہا ہے؟ اس کا تعلق موجودہ سیاسی ماحول سے جوڑا جا رہا ہے۔ بھارت میں ہندو قوم پرست سیاست اپنی عوامی حمایت کو برقرار رکھنے کے لیے مذہبی جذبات کو مسلسل متحرک رکھنا چاہتی ہے۔معاشی مسائل، بے روزگاری، مہنگائی اور سماجی بحرانوں کے ماحول  سے عوامی توجہ دوسری طرف منتقل کرنے میں  مذہبی تنازعات مؤثر ذریعہ بن جاتے ہیں۔ اسی لیے بابری مسجد کے بعد مختلف تاریخی مساجد کو مسلسل تنازعے میں لایا جا رہا ہے۔بعض مبصرین   بھوج شالا کے فیصلہ کو اڈانی پر امریکہ میں چل رہے مقدمہ سے جوڑ کر بھی دیکھ رہے ہیں ۔ اڈانی کو امریکہ میں دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے عوض مقدمہ سے نجات ملی ہے ۔ یہ رجحان  کسی ایک طبقہ  کے لیے بلکہ ملک  کے سیکولر اور جمہوری ڈھانچے کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔

قانون کی بالادستی، تاریخی دیانت داری اور آئینی اصول ہی وہ بنیادیں ہیں جو کسی بھی متنوع معاشرے کو انتشار سے بچا سکتی ہیں۔ اسی کے ساتھ مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ وقتی ردِ عمل ،احتجاج یا مظلومیت کا اظہار کرنے  کے بجائے طویل مدتی تعمیری حکمتِ عملی اختیار کریں۔ تعلیم، معیشت، سماجی اداروں، میڈیا، قانونی مہارت اور سیاسی شرکت کے میدان میں اپنی موجودگی مضبوط بنائیں ، اس کے لئے اجتماعی تنظیم ضروری ہے ۔  عدالتوں میں قانونی جدوجہد  بھی جاری رکھی جائے ، کیونکہ یہ حق و انصاف کی تاریخی گواہی ہوتی ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ اجتماعی قوت پیدا کرنا بھی ناگزیر ہے۔ علمی، اخلاقی، معاشی اور سیاسی طور پر مضبوط قوم نہ صرف اپنے حقوق کا تحفظ کر سکتی ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی انصاف کی آواز بن سکتی ہے۔

Comments are closed.