صبر آزمائش یا عذاب؟
از قلم: میمونہ لیاقت
لفظ ”صبر “ سنتے ہی ذہن میں رب تعالیٰ کا فرمان آجاتا ہے کہ
میں صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوں۔سبحان الله صبر کرنا بہت مشکل ہے ،لیکن اس کا اجر بہت بڑا ہے ۔اور آزمائش مشکل ہوتی ہے لیکن اس کی جزا بہت بڑی ہوتی ہے۔اور کوٸی بھی آزمائش مستقل نہیں رہتی۔کیونکہ یہ بھی اللّٰہ کا فرمان ہے۔ کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے۔بشرط یہ کہ اس مشکل پہ صبر کیا جاۓ۔ کیونکہ غم ایک آزمائش ہوتی ہے اور غم ہمیں اللّٰہ کے قریب کے کرتے ہیں۔حضرت عثمان غنیؒ نے فرمایا :جس انسان کو سال بھر میں کوٸی تکليف، کوٸی رنج نہ پہنچے، تو وہ جان لے کہ مجھ سے میرا رب ناراض ہوگیا ہے۔ اس بات سےبخوبی اندازہ ہو رہا ہے کہ صبر ایک آزمائش ہے عذاب نہیں ہے۔کیونکہ عذاب کا اجر نہیں ہوتا صبر کی بہت فضیلت ہے۔ جس نے صبر کیا اس نے رب کو پالیا جس کے کرگزرنے سے رب مل جاۓ تو کیا وہ عذاب ہو گا یا آزمائش یہ ہماری آزمائش ہوگی۔کیونکہ اللّٰہ پاک جس کو قریب کرنا چاہتا ہے اپنے اس بندے کو ہزار بار آزماتا ہے کہ کیا یہ بندہ واقعی ہی مجھ سے محبت کرتا ہے جب بندہ صبر کی آزمائش سے گزر جاتا ہے اور اپنے رب کو پروف دیتا ہے اپنے صبر کے ذریعے کہ اے مالک میں تیرا بندہ ہوں تجھے سے محبت کرتا ہوں تجھی کو چاہتا ہو تیری خاطر سب کر گزروں گا۔تو اللّٰہ پاک اسے اپنے لیے چن لیتے ہیں اپنا قرب خاص بطور انعام دیتے ہیں۔میں اس حقیقت کو تسليم کرتی ہوں کہ صبر کرنا بہت مشکل ہے جب کڑی مشکل ہو اور صبر کے علاوہ کوٸی چارہ نہ ہو تو اس وقت زندگی عذاب سے کم نہیں لگتی مگر اس وقت اس مشکل گھڑی کو عذاب کی بجاۓ اللّٰہ کی آزمائش سمجھ کر صبر کر لیا جاۓ تو بدلے میں رب ملتا ہے۔ اور جسے مل جاۓ اسے کچھ نہیں چاہیے ۔اگر صبر عذاب ہوتا تو قرآن پاک میں اس کی بار بار تاکید نہ کی جاتی اور نہ ہی اس کے کر گزرنے میں اتنی بڑی خوشخبری ملتی۔ سورۃ البقرہ میں ارشاد ہے کہ : اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے مدد طلب کرو۔اللّٰہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اور سورۃ الضحی میں ارشاد ہے کہ: اور جلد ہی آپ کا رب آپ کو اتنا دے گا کہ آپ راضی ہو جاٶ گے ۔ سورة النسا۶ میں ہے کہ : اگر تم شکر کرو اور ایمان لے آٶ، تو اللّٰہ تمھیں عذاب دے کر کیا کرے گا؟ ایمان کے تقاضے پورے کرنا اور نعمتوں کا جاٸز استعمال کرتے ہوۓ اللّٰہ کا شکر ادا کرنا، انفرادی اور اجتماعی عذاب ٹال دیتا ہے۔ صبر کرنے سے تو ہم سے عذاب ہٹا لیا جاتا ہے تو صبر عذاب کیسے؟ صبر ایک کامیابی کی کنجی ہے۔ جب بھی آپ پہ کوٸی مشکل آجاۓ اور جو آپ کے بس سے باہر ہوجاۓ تو صبر کرو اور اللّٰہ کی طرف سے کشادگی کا انتظار کرو۔ کیونکہ یہ میرے اللّٰہ کا وعدہ ہے کہ میں صبر والوں کے ساتھ ہوں۔ اگر انسان صابر ہو تو اس کے ساتھ کی گٸ زیادتی کا جواب عرش سے آتا ہے۔ صبر برسوں کا ، مہنوں کا ہو، دنوں کا ہو یا ایک لمحے کا ہو۔ ایک لمحے میں بھی فیصلہ ہوجاتا ہے کہ آپ نے اللّٰہ کی مانی یا اپنے نفس کی۔اللّٰہ کے لیے حرام اور ناراضگی والے کاموں کو روکنا بھی صبر ہے ۔ کسی کی تلخ باتوں کو اپنے دین کے لیے دل کے سمندر میں گہرائی میں چھپا دینا بھی صبر ہے۔ اور صبر کا بدلہ جنت ہے ۔اس جنت کے حصول کے لیے صبر کرنا سیکھیں۔صبر کا مطلب یہ نہیں کہ آنکھوں کے آنسو تک خشک ہو ہوجاٸیں ان آنسو پہ کسی کا اختیار نہیں ہے بس اپنی مصیبت کو رب کی رضا سمجھ کر برداشت کرلینا اور واویلا نہ مچانا اور رب سے شکوہ نہ کرنا صبر ہے۔ میں جب میں صبر کا نام سنتی ہوں اچانک میرے ذہن میں سورۃ یوسف آجاتی ہے، حضرت یعقوب کا کبھی منظر تصور کیا ہے؟
جب حضرت یوسف کو دیکھا ہو گا کیسا محسوس کیا ہوگا۔
جب دعا کو پورا ہوتے دیکھا ہوگا، جب اللہ کے وعدے کو پورے ہوتے دیکھا ہو گا۔! ” اور بیشک تیرے رب کا وعدہ سچا اور وہ بہتر مددگار اور سننے والا ہے”یہ جو معجزے ہوتے نا یہ یقین والوں کے لیے ہوتے ہیں جو تڑپ رکھتے ہیں اپنی دعا میں، جو دن کو رات، رات کو دن میں بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔وہ تمہارے دل میں سکون ڈالنے کی طاقت بھی رکھتا ہے۔ اس دنیا میں خوشی بھی ہے، غم بھی ہے،راحت بھی ہے ،اور تکليف بھی،سردی بھی ہے اور گرمی بھی ،خوشگواری بھی اور نہ خوشگواری بھی ،اور یہ سب اللّٰہ کی طرف سے ہے ۔اس لیے جب کوٸی دکھ اور مصیبت آۓ تو وہ مایوسی کا شکار نہ ہو بلکہ دل میں اس بات کا یقین رکھے کہ یہ سب کچھ اللّٰہ کی طرف سے ہے، اور اس میں اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے کوٸی نہ کوٸی حکمت ہے۔اسی طرح جب خوشی اور آرام ملے تو اس کو اپنا کمال یا اپنی کوششوں کا نتیجہ نہ سمجھے بلکہ اس وقت بھی یہ یقین رکھے کہ یہ سب کچھ اللّٰہ کی طرف سے ہے،اس میں شک نہیں اللّٰہ تعالی کی نعمتوں کا حقیقی شکر یہ کہ انسان اپنی زندگی کو اللّٰہ تعالی کی مرضی کے مطابق گزارے۔جو مصیبت اللّٰہ کے قرب کا ذریعہ بننے وہ مصیبت نہیں وہ ایک پیاری سی لاڈ بھری آزمائش ہوتی ہے اپنے رب کی طرف سے کیونکہ اللّٰہ پاک اپنے بندوں سے ستر ماٶں سے زیادہ پیار کرتا ہے۔اور اللّٰہ اپنے وعدوں کے خلاف نہیں کرتا۔صبر سیکھ لیں اللّٰہ سب جانتا ہے وہ جانتا ہے کہ آپ کب ، اور کن حالات سے گزرے ہیں۔اللّٰہ بہت بارک بین ہے، یقین کریں وقت بدل جاۓ گا، کیونکہ تبدیلی کاٸنات کا اصول ہے۔اور دنیامکافات عمل ہے ۔
Comments are closed.