افسانہ "چوٹ”

کومل یونس خانیوال
آج جیسے اس پر قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔
وہ سڑک کے بیچوں بیچ بے حس وحرکت چل رہی تھی۔
اس کا بے جان جسم ، بکھرے بال ،ٹوٹے جوتے اور غم سے نڈھال چہرہ اس کی بے بسی کو عیاں کررہا تھا۔ آج وہ ٹوٹ کر بکھر چکی تھی۔ اسے ہر چیز سے خوف آرہا تھا ، ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ خود سے بھی نا آشنا ہو ۔وہ اپنے وجود کو اس زمین پر بوجھ سمجھ رہی تھی۔
اس کے لب پر بس ایک ہی ارداس تھی کے کاش یہ زمین پھٹ جائے اور وہ منوں مٹی تلے دب جائے۔ اس کے قدموں کی رفتار تیز ہوتی چلی جارہی تھی، وہ بار بار پیچھے مڑ کر دیکھ رہی تھی۔ اس کے خوف اور ڈر میں اضافہ ہورہا تھا۔ خدا جانے اس کے اس بے حال جسم میں کون سا ڈر پنپ رہا تھا۔
ایمان کو آج اس دنیا میں کوئی سہارا نظر نہیں آرہا تھا۔ کیونکہ اس نے چوٹ وہاں سے کھائی تھی جس کا کبھی اس نے تصور تک نہ کیا تھا۔ ایمان کے والدین ایک حادثے میں چل بسے تھے۔ اور وہ سہارے جنہیں وہ اپنا گرانتی رہی آج وہی اس کے جان ومال کے دشمن بن چکے تھے۔ یہ وہی سگے رشتے دار تھے جو ایمان کے ہمدرد ہونے کے دعوے کرتے تھے۔ لیکن جب والدین کا سایہ سر سے اٹھ گیا تو یہی ہمدرد مال وجان کے دشمن بن گئے ۔ابھی تک ایمان کے والدین کی وفات کو دو مہینے ہی گزرے تھے کہ گھر کے در و دیوار اسے کھانے کو آرہے تھے۔ آج جب اس نے اپنے ہی خونی رشتوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کے یہ گھر ایمان کے نام سے ہٹوا کر کسی نہ کسی طرح ہتھیا لیا جائے۔ یہ سب باتیں ایمان کی بھابھی نمرین ایمان کے اپنے سگے بھائی حاشر سےکر رہی تھی، جو ہر وقت ایمان کو طعنے دینے کے سوا کوئی کام نہ کرتی تھی۔ یہ بات سنتے ہی جیسے وہ چکرا سی گئی۔ اس کا دل زخموں سے چور چور ہوچکا تھا۔ مانو جیسے اس کے لیے سارے راستے ہی بند ہوگئے ہوں۔
ابھی تو وہ اپنے والدین کا صدمہ بھلا ہی نہ پائی تھی۔ اس بات کو سنتے ہی ایمان کے اندر ایک وحشت سی طاری ہوگئی۔ایمان اور حاشر دو بہن بھائی تھے اور ماں باپ کو بہت عزیز تھے ۔لیکن حاشر کی بیوی کی حرکتوں سے تنگ آکر آدھے سے زیادہ گھر کا حصہ والدین نے ایمان کے نام کردیا تھا۔ اور آج یہی وجہ تھی کہ بھابھی نے ایمان کا جینا دوبھر کردیا تھا۔ایمان نے جب بھابھی اور بھائی کی یہ سب باتیں سنیں تو دبے پاؤں گھر سے نکل کھڑی ہوئی۔ وہ مسلسل صبح سے چل رہی تھی اور اب سورج ڈوبنے کو تھا۔ اس کے پاس سر چھپانے تک کی جگہ نہ تھی۔اسے ڈھلتے سورج سے بھی وحشت سی ہو رہی تھی۔ اپنوں کی طرف سےدی گئی چوٹ سیدھا اس کے دل پر جا لگی تھی ،جو اس کے اندر تک سوراخ کر گئی تھی۔ اب اسے اپنا بھی ہوش نہیں تھا۔ یہ ساری باتیں اس کے دماغ میں چل ہی رہی تھی کہ وہ اچانک زور دار گاڑی سے ٹکرائی اور بے حس وحرکت سڑک کے بیچوں بیچ گر پڑی۔ چوٹ ایمان کے سر پر لگی تھی اسے ہسپتال پہنچایا گیا۔
وہ کچھ دن یونہی ہسپتال میں لاوارثوں کی طرح پڑی رہی۔ اذیت و درد میں تڑپتی رہی۔ لیکن یہ چوٹ ان زخموں سے کہیں کم تھی جو اپنوں کی طرف سے ملے تھے۔
اور آخر کار ایمان زخموں کی تاب نہ لا سکی اور اک سکون کی وادی میں چلی گئی ۔ اور وہ وادی موت کی وادی تھی جس کی دعا اس نے اپنے والدین کی وفات پر کی تھی۔

Comments are closed.