نصیب میرا 

صائقہ طارق

یہ زندگی بھی عجیب شے ہے کبھی راگ بن جاتی ہے تو کبھی روگ ۔۔انسان کو کبھی کبھی تو یہ پتا نہیں چلتا کہ وہ زندگی گزار رہا ہے یا زندگی اسے گزار رہی ہے ۔

دوپہر کا وقت تھا سرمئی رنگ کے بادلوں کو چیرتی سورج کی کرنیں اس کے چہرے کی خزاں کو بہار میں بدلنے میں ناکام تھیں۔ افق کی طرف دیکھتے ہوئے ہوئے وہ کسی گہری سوچ میں گم تھی۔ پیلے اور سفید رنگ کا سادہ سوٹ پہنے ،گلے میں سفید دوپٹہ لیے خوبصورت کالی گھٹاؤں جیسی زلفیں بھی آج بکھری ہوئی تھیں- خوبصورت بادامی آنکھیں رونے کی زیادتی سے سرخ ہو رہی تھیں اور چھوٹی سی ناک لال ہو رہی تھی ۔ اسے اپنی ماں کی یاد شدت سے آ رہی تھی ۔ اتنے میں کمرے کے دروازے پر ہوتی دستک نے اس کی سوچوں میں خلل ڈالا اور اس نے کر دروازے کی طرف دیکھا اور اٹھ کر دروازہ کھول دیا – سامنے اس کی چھوٹی سوتیلی بہن اپنی ماں کا پیغام لائی تھی ۔ پلوشہ نے اس کی بات سنتے ہوئے گہرا سانس لیا اور آہستگی سے اٹھ کر کمرے سے باہر آگئی گئی ۔ لاؤنج سے گزر کر نگہت بیگم کے کمرے میں پہنچی اور دروازہ ناک کیا اور پھر کمرے میں قدم رکھ دیا نگہت بیگم جو کہ بیڈ پر بیٹھی آنکھیں موندے ہوئے تھیں آہٹ پاکر پلوشہ کو دیکھتے ہی طنزیہ لہجے میں بولیں "مہارانی مراقبے سے نکل آئی ہو تو تھوڑا کام کی طرف بھی دھیان دے لو لو سارا کام پڑا ہے اور تمہیں منحوسیت پھیلانے کی پڑی رہتی ہے”۔ وہ خاموشی سے سر جھکائے ان کی بات سننے لگی جس کی عادت اس پچھلے تین سال سے سے پڑھ چکی تھی ۔ پلوشہ کی ماں کا انتقال تین سال پہلے ہی جب وہ چودہ سال کی عمر کی تھی تب ہی ہو چکا تھا۔ اس کے باپ نے اس کو ماں کا پیار دینے کے لیے دوسری شادی کی۔ لیکن بدقسمتی سے اس کو ماں کا پیار نہ مل سکا کیونکہ نگہت بیگم کا رویہ کامران صاحب کے سامنے تو بہت کچھ اچھا ہوتا لیکن ان کے جانے کے بعد وہ اسکا کا جینا حرام کر کے رکھ دیتیں تھیں ۔

لیکن تین سال سے وہ وہ اپنی زندگی میں ہنسی خوشی سب کچھ بھول چکی تھی ۔

آج کا دن اس کے لیے بہت اہم تھا کہ آج اسکا رزلٹ آنا تھا جس کے لیے اس نے راتوں کو جاگ کر محنت کی تھی تھی اور بہت مشکل سے میٹرک کا امتحان پرائیویٹ دینے کی اجازت حاصل کر لی تھی – اسی اثناء میں فون کی گھنٹی بجی اور اس کی دوست ماریہ نے اس کو یہ خوشخبری دی کہ اس نے نہ صرف سکول میں بلکہ پورے بورڈ میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے جس کو سنتے ہی پلوشہ کی آنکھوں میں تشکر سے آنسو آگئے ۔ اس کی ماں کا خواب پورا ہونے میں اب بس ا ایک ہی مشکل حائل تھی اور وہ تھی اپنے باپ سے کسی اچھے کالج میں ایڈمیشن لینے کی اجازت لینا جو کہ اس کو فری میں مل جاتا۔

شام کو جب کامران صاحب ایک تقریب سے واپس آئے تو پلوشا نے انہیں اپنی نمایاں کامیابی کے بارے میں بتایا جس پر پر کامران صاحب نے کافی گرم جوشی سے اس کو مبارکباد دیتے ہوئے ماتھے پر پیار کر کے اس کو گلے لگا لیا جبکہ نگہت بیگم نے اس کو مصنوعی طور پر ” مبارکباد دی” اور اندر سے وہ جل بھن گئی تھیں کیونکہ ان کی اپنی بیٹی پڑھائی میں بالکل بھی اچھی نہیں تھی۔

کچھ دنوں تک اس نے کامران صاحب سے بات کر کے ان سے آگے پڑھنے کی اجازت لے لی تھا ۔

آج چونکہ اتوار کا دن تھا اس لیے کامران صاحب گھر میں ہی تھے اس لیے انہوں نے پلوشہ کو بلا کر خاص طور پر یہ بتایا کہ اس کی پھپھو جو لندن میں مقیم تھیں اپنے بیٹے زاویار کے ساتھ ہمیشہ کے لیے پاکستان آ رہی ہیں۔ اور ان کے لیے خاص انتظام کیا جائے۔ جس پر عمل کرتے ہوئے نگہت بیگم نے پلوشہ کو کام پر لگا دیا ۔ یہ بات سن کر پلوشہ کی خوشی کی انتہا نہ رہی کیونکہ اس کو بچپن سے ہی پھپھو سے بہت پیار تھا ۔اور اپنی ماں کے بعد وہ اپنی پھوپھو کے زیادہ قریب تھی ۔ فائزہ بیگم سات سال پہلے لندن میں مقیم ہو گئی تھیں لیکن اب وہ ہمیشہ کیلئے پاکستان آ رہی تھیں۔

پلوشہ صبح سے کچن میں گھسی مختلف قسم کے پکوان تیار کر رہی تھی اور اب شام کے وقت کچن سے فارغ ہونے کے بعد میں اپنے کمرے میں چلی آئی اور شاور لے کر سادہ سا گلابی سوٹ زیب تن کیا ۔ اتنے میں کامران صاحب کی گاڑی کا مخصوص ہارن بجا جو کہ اس بات کی نشاندہی تھی کہ پھوپھو جان آگئی ہیں تو جلدی سے دوپٹہ سر پر جماتی نیچے کی طرف بھاگی۔

لاؤنج میں پہنچتے ہیں پھوپھو کو دیکھ کر خوشی کے مارے اس کی چیخ نکل گئی وہ بھاگ کر پھپھو کے گلے لگ گئی۔ پھپھو بھی اپنی خوبرو بھتیجی کو دیکھ کر انتہا سے زیادہ خوش ہوئیں اتنے میں ایک خوش شکل نوجوان لاؤنج میں داخل ہوا اور جیسے ہی پلوشہ کی نظر اس پر گئی اس کو ایک لمحہ لگا یہ پتہ چلانے میں وہ نیلی آنکھوں والا خوبرو مرد اور کوئی نہیں بلکہ پھپھو کا بیٹا زاویار ہے۔ زاویار نے لاؤنج میں داخل ہوتے سب کو مشترکہ اسلام کیا ۔ اتنے میں نگہت بیگم کی کڑک آواز نے پلوشہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مہارانی اگر ان چونچلوں سے فرصت مل گئی ہو تو مہمانوں کے لیے کھانا لگا دو ۔ پھپھو اور زاویار کے سامنے اتنی بے عزتی پر بلوشہ کی آنکھوں میں موتی چمک اٹھے لیکن وہ خاموشی سے کچن کی طرف چل دی۔

جبکہ کہ نگہت بیگم اپنے بیٹی علیشہ کا تعارف زاویار اور پھپھو سے کرانے لگیں۔

کچھ دیر بعد پلوشہ نے ڈائننگ ٹیبل پر کھانا لگا دیا اور سب نے مل کر کھانا کھایا اور اپنے کمروں کی طرف روانہ ہوگئے جبکہ پلوشہ پھپھو کو اپنے کمرے میں لے کر آ گئی تاکہ بہت ساری باتیں کر سکے ۔

یہ دو دن بعد کی بات ہے ہے جب شام کے ٹائم سارے گھر والے لاؤنج میں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ جبکہ پلوشہ سب کیلئے چکن میں پکوان بنانے میں مصروف تھی۔ باتوں ہی باتوں میں میں پھپھو نے بلوشہ کا رشتہ اپنے بیٹے زاویار کے لئے مانگا جس پر نگہت بیگم بہت زیادہ بھڑک اٹھی اور کہنے لگیں کہ "پلوشہ ایک بدکردار لڑکی ہے تم کیسے اپنے بیٹے کی شادی ایک بدکردار لڑکی سے کر سکتی ہو”۔ یہ سننے کی دیر تھی کامران صاحب نے ایک زور دار تھپڑ نگت بیگم کے منہ پر رسید کیا ۔ جس کی وجہ سے وہ منہ کے بل گریں اور بےیقینی سے گال پر ہاتھ رکھتے ہوئے اپنے شوہر کو دیکھنے لگی جنہوں نے پچھلے تین سالوں سے ان سے کبھی اونچی آواز میں بات تک نہیں کی تھی آج اپنی بیٹی کی وجہ سے ان پر ہاتھ اٹھا دیا۔ ادھر شور کی آواز سن کر پلوشہ جب کچن سے بھاگی ہوئی لاؤنج میں آئی تو سامنے کا منظر دیکھ کر پتھرا گئ جہاں نگہت بیگم زمین پر گری ہوئی تھیں اور اس کے بابا سخت غصے میں ان پر گرج رہے تھے ۔ تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بیٹی پر ایسا الزام لگانے کی۔

اسی اثناء میں پھپو نے اپنے بھائی کو یہ کہہ کر خاموش کروا دیا اور کہا کہ وہ پلوشہ کو اس جہنم سے نکال کر اپنے ساتھ اپنے گھر اسلام آباد لے جائی گیں۔ جہاں پر وہ آرام سے پڑھے گی اور اپنی ماں کا خواب ڈاکٹر بن کر پورا کر کے دکھائے گی ۔ اور کل ہی زاویار اور اور پلوشہ کا سادگی سے نکاح ھوگا۔ اس مرتبہ نگہت بیگم کی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ اس بات پر ذرا سا بھی اعتراض کرتیں کیونکہ شوہر سے پڑنے والے پڑنے والے تھپڑ نے ان کا منہ بند کروا دیا تھا تھا غلطیوں کا اندازہ ہو گیا تھا اور بے ساختہ پلوشہ پر کیئے گئے سارے ظلم یاد آنے لگے ۔پھپھو کی اس بات سے پلوشہ کو لگا جیسے کسی نے اس پر ٹھنڈے پانی کی پھوار کر دی ہو ۔ جو سارا دن ایک ملازمہ کی طرح گھر کے کاموں میں اور اپنی ماں کی ڈانٹ ڈپٹ کھانے میں گزار دیتی تھی۔ اسکی زندگی بھی ایک خوشگوار سفر طے کرنے جا رہی تھی۔ بے ساختہ اس نے رب کا شکر ادا کیا ۔

Comments are closed.