ریاضت ” (افسانہ)
مکرمہ ذوالفقارسیالکوٹ
ارتضیٰ معمول کے مطابق مسجد پہنچا اور نماز ظہر ادا کی۔ دعا کے بعد وہ مسجد کے قریب درگاہ پرپہنچا جہاں دروازے پر اس کی نظر آج پھر سے اسی اماں جی پر پڑی جو اسے تقریباً پچھلے دو ماہ سے یہاں نظر آ رہی تھیں اور وہ وقتاً فوقتاً انہیں دیکھ کر سلام بھی کرتا اور لنگڑ خانے میں اپنی خدمات انجام دیتا۔ یہ بوڑھی اماں اپنا لنگڑ شاپر میں لیتی اور اپنے آنسوؤں سے تر چہرے کو اپنے آنچل سے صاف کرکے چل دیتی۔
ارتضیٰ کے قدم آج دروازے پر ہی رک چکے تھے۔ وہ اس بوڑھی کے قریب قدموں کی طرف دو زانوں ہو کر بیٹھ گیا۔کچھ دیر اماں کے چہرے پر یہ غم و الم کے آثار بھانپنے کے بعد ہمت کرکے بولا ” سلام اماں کیسی ہو؟”
اماں نے معمول سمجھتے ہوئے بے دھیانی میں جواب دیا اور پھر سے اپنے ہاتھ اللّٰہ کی بارگاہ میں بلند کر دیے۔ ارتضیٰ نے اماں کے کندھے پر ہمدردانہ ہاتھ رکھا اور سوالیہ انداز میں ان کو پکارنے لگا:
"اماں؟
اماں جی۔۔! سنئیے۔۔۔۔۔۔
میری مدد کریں گی؟
اماں نے حیرت و استعجاب میں اس کے چہرے کی طرف دیکھا اور آنسوؤں کی جری چہرے سے صاف کرتے ہوئے بولی : ” سائیں تو حکم کر میری لائیک ہوے تاں ضرور!”
ارتضیٰ نے اماں سے کہا اماں مجھ سے کسی کی حق تلفی ہو گئی ہے اور اب وہ اس دنیا میں نہیں رہی۔۔۔۔
میں نماز قرآن پڑھ کر روزانہ درگاہ میں لنگڑ کا احتمام بھی کرتا ہوں، صدقہ و خیرات بھی معمول ہے مگر مجھے سکون نہیں مل رہا کیونکہ مخلوق کا دل دکھا بیٹھا ہوں۔ اب وہ رب ہی راضی ہوگا جب مخلوق راضی ہوگی۔ آپ دعا کریں میرے حق میں میری یہ ریاضتیں تمام ہوں اور میری توبہ قبول ہو جائے۔ میری ندامتوں کو بھی امان ملے۔۔۔۔
یہ کہتے ہوئے ارتضیٰ کی داڑھی بھی تر ہو چکی تھی اور اس کے ہاتھ اپنے چہرے پر اس طرح بندھے تھے کہ وہ خود کو چھپا رہا ہو۔ مگر جیسے آنسوؤں نے اس کا پردہ فاش کر دیا ہو۔
اماں اپنی جھولی آسمان کی جانب اٹھائے جیسے رب سے ہمکلام ہو رہی تھی۔ ارتضیٰ نے جب کچھ دیر یہ منظر دیکھا تو اماں سے لپٹ کر زارو زار رونے لگا۔ اماں نے ارتضیٰ کے کندھے پر تھپکی دی اور کہا پتر جی رب سوہنے دی کھیڈ اے تو شکر کر تے او راضی ہو جائے گا۔ میں دیکھ نصیباں دی ماری مگر رب دا شکر اے اس سوہنے مالک نے اپنے در دا سوالی بنایا میرے مالک نے تینو وی نواز دینا ان شاء اللّٰہ۔۔۔
ارتضیٰ حیرت انگیز انداز میں اماں کے کندھے سے پیچھے کی جانب ہٹا اور اماں کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے ان سے سوال کرنے لگا:
اماں جی….! اک بات بتائیں میں روز دیکھتا ہوں آپ ادھر درگاہ پہ روز کیا کرنے آتی ہیں؟ روز اتنا رو رو کر پھر کیا دعا کرتی ہیں ؟ کیا بات ہے؟ مجھے معاملہ سمجھ نہیں آیا کہ پھر شکر کا درس بھی دے رہی ہیں!
میرے پتر سب رب سوہنے دی کھیڈ۔۔۔یہ ریاضتیں سب شکر ہی کے بہانے ہیں۔
میں بتاتی۔۔۔۔۔۔!
میں پڑھی لکھی ہوں اپنے زمانے کی ایف ایس سی کی ہوئی۔ خاوند کے انتقال کے بعد میں نے اپنی دونوں بیٹیوں کی پرورش خود کی ہے۔ میری بڑی بیٹی ارم اور چھوٹی فاطمہ دونوں میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں۔ پہلے تو کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا تھا لوگوں کے گھروں میں کام کرکے بچیوں کو پڑھایا لکھایا۔ میری بڑی بیٹی ارم کو میں نے پروفیسر بنایا تھا۔اس کی نوکری لگی تو میں بھی کام چھوڑ ڈیا۔ پھر اس کی شادی کا وقت بھی قریب آگیا۔نوکری اس کے شوہر کو پسند نہیں تھی۔اس کی شادی بڑے ارمانوں سے کی میں نے، صبر و شکر کے ساتھ سب معاملات ہوگئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماریہ تمہارا پورا نام کیا ہے ؟زرینہ نے بڑی ہی دلچسپی سے پوچھا اور فٹ سے اپنے قلم کو مضبوطی سے تھام لیا۔
ماریہ فوراً سے ہربراہٹ میں بولی: "میرا نام۔۔۔۔ ماریہ ارم ہے۔”
زرینہ نے حیرت سے اس کی جانب دیکھا اور اپنا سوال پھر دہرایا۔۔۔۔ ارے۔۔۔ پاگل! سمجھ نہیں آرہا تمہیں میں نے پوچھا ہے تمہارے بابا کا نام کیا ہے؟
ماریہ کا جسم لرزنے لگا اور اس کے چہرے پہ مایوسیوں کے سائے تلملانے لگے۔ جیسے تیسے ہمت اکٹھا کرکے اس نے جواب دیا:
” تم بدتمیزی نہ کرو میرے ساتھ۔۔۔ جاؤ مجھے کھیلنا ہی نہیں تم لوگوں کے ساتھ۔۔۔۔”
ماریہ منہ بسورے اپنی کاپی کھینچ کر چل دی اپنے گھر کی جانب۔
ماریہ میرا پتر تو آگئی وے ؟ ماریہ کی نانی نے اپنی نواسی کے چہرے پہ اداسی کے آثار دور سے ہی بھانپتے ہوئے اس کو بہلانا شروع کردیا تھا۔ ماریہ نے غصے سے کاپی فرش پہ پھینکی اور چلاتے ہوئے اپنی ماں ارم کے کندھوں سے جا لپکی؛ ماما !!!
کیوں۔۔۔۔۔۔!!!!
میرے بابا کیوں نہیں ہیں؟؟؟
امی بتاؤ نا۔۔۔
کیوں نکالا تھا بابا نے ہمیں گھر سے ؟؟
ماما کو کیوں طلاق دی تھی بابا نے؟؟
طلاق ہوتی ہی کیوں ہے؟؟؟
میرے شہباز بابا تو تھے ہی گندے۔۔۔۔ مگر ماما بتاؤ نا ہمیں عرفان بابا نے کیوں چھوڑا تھا؟ وہ کیوں گندے بن گئے تھے۔۔۔!!
ماما۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!۔!۔!
مجھے سب پوچھتے ہیں تمہارے بابا کون ہیں۔۔۔؟
کون ہیں میرے بابا؟
میں کہتی ہوں مَیں خود نہیں جانتی۔۔۔۔ میں نے انہیں کبھی دیکھا ہی نہیں”
ماریہ سرمئی آنکھوں میں موتیوں کی جڑی لیے اپنی ماں کے شانوں سے گلابی گال رگڑتے ہوئے اپنی شکایات کے انبار ماں کے سامنے دھر رہی تھی۔تبھی ارم کا دل جوکہ اس ننھی کلی کی ماں کا دل تھا پھٹ سا گیا اور وہ اپنے نصیبوں کے شکوے یک طرفہ کرکے اپنی کلی کو اپنی بانہوں میں سمیٹنے لگی۔ میری چندا ۔۔! میری پیاری ! او میری چاندنی کیا ہوا ہے؟ بتاؤ؟ کس نے کیا کہا ہے؟ ماما کی جان تمہاری ماما اس کو پوچھے گی نا۔۔۔۔!
کس نے میری گڑیا کو رلایا ہے۔۔۔۔ کیوں رو رہی ہو؟
ماریہ اپنے بازو چھڑاتے ہوئے پھر سے ہچکیاں بھرتی ہوئی بولی : ماما مجھے نہیں جانا اب باہر۔۔۔ مجھے سب بابا کا نام پوچھتے ہیں۔۔۔۔!
ماریہ کی آنکھوں کی نمی نے اس کی ماں کا کلیجہ چیڑ دیا تھا اور اب وہ خود کو سنبھال نہیں پا رہی تھی مگر اپنی ننھی کلی کو دلاسے کے لیے سمجھانے لگی: جانتی ہو ماریہ ماما کی جان یے۔ میری چھوٹی سی گڑیا۔۔۔! میری چندا تم ماما کا سہارا ہو میری زندگی کا مقصد فقط تم سے ہی ہے۔ میری جان میں ہی تمہارا بابا بھی ہوں اور ماما بھی، میرا کوئی بھائی نہیں ہے نا اس لیے تمہارے بابا بھی مجھے یہاں نانو کے پاس چھوڑ گئے تھے۔ سوچو میری جان اگر میں نہیں آتی تو نانو اکیلی رہ جاتی ہے نا۔۔۔
پھر ان کا خیال کون رکھتا؟ بتاؤ؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماریہ کی ماں ارم کو اس کے شوہر نے بچی کی پیدائش پر اس لیے طلاق دی تھی کہ اس کو ایک لڑکا چاہیے تھا، جو اس کا وارث بنتا۔ پھر ارم نے دوسری شادی بھی کی تاکہ ماریہ کا مستقبل روشن بنا سکے۔ ارم کے نصیب کہ انتہائی پیار کرنے والا اس کا دوسرا شوہر بھی ماریہ کی قبولیت کا سن کر اس کو تحریری طلاق نامہ تھمائے انگلینڈ روانہ ہوگیا۔
کرب میں اضافہ اس وقت ہوا پتر جب اس بد نصیب کی تیسری طلاق کا نوٹس والا ورق مجھے ڈاکیے نے دیا اور میں لے کر آتے ہی اس کو تھمایا کہ یہ دیکھو کیا آیا ہے۔ پڑھتے ہی آسمان سر پہ ٹوٹا وہ میری اس بد نصیب کے کالے نصیب کا تحریری فرمان تھا۔ اب تم ہی بتاؤ میں کس کو دوں گی اپنی فاطمہ؟ اس کی شادی کے لیے کون آئے گا؟ کوئی طلاق شدہ کی بہن سے شادی نہیں کرے گا۔ میرے اللّٰہ میں ناتواں ہوں۔۔۔ میری بوڑھی ہڈیاں اب کام نہیں کرتیں میرے اللّٰہ میری مدد فرمانا میری فاطمہ کے لیے اچھا سبب بنانا میرے پتر تو بھی دعا کری کہ اس کے نصیب میری ارم جیسے نہ ہوں۔۔۔۔اے اللّٰہ کسی بیٹی کے نصیب ارم جیسے نہ بنانا ۔۔۔۔بس پتر میری یہی دعا ہے۔ خوش رہو۔”
یہ کہہ کر ماں جی کی آنکھوں سے صبر کے آنسوؤں کے سوا کچھ نہیں جھلکا، وہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے سوالی بنے دربار کے حصار میں بیٹھی مسلسل دعا مانگ رہی تھیں اور مجھے میرے رب نے یوں مافی کا در دکھلایا۔ میرے رب کا کرم دیکھو وہ اتنا مہربان ہے کہ میرے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کا مجھے زندگی میں ہی موقع دے دیا۔ میرے اللّٰہ تیرا شکر ہے تیرا شکر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"میں ارتضیٰ عبد الکریم آپ سے آپ کی بیٹی ارم کا ہاتھ مانگتا ہوں اس کی بیٹی کی کفالت بھی میں کروں گا۔ماں جی کیا آپ اپنی بیٹی کی شادی کریں گی مجھ سے ؟”
میں ہربراہٹ میں جھٹ سے بولا۔
اماں پلٹ کر میرے چہرے کی طرف تکنے لگی اور منٹ منٹ بعد اپنی پلکوں کو جُھکا کر مجھے دیکھتی اور پھر چادر سے آنکھوں کو ملتی۔
میں ڈاکٹر ہوں۔ اے۔ڈی۔ایم ہسپتال میں کام کرہا ہوں اور آج کل غریبوں کے لیے مفت علاج کی نیت سے اپنا کلینک بھی کھول رکھا ہے۔ ماڈل ٹاؤن میں گلی نمبر 4 اور مکان نمبر 13 ہے۔ میری شادی ہوئی تھی مگر بیوی اور بیٹے کے حادثاتی انتقال کے بعد آج تک میں نے شادی نہیں کی۔ میری والدہ میرے ساتھ رہتی ہیں اور والد کا انتقال ہو چکا ہے۔ والدہ بھی ضعیف العمر ہونے کے باعث اکثر بیمار رہتی ہیں ان کی دیکھ بھال کے لیے ہر وقت ملازم خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اور ایک بھائی ہے جو کہ شادی شدہ ہے اور اپنے خاندان کے ہمراہ ٹلی میں مقیم ہے۔ آپ کسی سے بھی میرے متعلق معلومات لے سکتی ہیں۔”
میں جھٹ سے ایک سانس میں سب کچھ کہہ گیا۔ اماں نے اپنے آنسوؤں کو پونچھ کر مجھ سے بس اتنا سوال کیا۔۔۔۔پتر جی یہ بتاؤ۔۔۔۔۔
تم نے میری بیٹی سے کیوں کرنی ہے شادی؟ ڈاکٹر ہو کوئی بھی مل جائے گی!
” اماں جی آپ کو کیسے سمجھاؤں مجھ سے جو گناہ ہو چکے ہیں ماضی میں ان کو دہرانا نہیں چاہوں گا۔ بس۔۔۔ریاضتیں اب مکمل ہوئیں۔ میں بس اتنا بتاؤ گا کہ میرا ماضی جیسا بھی تھا وہ گزار چکا ہوں اب میں پانچ وقت کا نمازی اور درس قرآن کے علاوہ ہدایت کے راستے پر گامزن ہوتے ہوئے تمام برائیوں سے سچے دل سے توبہ کر چکا ہوں۔”
” میرا پتر تو کل میرے گھر آجانا یہ مسجد کے ساتھ دوسرا گھر میرا ہی ہے۔ دو کمرے کے اس مکان میں تمہیں ارم کی مرضی پوچھ کر رب کی رحمت کے سائے میں نکاح کی اجازت دے دوں گی۔ رب کا شکر ادا کرتے ہوئے اماں نے گھر کی جانب جاتے ہر قدم پر الحمد کہا اور آسمان کی جانب دیکھتے جملے دہراتے چلی گئی : ماریہ میری بیٹی میری جان دیکھ تیرے رب نے تجھے بابا دے دیے۔۔۔۔
ماریہ تیرے بابا تیرے دعا کی قبولیت بن کر آئے ہیں ماریہ کی دعا رب سوہنے نے سن لی ہے۔
ماریہ اب تیرے بابا بھی ہوں گے اور میری بیٹی کا گھر بھی بسے گا۔ اللّٰہ تیرا شکر ہے۔ الحمد اللّٰہ۔
Comments are closed.