شرعی پردہ اور ہم ،،

میمونہ ملک

ویسے تو میں اس موضوع پر قلم اٹھاتے ہوئے بہت کتراتی ہوں کہ کہیں کچھ ایسا نہ لکھ دوں جو میرے اپنے اندر بھی موجود ہو اور میں اس میں دوسروں کو غلط کہہ دوں ۔لیکن اب جب لکھ رہی ہوں تو پڑھنے والوں کو اگر کچھ برا لگتا ہے تو میں پہلے سے معذرت خواہ ہوں۔جیسے سب اپنی رائے دینے کا پورا حق رکھتے ہیں ویسے ہی میں بھی بس اپنی رائے دے رہی ہوں۔

دو تین دن سے میں مسلسل دیکھ رہی ہوں کہ اکثریت یہ پوسٹ کر رہی ہے ، اس لڑکی کے حجاب کو شرعی پردہ کا نام دیا جارہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ یہی رئیل کوئین ہے۔

کیا آپ کو یہ شرعی پردہ لگ رہا ہے؟؟؟

کیا ہمارا مذہب یہ کہتا ہے کہ منہ اور سر چھپا لو باقی سب زیب وزینت بےشک نہ چھپاؤ؟

کیا یہ پردے کے زمرے میں آتا ہے؟

چلیں ٹھیک ہے اس نے حجاب کیا ، نقاب کیا ۔

جو لوگ یہ بھی نہیں کرتے یہ لڑکی ان سے ہزار درجے بہتر ہے ، لیکن دیکھا جائے تو یہ کہیں سے بھی پردے کے زمرے میں نہیں آتا۔

اور شرعی پردے کے زمرے میں تو بالکل بھی نہیں۔

میرے ناقص علم کے مطابق جب پردے کا حکم اترا تو پاؤں تک چادریں لٹکانے کا حکم ہوا اور مومنات نے دو دو تین تین چادریں جوڑ کر سارے جسم کو ڈھک لیا گویا پورے کا پورا حکم تسلیم کیا ۔

اور یہی اصل اسلام ہے ۔

کہا گیا کہ ٫٫پورے کے پورے دین میں داخل ہو جاؤ ،، اور پورے کا مطلب پورا ہی ہے نہ کہ سابقہ امتوں کی طرح آدھے ادھورے احکام مان لئے اور دین کو موم کی ناک کی طرح جس طرف چاہے موڑ دیا ۔

 

اس تصویر میں دیکھا جائے تو اس لڑکی کا صرف سر اور چہرہ ہی چھپا ہے باقی کچھ نہیں۔۔

اور بالفرض یہ مان بھی لیا جائے کہ یہ شرعی پردہ ہے تو کیا شرعی پردے میں یہ بھی آتا ہے کہ اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر دی جائیں؟؟؟

جہاں ہزاروں کی تعداد میں نامحرم دیکھیں اور تعریفیں کریں کہ یہی ریئل کوئین ہے؟؟؟

دراصل ہمارامسئلہ یہ ہے کے ہم کسی کو کچھ پوسٹ کیا ہوا دیکھتے ہیں تو بغیر جانے یہ ٹھیک ہے یا غلط کاپی پیسٹ شروع کر دیتے ہیں۔ یہی بات میں نے ایک جگہ کہی تو سب ہنسنے لگے مجھ پر کہ اللّہ تمھیں دین کی سمجھ اور ہدایت عطا فرمائے۔۔۔ضرور اللّہ پاک مجھے یہ دونوں چیزیں عطا فرمائیں آمین۔

میں ہرگز یہ نہیں کہہ رہی کہ اس نے بالکل ہی غلط کیا، کچھ ٹھیک کیا اس نے۔

ہر چیز کی ابتدا چھوٹے سے ہی ہوتی ہے،ہم نہیں جانتے اس کی نیت کیا تھی۔ہم کسی کی نیت جانے بغیر کسی کو غلط کہہ بھی کیسےسکتے ہیں۔

میں بس پوسٹس کرنےوالوں کو اور شرعی پرے کے کیپشنز لکھنے والوں کو غلط بول رہی ہوں۔اور جہاں کچھ غلط ہوتا دیکھوں گی توضرور بولوں گی۔حدیث پاک کا مفہوم ہے۔”اگر تم کہیں برائی ہوتی دیکھو تو اسکو ہاتھ سے روکو،اگر ایسا نہیں کر سکتے تو منہہ سے روکو،اگر ایسا بھی نہیں کر سکتے تو دل میں اس چیز کو برا جانو اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے”۔

اور ایک مسلمان ہونے کے ناطے یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ جہاں ہم غلط بات ہوتی دیکھیں اسکو روکنے کی پوری کوشش کریں۔

یہ حجاب ہو سکتا ہے نقاب ہو سکتا ہے مگر شرعی پردہ ہر گز نہیں ۔ ہم اللہ تعالیٰ کے احکامات کو اپنی مرضی کا رنگ ہر گز نہیں دے سکتے ۔ ہم میں اور دوسری امتوں میں یہی فرق ہونا بھی چاہیے کہ انہوں نے اپنے دین میں تحریف کی مگر ہم اس سے بچیں ۔ اللّٰہ کے غضب سے بچیں ۔

اللّہ پاک ہمارا حامی و ناصر ہو۔آمین

Comments are closed.