خاموش جنگ. (افسانہ)

نام:رابعہ بنت احمد

آج پاکیزہ تھم سی گئی تھی-وہ اردگرد کے حالات سے بے خبر تھی-پاکیزہ اپنے روتے ہوئے بچوں کو دیکھ کر زیادہ ہی تڑپ اٹھتی تھی-اسکی امی”خدیجہ بی بی” کچھ دن پہلے ایک بھیانک ایکسیڈنٹ میں زندگی کی جنگ ہار گئی تھی-

خدیجہ سخی ہونے کے ساتھ ساتھ دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرنے والی تھی-پاکیزہ اسکی اکلوتی اولاد تھی،جس کو خدیجہ نے بڑے ناز سے پالا تھا-خدیجہ ایک مڈل اسکول میں بحیثیت پرنسپل اپنے فرائض انجام دے رہی تھی-پاکیزہ کی شادی کو ابھی کچھ ہی سال گزرے تھے کہ خدیجہ بی بی ابدی نیند سو گئ-پاکیزہ کا شوہر بڑا ہی شریف النفس انسان تھا،اسے خدیجہ کی صورت میں بے لوث محبت کرنے والی ماں مل گئی تھی،وہ ایک یتیم بچہ تھا،خدیجہ بی بی نے اسکو شفقت کا سایہ دیا،جب اسکے سر پر ہاتھ رکھنے والا کوئی نہ تھا-

ایک دن فون کی گھنٹی بجی اور پاکیزہ نے اٹھاتے ہوئے سلام کیا اور کہا”کون”وہاں سے ایک بھڑکتی ہوئی آواز میں کوئی بول اٹھا”میں سینٹرل جیل سے ایس-پی دلاور بول رہا ہوں،تمہارا شوہر کاشف نشیلی ادویات کے معاملے میں گرفتار ہوا ہے”-پاکیزہ کے کانوں سے جونہی یہ آواز ٹکرئی،اسکے پیروں کے نیچے سے زمین پھسل گئی،فون اسکے ہاتھ سے پھسل کر زمین پر گر کر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا-عائشہ اور عدنان دونوں معصوم بچے اپنی بے ہوش ماں کو ننھے ہاتھوں سے سنبھالنے کے لیے دوڑے اور زار و قطار رونے لگے-ہوش سنبھالنے کے بعد پاکیزہ نے آہستہ آہستہ اٹھتے ہوئے اپنے سہمے ہوئے بچوں کو گلے لگا کر دلاسہ دینے کی کوشش کی-پاکیزہ نے فورا بچوں کو ساتھ لے کر سینٹرل جیل کا رخ کیا-گاڑی میں بھی ہر نظر ان بے بس چہروں کا ہی طواف کر رہی تھی-ہر کوئی حال احوال پوچھ کر یہ دعا دے کر رخصت ہو جاتا”اس رمضان کی برکت سے اللہ آپ کی ہر مصیبت کو دور کرے”- پاکیزہ دھیمی آواز میں آمین کہتے ہوئے کبھی پیلے رنگ کے ڈوپٹے سے اپنے آنسوں صاف کرتی،کبھی اپنے معصوم گلابوں کے رخساروں کو صاف کرتی-

جیل میں کافی منتوں کے بعد پاکیزہ کو کاشف سے ملاقات کی اجازت دی گئ-پاکیزہ اور کاشف ایک دوسرے کو دیکھ کر ہی آبدیدہ ہو گئے-کاشف نے روتے ہوئے کہا”پاکیزہ میں بے قصور ہوں،میری گاڑی کے پیچھے کسی نے نشیلی ادویات کے پیکٹ ڈال دئے تھے”-پاکیزہ بے بس ہوتے ہوئے کاشف کو دلاسہ دینے لگی،”تمہیں گواہی دینے کی کوئی حاجت نہیں”-

زندگی کا نقشہ بلکل الٹ گیا تھا-جو دوست واحباب خدیجہ بی بی کی زندگی میں بڑے ہی غم خوار معلوم ہوتے تھے،وہ رفتہ رفتہ منھہ پھیر رہے تھے-کاشف کی رہائی کے لئے پاکیزہ نے اپنے زیورات بھی بیچ ڈالے لیکن پھر بھی کاشف کی رہائی ممکن نہ ہو سکی-مصائب کا تسلسل دن بہ دن بڑھتا ہی جا رہا تھا،اسکے پڑوسیوں نے مقدمہ دائر کرتے ہوئے صحن کے بیچ ایک نئی دیوار حائل کرتے ہوئے ایک مظلوم عورت کو ایک نئے ظلم کا نشانہ بنایا-

انکے گھر میں ہر سال رمضان میں خدیجہ بی بی دسترخوان لگاتی اور پورے محلے کے ساتھ ساتھ رشتہ داروں کو بھی دعوت دیتی تھی لیکن اس رمضان تو گھر کی بنیادی ضروریات بھی مشکل سے پوری ہوتی تھی-آج خدیجہ بی بی کی شہزادی فقیری کے طمانچے چپ چاپ سہ رہی تھی-

محلے کا ایک نوجوان لڑکا شاھد جو خدیجہ بی بی کا شاگرد بھی رہ چکا تھا،وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینے لگا-انکی بے بسی پر شاھد دن رات غور فکر کرنے لگا کہ دوسروں کا سہارا بننے والی خدیجہ بی بی کی لاڈلی آج اس قدر بے سہارا ہوگئ ہے کہ بجلی والوں نے فیس نہ ادا کرنے کی وجہ سے اس گھر کا کنیکشن ہی کاٹ دیا اور پاکیزہ شمع کی روشنی سے اپنے اندھیروں کو زمانے کی نظروں سے چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے-ہر گھر،ہر زبان پر،محلے کی گلی گلی میں انکی غربت کی داستان کو موضوع بحث بنایا جا رہا ہے-اس نے اپنے باقی دوستوں کا بھی ضمیر بیدار کرنے کی کوشش کی اور رفتہ رفتہ چراغ سے چراغ روشن ہوتا گیا-ان سبھی جوانوں نے مل کر رمضان کے ساتھ ساتھ عید کی ضروریات کو بھی جمع کیا اور اس کے علاوہ کچھ نقد رقم جمع کی اور رات کے اندھیرے میں ایک ہی نوجوان شاھد نے اندر جانے کی اجازت اپنے دوستوں سے لی تاکہ پاکیزہ کے دل کو ٹھیس نہ پہنچے-دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے شاھد دھیمی آواز میں بولا "پاکیزہ آپی!دروازہ کھول دیجئے،میں رحیم چچا کا بیٹا شاھد”-پاکیزہ نے جونہی دروازہ کھولا اور سامان پر نظر پڑی تو اسکی آنکھیں نم ہوگئ اور کہنے لگی”خاموش غموں کو سمجھنے کے لیے کھلی آنکھوں کے ساتھ ساتھ زندہ دل بھی ہونا چاہئے جو ہر ایک کے پاس نہیں ہوتا”-

 

شکریہ

Comments are closed.