کوروناکے اس قہرمیں بھی کشمیرمیں مظالم کاسلسلہ جاری

عبدالرافع رسول
نہایت بری طرح سارے بھارت کو کرونا وائرس اپنی جکڑ میں لے چکا ہے۔ یہ مہلک وبا بھارت میں قیامت صغری برپاکرچکاہے ۔ہر طرف ایسی افراتفری مچی ہوئی ہے اورنفسی نفسی کا عالم یہ ہے کہ دیکھ کر روح کانپ اٹھتی ہے، کلیجہ منہ کو آجا تا ہے، بدن پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے ۔جس طرف نظر اٹھاکردیکھتے ہیں ویرانی چھائی ہوئی ہے۔ہرمتنفس مہلک وبا کرونا سے خوف اورڈرکے مارے سہما ہوا نظر آتا ہے ،ہراسپتال اور چوک چوراہوں پر اسی مہلک وبا سے ہورہی ہلاکتوں کاکوئی حساب نہیں ۔ اس مہلک وبا کی دوسری لہرنے چنددنوںکے دوران سینکڑوں جانیں لے لی ہیں، کتنے گھراجاڑ دیئے ہیں، کتنی سہاگنوں کے سہاگ اجاڑ دیئے ہیں، کتنی عورتوں کو بیوہ بنا دیا ہے اورکتنے ہی بچوں کو یتیم بنا دیا ہے ۔بھارت میں کروناکی اس دوسری لہر نے لوگوں کے دلوں میں ایسی دہشت پیدا کر دی ہے کہ کیا امرا، کیا غرباسب آکسیجن یعنی سانس لینے کے محتاج بنے ہوئے ہیں۔ الامان والحفیظ ۔بھارت میںبرپاشدہ وحشت ناکی کاعالم یہ ہے کہ انسان ،انسان سے ہی خوف کھانے لگے،اپنوں نے اپنوں سے رشتہ توڑ لیا ہے، باپ بیٹے سے ہاتھ ملانے، مصافحہ ومعانقہ کرنے کو تیار نہیں ہے ،ماں بیٹی سے ملنے کو تیار نہیں ہے رشتہ داروں نے ایک دوسرے کیلئے دروازے بند کر دیئے ہیں، کسی کی میت پر جہاں جنازے میں شرکت کیلئے رشتہ داروں کا انتظار کیا جاتا تھا آج حال یہ ہے کہ گھر پڑوسی اس کے جنازے میں شرکت کرنے سے دوربھاگ رہے ہیں ۔بلاشبہ کروناکی اس دوسری لہر سے بھارت میں ایسا ماحول قائم ہو گیا ہے جو میدان محشر کی جھلک پیش کر رہا ہے جسے قرآن کریم نے کچھ اس طرح بیان کیا ہے!ترجمہ! ’’کہ وہ دن ایسا ہوگا جس دن بھائی بھائی سے والدین اور بیوی بچوں سے بھی دور بھاگیں گے ان میں سے ہر انسان کو ایسی فکر ہوگی کہ اس کو دوسروں کا ہوش نہیں ہوگا‘‘ (سورہ الغاشیہ 30)
قرآن مجیدکی اس آیت کے تناظر میںٹھیک یہی حال بھارت کے دارالحکومت دہلی اور ممبئی سمیت تمام بھارتی ریاستوں کا ہے اورہرطرف ہاہاکار مچا ہوا ہے ۔دہلی میں ہاسپٹل میں بیڈ نہ رہنے کی وجہ سے اور ادویات و آکسیجن کی کمی سے لوگ سڑکوں پر دم توڑ رہے ہیں لوگوں کی آسیں اور امیدیں تو اسی وقت ختم ہوگئیں جب بھارتی ریاستوں کے وزرائے اعلی نے آکسیجن کی کمی کی بات کہ کر لوگوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ۔ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے زندگیاں سسک سسک کر دم توڑ رہی ہیں ۔ ایک طرف لاشوں کے ڈھیر نظر آرہے ہیں تو دوسری طرف مہلوکین کے ورثا کی سسکیاں اور ان کی آہیں سنائی دے رہی ہیں ۔کرونا کے سامنے غریب امیرکی کوئی تمیزاورکوئی امتیاز نہیں بلاتفریق رنگ ونسل لوگوں کو اس نے موت کے آغوش میں پہنچاکر ابدی ننید سلا دیا ۔ اس مصیبت کی گھڑی میں انسان اتنا بے بس اور لاچار ہو گیا ہے کہ چاہ کے بھی مدد کا ہاتھ نہیں بڑھا پاتا ہے غیر تو غیر اپنے بھی اپنوں کی لاشوں کو اٹھانے سے گھبرا رہے ہیں ۔
انسانوں نے بھی جینے کی امید کھو دی ہے لوگ جہاں ہیں وہیں اپنی آخری سانس لینے کو تیار ہیں۔ حالیہ کچھ دنوں لگاتاراورمسلسل جتنی کثرت سے لوگوں کی اموات ہوئیں ہیں تواس کی ہیبت سے لوگوں کے ذہن و دماغ کام کرنا بند کر دئیے ہیں ۔بھارت کے عوام کوکروناوائرس نے جس طرح اپنی شدیداورسخت گرفت میں لے رکھاہے بطورانسان ہمیں بھارتی عوام کے حال پررحم آتاہے ۔لیکن یہ بھی نوٹ کرلیں کہ بھارت کی اس صورتحال میں بھی کمینہ خصلت بھارتی فوج سحری کے وقت کشمیرمیں کوئی لحاظ کئے بغیرمسلسل چادراورچاردیواری پامال کررہی ہے،نوجوانان کشمیرکوبھون ڈال رہی ہے ۔کشمیری مسلمانوں کی ایک بڑی تعدادکو قیدی بناڈالاگیاہے اور بھارت کے مختلف ایذیت خانوں میں بے بسی کے عالم میں پڑے وہ انسانیت سوز اذیتیںکھارہے ہیں۔
دوسری طرف مودی اوراس کے گودی میڈیاکوروسیاہ کررہاہے اورانکے چہروں پرکالک مل دی جارہی ہے کہ جنہوں نے کروناکی پہلی لہرمیں بھارتی مسلمانوں کوبدنام کردیااوران کے خلاف سارے بھارت میں چھوت چھات کی ایسی کمپین چلادی گئی کہ سبزی اورپھل فروش ریڈی بان مسلمان کوہندواپنے علاقوں میں داخل نہیں ہونے دے رہے تھے جبکہ بھارتی مسلمانوں کے لئے رحمت بنی تبلیغی جماعت کے خلاف لٹھ لیکراسے طرح پڑے کہ اسے وابستہ ہرفردکوبھارت کے لئے’’ کرونابم‘‘قراردیاگیا۔توہرشئی کے دورخ ہوتے ہیں کے فلسفے کوماناجائے اورکروناکو اس پس منظرکے ساتھ دیکھاجائے تو یہ بھارت پرصریحاََ قہر الہی ہے،بھارت کے ان جرائم کاشاخسانہ ہے کہ جووہ کشمیرمیں بالخضوص اوربھارت میں بالعموم مسلمانوں کے ساتھ روارکھے ہوئے ہے ۔الغرض بھارت کشمیر کوخون میں نہلانے سے باز نہیں آرہاتوایسے میں ہماراایمان ہے کہ بھارت پرخداکاکوڑابرسااورمسلسل برس رہاہے ۔ایک لاکھ کشمیری مسلمانوں کوابدی نیندسلادینے والے بھارت سے کروناحساب چکارہاہے اوراب تک دولاکھ سے زائدبھارتی شہری موت کے گھاٹ اترچکے ہیں۔
واضح رہے کہ جب کسی ظالم حکمران کے ملک پراس کے جرائم کی پاداش میںقہرالٰہی کاکوڑابرستاہے تووہاں مجرمین کے ساتھ ساتھ عام رعایابھی ہدف بن جاتے ہیں۔اس لئے بطورمسلمان ہم سب کواس وبائی مرض سے پناہ مانگ لینی چاہئے،رجوع الی اللہ ساتھ ساتھ ایس اوپیزکوفالوکرناچاہئے ۔ دعا مومنوں کا ہتھیار ہے رات کی تاریکیوں میں رب العالمین سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی جائے ،کثرت سے صدقہ کیا جائے کیوں ارشاد فرمایا کہ ’’صدقہ ردبلاہے ‘‘۔ فرمایا ’’خوب کثرت سے صدقہ خیرات کیا کرو کیونکہ صدقہ رب کے غصہ کو ٹھنڈا کرتی ہے‘‘۔افسوس یہ ہے کہ ہمارے ہاں صدقہ خیرات کرنے کااہم کام دن بہ دن ختم ہوتا جارہا ہے جب کہ ہرنئے دن کے ساتھ انسان کھلم کھلا رب کے قوانین کو توڑتانظر آرہاہے ۔ بحیثیت اہل ایمان ہمارایہ عقیدہ ہونا چاہئے کہ خالق حقیقی ناراض ہوتوپھر مہلک امراض ہر خاص و عام کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں ۔

Comments are closed.