اولاد کا پہلا حق محبت

 

 

نرگس یونس سیالکوٹ

 

بچوں کا ذہن ایک خالی سلیٹ جیسا ہوتا ہے جس پر جو درج کریں گے وہی تاحیات اس کے ذہن پر اپنی چھاپ چھوڑ جاتا ہے۔ جو اسے گھر سے پڑھایا جائے گا جو اسے سکھایا جائے گا وہ وہی سب سیکھے گا اور اسے اپنی عملی زندگی میں کام میں لائے گا۔ بچے کے سیکھنے پڑھنے کا عمل تو ایک طرف رہ گیا مگر بچے کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ ہے محبت ہر حق سے پہلے بچے کو محبت کے حق کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک اچھا نام، تعلیم و تربیت یہ سب کچھ بچوں کا بنیادی حق ہے تعلیم تو ان کو دی ہی جاتی ہے چاہے کم ہو یا زیادہ مگر بچے جس چیز کی سب سے زیادہ طلب رکھتے ہیں وہ ہے ماں باپ کی طرف سے ملنے والی محبت سب ماں باپ اپنے بچوں سے محبت کرتے ہیں مگر وہ محبت کوئی کوئی ہی کرتا ہے جس میں ماں باپ اور بچوں کے درمیان دوستی قائم ہوجاتی ہے۔ وہ محبت جس میں ڈر کے ساتھ ساتھ مان بھی ہوتا ہے کہ ہم اپنے والدین سے اپنی زندگی کے متعلق جو بھی بات کریں گے وہ ہمیں سنیں گے وہ ہمیں سمجھئیں گے۔ اور پھر ہماری بات پر توجہ دیں گے۔

اولاد نعمت ہے۔ ضروری نہیں کہ پیسے سے زندگیاں خوشحال ہوں ہر خوشی پیسے سے نہیں ملتی اولاد کو بچوں کو زندگی میں جس کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے وہ ہے محبت، توجہ اور کئیر ان چیزوں سے ہی اولاد مضبوط ہوتی ہے۔ ان سب سے ہی بچوں کے ذہن میں زندگی گزارنے کی رنگینیاں سامنے آتی ہیں۔ جس انسان کو گھر سے محبت نہیں ملتی تو وہ باہر کسی انسان میں محبت ڈھونڈتا ہے اور اکثر باہر محبت ملنے پر انسان بھٹک جاتا ہے وہ گھر والوں سے کٹ جاتا ہے۔ ہر انسان چاہتا ہے کہ اسے کوئی سنے اس کا خیال رکھے اس کی ہر ہر بات کو محسوس کرے۔ بچے جب بچپن سے ہی گھر والوں کا اپنے ساتھ ہونے والا رویہ دیکھتے ہیں پھر ان کی کہی ہوئی ہر بات کو محسوس کرتے ہیں۔ بچہ اکثر اپنے گھر والوں کی باتوں سے اپنے لئے محبت کو ڈھونڈتا ہے اور جب اسے محبت نہیں ملتی تو وہ حساس بن جاتا ہے وہ پھر جب معاشرے میں نکلتا ہے تو اس کی ذات میں خالی پن دیکھائی دیتا ہے وہ اندر ہی اندر گھٹتا رہتا ہے مگر کبھی بھی اپنی بات کو اپنے گھر والوں سے شئیر نہیں کرتا۔ وہ انسان پھر باہر سے دوسرے لوگوں میں محبت تلاش کرتا ہے اور اکثر وہ ان محبتوں کے لئے غلط قدم بھی اٹھا لیتا ہے۔ گھر سے بھاگ جانا، باغی بن جانا یہ سب اسی لئے ہوتا ہے کہ انسان کی ذات میں اپنوں کی محبت کی کمی رہ جاتی ہے۔

ماں باپ سمجھتے ہیں کہ ان کے بچے کو صرف پیسے کی ضرورت ہے وہ اس پر پیسہ لگاتے ہیں اس کی ہر ہر ضرورت کو پورا بھی کرتے ہیں ۔ تعلیم دیتے ہیں۔ مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ ان کے بچے کی ذات خراب کیوں ہو رہی ہے ان کے بچے کو پیسے سے زیادہ ان کی محبت ان کی توجہ کی ضرورت ہے۔ ماں باپ کو سخت ہونا چاہئیے مگر اتنا بھی نہیں کے بچے بس ان سے ڈرتے رہیں اپنی بات کرنے سے پہلے ہزار بار سوچیں۔ ماں باپ اور اولاد کا رشتہ تو ایسا ہونا چاہئیے کہ بچے کو اپنے دل کی بات اپنے اوپر گزرنے والے حالات بغیر جھجک کے اپنے والدین سے بیان کرسکے۔ والدین کا اپنے بچوں کے ساتھ دوستی کا رشتہ ہونا چاہئیے والدین کو اپنے بچوں کو محبت دینی چاہئیے اس کے ذہن کو پڑھنا چاہئیے۔ اولاد محبت کی بھوکی ہوتی ہے اسے یہ ہوتا ہے کہ اس کے والدین اس سے وہ محبت کریں جس کی وہ طلب رکھتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر لڑکیاں لڑکے محبت میں گرفتار ہوجاتے ہیں ۔ اور وہ کبھی کبھار محبت کو اتنا خود پر حاوی کر لیتے ہیں اپنے جان تک لے لیتے ہیں اور کچھ ہر چیز کو بھول کر گھر سے بھاگ جانے پر راضی ہوجاتے ہیں۔ یہی اگر اولاد کو بچپن سے گھر سے پیار ملا ہو گھر سے توجہ ملی ہو تو وہ اپنی محبت کو گھر والوں کے سامنے عیاں کر دیں اور اپنی اور اپنے والدین کی عزت کو اس طرح رسوا نا کریں۔ والدین کو بھی چاہئیے کہ وہ اولاد کے جذبات کو سمجھئیں وہ جوان اولاد کی خودکشی، اور بھاگ جانا تو دیکھ لیتے ہیں مگر ان کی مرضی کے مطابق شادی نہیں ہونے دیتے اگر یہی ان دونوں کے درمیان احساس کا رشتہ ہو پیار کا خلوص کا سمجھنے کا رشتہ ہو تو خودکشی کوئی بھی نا کرے کوئی انسان زبردستی کے رشتوں میں بندھ کر زندگی نا گزارے۔ بلکہ اپنے والدین کو اپنی پسند بتا کر ایک خوشحال زندگی گزاریں۔ محبت انسان کے لئے بہت اہم ہوتی ہے۔ انسان کو جہاں سے پیار خلوص ملتا ہے وہ اسی طرف جھک جاتا ہے۔ ضروری ہے کہ یہ پیار گھر سے ہی ملے۔ والدین کو جلاد نہیں ہونا چاہئیے بلکہ انسان ہونا چاہئیے جو اپنی اولاد کو سمجھے اور اس کے دل کی ہر بات کو جانے اور اسے اس کی پسند کے مطابق زندگی گزارنے کے لئے دیں۔ صرف پیسے کو ہی جینے کا حل نا سمجھئیں بلکہ پیسے کو ایک طرف رکھ رشتوں کی ڈور کو مضبوط کریں محبت احساس اور خلوص کے ساتھ۔ انسان کی زندگی میں سب سے اہم ہاتھ والدین کا ہوتا ہے۔ جن کے بغیر کوئی بھی ایک مضبوط اور مکمل انسان نہیں بن سکتا۔ اپنی اولاد کے سامنے دوسروں کی اولاد کو فوقیت نہیں دینی چاہئیے اس طرح انسان احساس کمتری کا شکار ہوجاتا ہے اور وہ اپنے والدین سے وہ رشتہ استوار نہیں کرپاتا جو رشتہ ہوتا ہے۔ اولاد کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کی خواہشات سے زیادہ اس کے جذبات کو فوقیت دینی ہوتی ہے۔ محبت اور احساس سے ہی یہ رشتے مضبوط ہوتے ہیں۔

Comments are closed.