جذبہ محبت

 

 

از قلم :اقراء احسان

 

اس دنیا کی رعنائیوں میں سے ایک رعنائی، رنگینیوں میں سے ایک رنگینی اور لذتوں میں سے ایک منفرد لذت محبت ہے۔ محبت کی بنیاد پر تو یہ دنیا قائم ہے۔ محبت کا جذبہ انسان میں فطری طور پر موجود ہوتا ہے۔ لازم نہیں کہ محبت صنف مخالف سے ہی ہو، یہ ایک ایسا جذبہ ہے جو ہر ذی روح میں موجود ہوتا ہے۔ محبت ہم اپنے والدین سے بھی کرتے ہیں، اپنے دوستوں سے کرتے ہیں، اپنے اساتذہ سے کرتے ہیں اور اپنے بہن بھائیوں سے بھی کرتے ہیں۔ اگر کہا جائے کہ محبت کے بغیر ہمارا معاشرے میں گزارا کرنا ناممکن ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ محبت ایک پاکیزہ جذبہ ہے جو امن و سکون اور خوشحالی کو فروغ دیتا ہے۔ افسوس ہے کہ آج اس پاکیزہ جذبہ کے نام پر بھی دغا بازی کی جارہی ہے اور سیاست کھیلی جارہی ہے۔ اس محبت کے جھانسے میں ہزاروں بلکہ لاکھوں میری بہنوں کی عزت کی چادریں داغ دار ہو رہی ہیں آخر کیوں اس جذبہ کو انتہائی غلیظ طریقے سے استعمال کیا جارہاہے؟ صد حیف کہ بہت سے واقعات ایسے بھی دیکھے ہیں کہ لڑکیوں کی عصمتیں داغ دار کر کے ان کو اجازت نہیں ہوتی کے وہ اپنے حق کے لیے آواز بلند کریں۔ ارے جب سب سے قیمتی شہ ان کے پاس نہیں رہی تو کیوں یہ ظلم کیا جاتا ہے کہ ان کی اپنے حق کے لیے اٹھنے والی آوازوں کو دبادیا جاتا ہے؟ آخر کیوں ان درندوں کو کوئی سزا سر زد نہیں کی جاتی؟ آخر کیوں ان وحشی درندوں کو سرعام معاشرے میں دندانانےکے لیے کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے آخر کیوں؟ کبھی غور کریں کہ جب زبان محبت کا لفظ ادا کرتی ہے تو دونوں ہونٹ آپس میں ملتے ہیں یعنی ہونٹ بھی اس مقدس لفظ کو چوم کے نکالتے ہیں۔ آج کل ہماری نوجوان نسل محبت کے حقیقی اور اصل مفہوم سے ناآشنا ہیں۔ ہماری نوجوان نسل نے محبت اور ہوس کو ایک ہی صف میں کھڑا کر کے یکجا کر دیا ہے۔ محبت اور ہوس میں فرق ہے۔ محبت آسمان ہے اور ہوس زمین۔ محبت روح سے کی جاتی ہے اور ہوس میں جسم شامل ہوتا ہے۔ محبت کی چاشنی دیکھیے کہ جب آپ کو کسی سے محبت ہو جائے تو آپ کے لیے اس کا خیال ہی باعث راحت بن جاتا ہے۔ مومن خاں مومن نے کہا تھا کہ:- ” تم میرے پاس ہوتے ہو گویا جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا” یہ ہوتی ہے محبت جب آپ کو اس سے فرق نہیں پڑتا کہ محبوب آپ کے پاس ہو یا نہ بس آپ کے لیے وہ آپ کے پاس ہی ہے۔ آپ کو اس انسان سے جس سے محبت ہو اس کا خیال ہی سرشار کرنے کے لیے کافی ہے۔ محبت ایک ایسا ہتھیار ہے جو انسان کو اندر سے بدلتا ہے۔ پھر فرد اگر خاموش رہتاہوتو خامخواہ ہربات پر بولے گا اور اگر سنجیدہ مزاج کاہوتو رنگین مزاج بن جائے گا کیونکہ محبت کے اندر ایک طاقت ہوتی ہے یہ طاقت فرد کو سر سے پاؤں تک بدلنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ محبت بڑا کاری وار کرتی ہے لیکن ہوس بلکل اس کے متضاد ہے۔ جن کو جسموں کی چاہ ہوان کو تو پتہ نہیں ہوتا کہ جذبہ محبت کیا ہے؟ وہ اخلاقیات کے انتہائی نچلے درجے پر ہوتے ہیں بلکہ ان کو تو اخلاقیات کا بھی پتہ نہیں ہوتا۔ آج ہمارے معاشرے میں بے حیائ عروج پر پہنچ چکی ہے جس کی وجہ ہماری نوجوان نسل محبت اور ہوس میں فرق کرنے سے قاصر ہے۔ میری اپیل ہے کہ محبت کے نام پر تجارت اور سیاست نہ کرو، محبت جسموں اور اشیاء سے نہ کرو۔ محبت میں گاڑیوں، کوٹھیوں اور سٹیٹس کو نہ لاؤ بلکہ رشتوں کی قدر کرو اور مخلص جذبات کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے احترام کرو۔ محبت کو خالص ہی رہنے دواس میں ملاوٹ نہ کرو۔ محبت ایک پاکیزہ جذبہ ہے اور اس کو پاکیزہ ہی رہنے دواس میں ہوس کو شامل نہ ہونے دو۔ اگر ہماری نوجوان نسل محبت کے حقیقی معنوں سے واقف ہوجائے تو پھر زنا کاری کم ہو جائے اور بہت سی میری بہنوں کی عزت کی چادریں داغ دار ہونے سے بچ جائے اس لیے اگر کرو تو محبت ورنہ نام محبت پہ سیاست اور دغا بازی نہ کرو۔ رب العالمین ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین۔

Comments are closed.