فریضۂ زکوٰۃ کی ادائیگی

مولاناندیم الواجدی
زکوٰۃ اسلام کا ایک بنیادی رکن ہے، قرآن کریم میں اکثر جگہوں پر نماز اورزکوٰۃ کا حکم ساتھ ساتھ ملتاہے، اسلام کی بنیاد جن پانچ ستونوں پر قائم ہے ان میں سے ایک ستون زکوٰۃ ہے، حدیث شریف میں ہے: بنی الاسلام علی خمس(صحیح البخاری: ۱؍ ۱۱، رقم الحدیث: ۷) ’’ اسلام کی بنیاد پانچ چیزو ںپر رکھی گئی ہے، اس بات کی شہادت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔‘‘ روایات میں ہے کہ جب سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبلؓ کو یمن کا حاکم مقرر کرکے بھیجا تو ان سے یہ ارشاد فرمایا: ’’ تم ایک ایسی قوم کے پاس جارہے ہو جو اہل کتاب ہیں، سب سے پہلے تم ان لوگوں کو اللہ کی وحدانیت اورمیری رسالت کی گواہی دینے کا حکم دینا، اگر وہ یہ بات مان لیں تو ان کو بتلانا کہ اللہ نے ان پر رات دن میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اگر وہ یہ بات مان لیں تو ان سے کہنا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکوٰۃ فرض کی ہے، جو ان کے مال داروں سے وصول کی جائے گی اوران کے تنگ دستوں پر خرچ کی جائے گی(صحیح البخاری: ۵؍۲۰۱، رقم الحدیث: ۱۳۰۸)کسی بندے کو اس وقت تک مسلمان نہیں کہا جاسکتا جب تک وہ زکوٰۃ ادا نہ کرے، یا زکوٰۃ کو ایک فرض کی حیثیت سے تسلیم نہ کرے، قرآن کریم میں ارشاد ہے: فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوْا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکوٰۃَ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِ(التوبۃ: ۱۱) ’’اگر انھوں نے توبہ کی، اورنماز قائم کی اور زکوٰۃ دی تو وہ ہمارے دینی بھائی ہیں۔‘‘ گویا زکوٰۃ ادا کئے بغیر کوئی بھی شخص ہمارے ساتھ دینی اخوت میں شریک نہیں ہوسکتا، کتاب وسنت میں زکوٰۃ کی فرضیت پر بے شمار دلائل موجو د ہیں، اسی لیے علماء اسلام بالاتفاق یہ بات کہتے ہیں کہ جو شخص زکوٰۃ کی فرضیت سے انکار کرتا ہے وہ کافر ہے، اگر کوئی قوم متفق ہوکر یہ طے کرلے کہ وہ زکوٰۃ ادا نہیں کرے گی ، اسلامی حکومت پر لازم ہوگا کہ وہ اس قوم سے جنگ کرے اور اسے زکوٰۃ ادا کرنے پر مجبور کرے، جیسا کہ خلیفۂ راشد حضرت ابو بکر الصدیقؓ نے اپنے زمانۂ خلافت میں یہ کارنامہ انجام دیا، حالاں کہ بعض صحابہ کی رائے تھی کہ ابھی مانعین زکوٰۃ سے جنگ نہ کی جائے ،فی الحال انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے، مگر حضرت ابو بکرؓ نے پوری شدیت کے ساتھ ان کی رائے مسترد کردی، اور مکمل عزم کے ساتھ فرمایا: واللّٰہ لو منعونی عناقا بعیر کانوا یؤدونہا إلی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لقاتلتہم علی منعہا(صحیح البخاری:۵؍ ۲۰۵،رقم الحدیث: ۱۳۱۲) ’’ اللہ کی قسم اگروہ لوگ مجھے اونٹ کی رسی دینے سے بھی منع کریںگے جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے تب بھی میں ان سے جنگ ضرور کروںگا۔‘‘
جو لوگ اپنے اموال کی زکوۃ نہیں نکالتے ان کے لیے سخت و عیدیں موجود ہیں، دنیا میں جس مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کی جائے گی قیامت کے دن وہ مال عذاب کی صورت اختیار کرے گا ا ور وہ عذاب صاحب مال پر مسلط کردیا جائے گاقرآن کریم میں ارشاد فرمایا: وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّہْبَ وَالْفِضَّۃَ وَلاَ یُنْفِقُوْنَہَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَبَشِّرْہُمْ بِعَذَابٍ اَلَیْمٍ، یَّوْمَ یُحْمٰی عَلِیْہَا فِیْ نَارِ جَہَنَّمَ فَتُکْوٰی بِہَا جِبِاہُمُمْ وَجُنُوْبُہُمْ وَظُہُوْرُہُمْ ہٰذَا مَا کَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِکُمْ فَذُوْقُوْا مَا کُنْتُمْ تَکْنِزُوْنَ(التوبۃ: ۳۴- ۳۵) ’’جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور انھیں اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انھیں درد ناک عذاب کی خوش خبری سنادیجئے، جس دن اسے دوزخ کی آگ میں تپاکر ان پر رکھا جائے گا، پھر ان کی پیشانیوں ، پہلوؤں، اور پیٹھوں کو ان سے داغا جائے گا، اور ان سے کہا جائے گا یہ ہے وہ مال جسے تم نے جمع کیا تھا، اب تم اس مال کا مزہ چکھو جو تم جمع کرتے تھے۔‘‘روایات میں اس درد ناک عذاب کی کچھ اور تفصیلات بھی ہیں، ایک حدیث میں ہے: کوئی ایسا شخص جو سونا چاندی رکھتا ہو اور اس نے اس کا حق ادا نہ کیا ہو قیامت کے دن اس کے لیے آگ کی سلیں تیار کی جائیں گی اورانھیں جہنم کی آگ میں تپاکر مال والے کے پہلو، پیشانی، اورکمرکو داغا جائے گا، جب وہ ٹھنڈی ہوجائیں گی تو انھیں دوبارہ ایک دن کے لیے آگ میں رکھا جائے گا، اس دن کی مدت پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی، اور ( یہ سلسلۂ عذاب اس وقت تک چلتا رہے گا) جب تک بندوں کا فیصلہ نہیں آجائے گا، اس کے بعد وہ اپنا راستہ لے گا جنت کی طرف جانے والا یا دوزخ کی طرف جانے والا(صحیح مسلم: ۵؍ ۱۴۰، رقم الحدیث: ۱۶۴۷) ایک اور آیت میں اس درد ناک عذاب کو دوسرے انداز سے اس طرح بیان فرمایا گیا: وَیْلٌ لِّکُلِّ ہُمَزَۃِ ، الَّذِیْ جَمَعَ مَالاً وَّعَدَّدَہٗ، یَحْسَبُ اَنَّ مَالَہٗٓ اَخْلَدَہٗ، کَلاَّ لَیُنْبَذَنَّ فِی الْحُطَمَۃِ، وَمَآ اَدْرٰک مَالْحُطَمَۃُ، نَارُ اللّٰہِ الْمُوْقَدَۃُ، الَّتِیْ تَطَّلِعُ عَلَی الْاَفْئِدَۃِ(الہُمزہ:۱- ۷) ’’ اس شخص کے لیے درد ناک عذاب ہے جو عیب لگانے والا ہے اور طعنہ دینے والا ہے، جو مال جمع کررہا ہے اور گن گن کر رکھ رہاہے، اور یہ سمجھ رہاہے کہ یہ مال مجھے ہمیشہ زندگی عطا کرے گا، ہرگز نہیں! اس کو روندنے والی آگ
میں پھینک دیا جائے گا، تمہیں کیا پتہ حطمہ کیا چیز ہوتی ہے،یہ ایک ایسی آگ ہے جو اللہ کی سلگائی ہوئی ہے جو انسان کے قلب وجگر تک جھانکتی ہوگی۔‘‘ غرضیکہ زکوٰ ۃادا نہ کرنے والے شخص کے لیے بڑی سخت وعیدیں ہیں، بہت سے مسلمان نماز توپڑھتے ہیں لیکن زکوٰۃ ادا نہیں کرتے، اُن کا خیال ہے کہ یہ مال ہم نے محنت سے حاصل کیا ہے، تجارت، زراعت اور ملازمت میں سارا سارا دن مر کھپ کر ہم نے یہ پیسہ جمع کیا ہے، یہ سونا چاندی ،یہ روپیہ پیسہ ، یہ مال ومتاع سب ہماری محنتوں کا ثمرہ ہے، اس پر صرف ہمارا حق ہے، ہم دوسروں کو کیوں دیں، وہ خود محنت کرکے ہم جیسا بننے کی کوشش کیوں نہیں کرتے،اتنی محنت اورمشقت سے کمایا ہوا مال آخر ہم کس لیے ان کے سپرد کردیں، کچھ اس طرح کے خیالات ان کے دل میں پیدا ہوتے ہیں اور اہل ثروت کو زکوٰۃ کی ادائیگی سے روک دیتے ہیں، انھیں یہ خیال نہیں آتا کہ دولت کی یہ تقسیم اللہ کی طرف سے ہے، یہ ان کی بڑی غلط فہمی ہے کہ جو کچھ مال ان کے پاس ہے وہ خود ان کی محنت کے نتیجے میں حاصل ہوا ہے، حقیقت میں جو مال بھی انھوں نے کمایا ہے، خواہ کسی بھی ذریعے سے کمایا ہو وہ اللہ کے اسی حکیمانہ نظام کے تحت ہے، وہ اپنے اس نظام کے ذریعے کچھ لوگوں کودے رہا ہے اور کچھ لوگوں کو محروم کررہا ہے، ورنہ بندوں کے بس میں کہاں تھا کہ وہ مال کماتے اور جمع کرتے، تجارت پیشہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم نے دوکانیں کھول لی ہیں، کارخانے لگالئے ہیں، زراعت پیشہ لوگ اس غلط فہمی میںمبتلا ہیں کہ ہم نے زمینوں میں ہل چلایا ہے، دانہ ڈالا ہے، کھیتوں کو پانی دیا ہے، محنت کی ہے، ملازمت پیشہ لوگ سوچتے ہیں کہ ہم نے رشوتیں دے دے کر بڑی بڑی ملازمتیں حاصل کی ہیں، انھیں یہ احساس نہیں کہ جو کچھ بھی ہورہاہے اللہ کے حکم سے ہورہا ہے، زراعت ہی کو لے لیجئے، آدمی بس اتنا کرسکتا ہے کہ کھیت میں ہل چلاکر بیج ڈال دے، اسے پانی دے دے، باقی کام کون کرتاہے، اس بیج کو زمین کا سینہ چیر کر باہر کون لاتا ہے، کون اسے پودا بناتاہے، کون اس پر پھل، پھول لگاتا ہے، موسم کی تمام سختیاں جھیل کر وہ بے حقیقت دانہ ایک تناور درخت شکل اختیار کرلیتا ہے ،کیا یہ کام انسان کا ہے ایک تاجر دکان کھول کر بیٹھتا ہے گاہکوں کو پکڑ کر لانا تو اس کا کام نہیں، یہ اللہ ہی ہے جس نے انسانوں کی مختلف ضرورتیں پیداکیں، پھر ان ضرورتوں کے لیے مختلف اسباب پیدا فرمائے، پھر لوگوں کے دلوں میں ڈالا کہ وہ اسباب اختیارکرکے انسانوں کی ضرویات کی تکمیل کریں، کچھ لوگوں کے دلوں میں ڈالا کہ وہ اپنی ضرورتوں کے لیے ان کی طرف رجوع کریں، یہ پورا نظام ہے جو اللہ کا بنایا ہوا ہے وہی اس کا خالق ہے وہی مالک ہے: لَہٗ مَافِی السَّمٰوٰتِ والْاَرْضِ(البقرۃ: ۲۵۵)جو کچھ ہمارے پاس ہے وہ بھی در اصل اسی کا ہے، اگر وہ سارا مال ہم سے لینا چاہے تب بھی ہمیں کوئی عذر نہ ہونا چاہئے، یوں بھی اگر وہ چاہے تو ہم سے پورا مال چھین کر ہمیں کنگال بنا سکتاہے،لیکن وہ صرف ہم سے ڈھائی فی صد کا مطالبہ کررہا ہے، اور وہ بھی ہر روز نہیں، ہر مہینے نہیں بلکہ پورے سال میں صرف ایک بار وہ ہم سے یہ چاہتا ہے کہ ہم اپنے مال میں سے ڈھائی فی صد نکال کر غریبوں کو دے دیں، اس کے بدلے میں وہ ساڑھے ستانوے فی صد مال خرچ کرنے کی آزادی دیتا ہے، اس میں خیرو برکت کا وعدہ کرتاہے، قیامت کے دن اس کے اجر وثواب کا یقین دلاتا ہے، اس کے باوجود اگر ہم زکوٰۃ ادا نہ کریں تو اس سے بڑھ کر حرماں نصیبی اور بد قسمتی کیا ہوگی۔
اکثر سوال کیا جاتاہے کہ زکوٰۃ کا مقصد کیا ہے، زکوٰۃ کیوں لی جاتی ہے، اس کا جواب خود قرآن کریم دے چکا ہے فرمایا: خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَۃً تُطْہِّرُہُمْ وَتُزَّکِّیْہِمْ بِہَا(التوبۃ: ۱۰۳) اللہ چاہتا ہے کہ زکوٰۃ کے ذریعے مال داروں کے قلوب کا تزکیہ اور تطہیر ہوجائے، یعنی ان کے دلوں میں مال کی حرص اور اس کی طمع سے پیدا ہونے والے اخلاقی رذائل باقی نہ رہیں، اگر چہ قرآن کریم میں مال داروں کی تطہیر کا ذکر ہے لیکن حقیقت میں اس سے فقراء کے دلوں کی تطہیر بھی ہوجاتی ہے، ان کے دلوں سے مال دار بھائیوں کے خلاف حسد اورکینہ نکل جاتاہے، کیوں کہ انھیں معلوم ہے کہ مال داروں کے پاس جو مال ہے اس میں ان کا حصہ بھی ہے، وہ وقت آنے پر انھیں دیںگے، بلکہ ان کا مال جتنا زیادہ ہوگا اتنا ہی زیادہ مال وہ ہمیں دیںگے، یہ خیال انھیں مجبور کرے گا کہ وہ مال داروں کے مال میں زیادتی کی دُعا کریں، اور ان کے لیے نیک خواہشات رکھیں، زکوٰۃ سے معاشرے کی تطہیر بھی ہوتی ہے، غربت آج عالمی مسئلہ بن چکا ہے، اس مسئلے کا حل صرف زکوٰۃ میں موجودہے، اگر دنیا کے تمام مال دار مسلمان اپنے اموال کی صحیح صحیح زکوٰۃ نکال کر اس کے حقیقی مصارف میں خرچ کردیں تو معاشرہ غربت اورتنگ دستی سے پاک ہوجائے ، زکوٰۃ کا سب سے اہم مقصد یہ ہے کہ اس کے ذریعے قوم کے ان نادار اور غریب لوگوں کی مدد ہوتی ہے جو عارضی یا مستقل اسباب کی بناپر اپنی ضروریات زندگی فراہم کرنے سے عاجز رہتے ہیں، جیسے یتیم بچے، بیوہ عورتیں، معذور افراد، عام فقراء اور مساکین اور اسی طرح کے دوسرے لوگ، زکوٰۃ ان لوگوں کی اعانت کا بڑا ذریعہ ہے، مگر مذکورہ آیت میں اس مقصد کا ذکر نہیںہے، اس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ زکوٰۃ کا اصل مقصد در اصل یہی ایک فائدہ ہے باقی فائدے ضمنًا حاصل ہوتے ہیں۔
زکوٰۃ ادا کرنے سے مال کی تطہیر بھی ہوتی ہے، اس میں خیروبرکت بھی ہوتی ہے، اوراسے تحفظ بھی حاصل ہوجاتا ہے، جولوگ زکوٰۃ ادا نہیں کرتے انھیں خدا کے عذاب سے ڈرتے رہنا چاہئے ، ہوسکتا ہے یہ مال ان سے چھین لیا جائے، اوران کی مثال اس شخص کی سی ہوجائے جس کا ذکر قرآن کریم کی آیت میں موجو د ہے: اَیَوَدُّ اَحَدُکُمْ اَنْ تَکُوْنَ لَہٗ جَنَّۃٌ مِّنْ نَخَیْلٍ وَّاَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ لَہٗ فِیْہَا مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ وَاَصَابَہُ الْکِبَرُ وَلَہٗ ذُرِّیَّۃٌ ضُعَفَآئُ فَاَصَابَہَآ اِعْصَارٌ فَیْہِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ کَذٰ لِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّکُمْ تَتَفَکَّرُوْنَ(البقرۃ: ۲۶۶) ’’کیا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کرے گا کہ اس کے پاس ایک ہرا بھرا باغ ہو، جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں، جس میں ہر طرح کے پھل ہوں، اور وہ باغ عین اس وقت تیز گرم بگولے کی زد میں آکر جھلس جائے جب وہ بوڑھاہوچکا ہو اور اس کے کمسن بچے ہوں، اللہ تعالیٰ اپنی آیتیں اسی طرح تمہارے سامنے بیان کرتا ہے شاید تم غور وفکر کرو۔‘‘
nadimulwajidi@gmail.com

Comments are closed.