"دن ہیں وبا کے”

 

کومل یونس خانیوال

 

 

اس دنیا میں بسنے والا ہر ذی روح اپنی ہی دنیا کے میخانے میں مست، اپنے زوال سے بے خبر دنیا کی رنگینیوں میں رنگ چکا تھا۔ جسے نہ غروب آفتاب کا پتہ اور نہ ہی طلوع مہتاب کا؛ غفلت میں دن گزر رہے تھے، اور بے فکری میں راتیں لیکن پھر خدا کی کرنی ایسی ہوئی کے سب کو خدا یاد آ گیا۔اس ذات کریم نے نہ صرف مسلمانوں کے ضمیر کو جھنجوڑا بلکہ غیر مسلموں کی شاخیں بھی ہلا کر رکھ دیں۔

کرونا وائرس کی شکل میں جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے کر دہشت کے پنجے مضبوطی سے گاڑ رکھے ہیں۔ لوگ خوف کے مارے گھروں میں محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔تعلیمی نظام درہم برہم ہورہا ہے، آئے روز شہروں کی بندش سے ملکوں کی صورتی حال دن بدن بد سے بد تر ہوتی جا رہی ہے۔ سب سے پہلے اس وبا نے چین کو اپنی حصار میں لیا اور چین کو مالی و جانی لحاظ سے بہت ہی بڑا خسارا ہوا، پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس وبا نے پوری دنیا پر تقریبا اپنی حکومت کر لی اور کوئی ایسا ڈگر نہیں جہاں کرونا نےاپنا خوف و ہراس نہ پھیلایاہو۔ اس وبا نے چین، امریکہ،بھارت اور پاکستان میں بڑی بے دردی کے ساتھ وار کیے اور ہزاروں جانوں کا ضیاع ہوا۔”جب کوئی قوم راہ راست سے بھٹک جاتی ہے تو اللہ تعالی اس قوم پر عذاب نازل کرتا ہے”مغرب میں بسنے والی مسلمان خواتیں کے پردے پر پابندی لگا دی گئی لیکن خدا کی ذات نے انہیں ہی منہ ڈھانپے پر مجبور کردیا۔اس کرونانامی وبا نے سب سے زیادہ طلبہ کے تعلیمی نظام کو متاثر کیا ہے۔ آنلائن پڑھائی جاری تو ہے، مگر اس میں طلبہ کا فائد کم اور نقصان زیادہ ہو رہا ہے۔ غریب طبقہ بھی گھر بیٹھنے پر مجبور ہوچکا ہے جب ہر کام پر بندش ہوگی تو پھر روز غریب کے بچے بھوکے پیٹ ہی سوئیں گے۔لیکن أمراء کا ضمیر ابھی تک غفلت کی نیند سے بیدار نہیں ہوا ہے، غریب کی آواز کوئی نہیں سن رہاہے۔کرونا نے تو جیسے سب گھروں کی رونق ہی چھین لی ہے۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کے اگر ہم اس وبا سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں تو ہمیں حکومت وقت کی طرف سے دیئے گئے اصول و ضوابط پر عمل پیرا ہوکر اس سے جان چھوڑانا ہوگا، کوئی بھی معاشرہ یاملک کسی ایک انسان کی کوشش اور کاوش سے نہیں بنتا بلکہ سب کو اس کی تعمیر و ترقی کے لئے برابر کا حصہ لینا پڑتا ہے، تو بالکل اسی طرح ہم تب تک اس وبا کو خیر آباد نہیں کہہ سکتے جب تک کے ہم سب اس کے خاتمے کے لیے مل کر کام نہ کریں۔

Comments are closed.