آہ– استاذ محترم مولانا نذرالحفیظ صاحب ندوی ازہری مرحوم!! (١)

 

ایم ایس حسین ندوی

حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پِیٹوں جِگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
امیدوں کی کرنیں بجھتی جاتی ہیں، چراغوں پر سحر طاری ہوا جاتا ہے، روشنی ماند پڑتی جاتی ہے، اندھیرا گہرا ہوا جارہا ہے، چہار جانب تاریکی، مایوسی اور ناامیدی کا لامتناہی سلسلہ چل پڑا ہے، اک شمع بجھی نہیں کہ دوسری کی باری آجاتی ہے، طلوع و غروب ہوتا سورج روزانہ اپنے ساتھ جانکاہ خبر سے دل پر دستک دیتا ہے، اور پھر درد پر درما کے بجائے اک اور زخم لگا جاتا ہے، ان دنوں گھر کی چہار دیواروں میں قید ہو کر قدرتی آفات کے دوران ذہنی آزمائش، قلبی سوزش اور فکری کش مکش کا ستم جھیلا جارہا ہے، قوی کمزور ہورہے ہیں، جذبات کی دنیا اتھل پتھل ہوگئی ہے، اضمحلال ایسا ہے کہ آنکھیں کھلتی ہیں مگر خوف و ہراس کے خدشے سے بند ہوئی جاتی ہیں؛ کیونکہ دل کی دنیا بسانے والے، امیدیں وابستہ رکھنے والے، حوصلہ و عزم کا استعارہ بننے والے، نوجوانوں، کمزورں اور وبائی فضا کے درمیان کَل کی روشنی، پھوٹتی کرن اور نوپید ضیاء کی جانب انگلیاں تھام کر رہنمائی کرنے والے، زمانہ کے دہانے سے نکلتی نت نئی دشواریاں، جدید فکری مسائل، مغربی یلغار، مشرقی منافقت، علمی و عملی انحطاط، اداروں کی ناکامی، تنظیموں کی شکم پرستی، لوگوں کی موقع پرستی اور ان کی بنا پر اسلامی شعائر کی بے توقیری، صلیبی و صہیونی سازشوں کی پَرت سمجھانے والے بھی قضائے الہی پر لبیک کہے جاتے ہیں، ملک الموت کی مصروفیت اتنی بڑھ گئی ہے کہ فرصت کہاں؟ آنکھوں سے آنسو خشک بھی نہیں ہوتے کہ پھر سے اشکبار ہونے کی نوبت آجاتی ہے، جگر تھمتا ہے کہ یکا یک اک اور چوٹ لگ جاتی ہے، زخم کھلے ہوئے، وقت کا پھایا اسے مندمل کرنے سے قاصر ہے، ویسے مرنا تو آخر سب کو ہے، بقا تو صرف اللہ تعالی کو ہی ہے؛ لیکن یوں مسندیں خالی ہوئی جارہی ہیں کہ قیامت بپا ہونے کو ہے، جب دوائے دل بیچنے والے ہی اپنی دکان بڑھا چلیں گے تو پھر مریضوں کا کیا ہوگا، قرآن و سنت کو دوام ہے، ان میں شفا اور روح کی تازگی ہے؛ مگر ان افراد کی مجلسیں، روحانیت سے ہر اقوال و عمل اور قلب انسانی میں رقص عیش و غم میں قرآنی آئینہ ہی ٹوٹ جائے تو کم علم و عمل، روحانی دنیا سے عاری کس سمت چلیں گے؟ اور کیسے زمانہ کے چیلنجز کا مقابلہ کریں گے؟ بڑے رنج و الم کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اسی سلسلہ کی ایک اور کڑی آج ٹوٹ گئی، جمعہ کی مبارک گھڑیوں میں ایک شخصیت اٹھی جو دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں کلیۃ اللغۃ العربیۃ کے ڈین، کئی نسلوں کے استا، مربی، فکر ندوہ کے علمبردار، مبلغ، نمائندہ، حقیقی ترجمان، نگہ بلند سخن دلنواز، جاں پرسوز، قدیم وجدید کا امتزاج، الی الاسلام من جدید کا داعی، تدبر، تفکر، حکمت و دانش مندی کا کنایہ؛ خصوصاً بوالحسن کے رمز شناس، شارح اور مایاناز کتاب مغربی میڈیا اور اس کے اثرات کے مصنف استاذ محترم حضرت مولانا نذرالحفیظ صاحب ندوی ازہری رحمہ اللہ (١٩٣٩ء – ٢٠٢١ ء)راہی عدم ملک ہوگئے – إنا للہ وانا الیہ راجعون اللهم اغفر له وارحمه واسكنه فسيح جناته ويلهم أهله وذويه الصبر والسلوان، آمين
اور اب چرچے ہیں جس کی شوخی گفتار کے
بے بہا موتی ہیں جس کی چشم گوہر بار کے
مولانا نذر الحفیظ صاحب ندوی، ازہری ایک درنایاب شخصیت کے مالک تھے، جاننے والے جانتے ہیں کہ زمانہ میں ایسے افراد صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں، ہزاروں سال جب اپنی بے نوری پر روتی ہے تب ہی ان جیسے نگینہ جنم لیتے ہیں، علم اور روحانیت کا مرقع بہت کم لوگ ہیں، مگر آپ ان میں سے ایک تھے، علم دین میں رسوخ، عربی زبان و ادب کے ماہر، ناقد، صحافی اور متعدد کتب کے مصنف تھے، آپ کی زندگی کے مختلف میدان ہیں، جن میں سے ہر ایک پر چمکتا دمکتا رنگ چڑھا ہوا ہے، آپ کی ولادت قصبہ ململ ضلع مدھوبنی بہار میں ہوئی تھی، یہ علمی افق یہیں طلوع ہوا تھا، جس نے ایک عالم کو علمی چشمہ سے فیضیاب کیا، آپ کا بچپن پرتاپ گڑھ میں گزرا، آپ کے والد بزرگوار قاری عبدالحفيظ صاحب خود عالی نسبت رکھتے تھے، وہ مولانا احمد صاحب پرتاگڈھی سے بیعت تھے، آپ کے دادا محترم حافظ محمد اسحاق صاحب تو بانی ندوہ سید محمد علی مونگیری کے مرید و بیعت تھے، اور آپ کے نانا جان سراج الدین صاحب نے حضرت مولانا اشرف علی تھانوی سے ہی پڑھا اور انہیں سے بیعت بھی تھے، ظاہر سی بات ہے کہ ایسے اعلی گھرانے، نسبت اور تعلق کا اثر آپ پر ہونا ہی تھا، علمی و روحانی فیض سے آپ دور نہیں ہوسکتے تھے، چنانچہ مولانا نے اپنے والد کے پاس ہی مدرسہ کافیۃ العلوم پرتاگڈھ میں قرآن حفظ کیا، اور پھر مولانا ابوالعرفان خان ندوی کے مشورہ سے ١٩٥٥ء میں آپ نے دینی تعلیم کے حصول کیلئے دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کا رخ کیا، یہاں عربی اول میں ان کا داخلہ ہوا۔ دار العلوم ندوۃ العلماء میں سید ابو الحسن علی حسنی ندوی، محمد اویس نگرامی ندوی، ابو العرفان خان ندوی، عبد الحفیظ بلیاوی، ایوب اعظمی، اسحاق سندیلوی، محمد رابع حسنی ندوی، مفتی محمد ظہور ندوی اور دیگر اساتذہ سے تعلیم حاصل کی اور خوب استفادہ کیا، سنہ ١٩٦٢ء میں عالمیت اور ١٩٦٤ء میں فضیلت کرنے کے بعد ایک سال جامعۃ الرشاد اعظم گڑھ سے منسلک رہے، مگر پھر سیدی مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ کے ایماء پر دار العلوم ندوۃ العلماء میں شعبہ تحقیق و نشریات اسلام میں معاون اور ساتھ ہی بحیثیت استاذ بھی مقرر ہو گئے۔ ١٩٧٥ء میں اعلی تعلیم کیلئے مصر چلے گئے، وہاں کلیۃ التربیہ، عین شمس یونیورسٹی سے بی ایڈ کیا اور ١٩٨٢ء میں جامعہ ازہر سے عربی ادب و تنقید میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی، آپ نے اپنا جامع و محققانہ مقالہ – الزمخشري كاتبا وشاعرا – کے عنوان سے سپرد قرطاس کیا تھا، قاہرہ سے واپسی کے بعد دوبارہ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں تدریس سے وابستہ ہو گئے اور آخری سانس تک اس کی در و دیوار سے منسلک رہے، اعلی عہدے، ذمہ داریاں اور مناصب بھی سنبھالے، ندوہ کی ترقی و تعمیر دم واپسیں تک اپنا کردار ادا کیا ہے، اللہ آپ سے راضی ہو، اور جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین
میت عشق کا گر دیکھو رخ نورانی
مغفرت کی یہ نشانی ہے کہو یا نہ کہو

Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043

Comments are closed.