مفتی عبدالرزاق خان صاحب حق کے ترجمان اور ملت کے پاسبان تھے۔
مفتی عبدالرحیم قاسمی
نوابی حکومت کے خاتمے کے بعد مسلمانوں کو مایوسی و محرومی سے نکالنے اور بھوپال کی شان وشوکت کو بر قرار رکھنے میں حضرت مفتی عبدالرزاق صاحبؒ نے اہم کردار ادا کیا۔ مسجدترجمہ والی میں مدرسہ قائم کیا اور شب و روز محنت کرکے اس کوجامعہ بنادیا۔ امت کے دین و ایمان کی حفاظت اور علم کی اشاعت کا فریضہ انجام دیا۔ ان کی تقریر بادلوں کی گھن گرج کی طرح سامعین کو متاثر کرتی تھی اور باطل طاقتوں پر بجلیاں گراتی تھی، ان کی عظمت جلال سے باطل پرست خوف زدہ رہتے تھے۔
لیاقت و قابلیت فکر آخرت اور صلاحیت و صالحیت کے سا تھ اللہ تعا لی نے ان کوخاندانی شرافت اور وجاہت وجسامت سے بھی نوازا تھا۔ وہ شفیق استاد، مشفق و مہربان مربی و مصلح، کہنہ مشق مفتی اور بہتر ین خطیب و مقرر تھے۔ ان سب اوصاف میں ان کی حق گوئی اور بےباکی فائق تر تھی۔ ایمرجنسی کے دور میں نسبندی کے حرام ہونے کا فتویٰ دینا ان کی زندگی کا عظیم کارنامہ ہے۔وہ دردمند دل رکھتے تھے۔ مسلمانوں پر ظلم و زیادتی اور فسادات کے وقت متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے، مظلوموں کے سر پر ہاتھ رکھتے اور حاکموں سے سخت لب و لہجہ میں بات کرتے تاکہ انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو۔ بھوپال فساد کے وقت مسلمان قیدیوں سے ملنے جیل گئے تو ایک ایک نوجوان کو اس طرح شفقت ومحبت سے دیکھ رہے تھے گویا کہ مجموعی طور پر دیکھنا کافی نہیں ہر ایک کے سر پر ہاتھ ر کھ کر تسلی دینا چاہتے ہوں، سیہور فساد کے موقع پر اس وقت کے وزیراعلیٰ سے کہا کہ آپ کے دورہ کرنے کے بعد دوبارہ فساد کیوں ہوا تو وہ لاجواب ہکا بکا رہ گیا۔ مرکزی حکومت نے مرکزی مدرسہ بورڈ کے لئے رائے ہموار کرنے کی غرض سے دہلی میں جلسہ رکھا جس میں ہندوستان کے منتخب علماء شریک ہوئے، اکثر علماء نےمدرسہ بورڈ کےخلاف تقریریں کیں ان کا اثر زائل کر نے کے لئے ایک صحافی کھڑا ہوگیا اور علماء کے خلاف اول فول بکنے لگا، اسی وقت فوراً حضرت مفتی عبدالرزاق صاحب کھڑے ہوگئے اور اپنا ڈنڈا بلند کرتے ہوئے بآواز بلند فرمایا: او!!! فاسق و فاجر!! او!! ڈاڑھی مونڈے!! تجھے علماء کے خلاف تنقید کرنے کا کیا حق ہے؟؟
صحافی کی تقریر کا زور وشور ختم ہوا اور اس کو علماءکرام سے معافی مانگنی پڑی اور مرکزی وزیر ارجن سنگھ جی کو اعلان کرنا پڑا کہ ہم کوئی فیصلہ نہیں کر رہے ہیں ہم نے تو یہ جلسہ آپ حضرات کی رائے معلوم کرنے کے لئے منعقدکیا ہے۔ان واقعات سے ظاہر ہے کہ ان کی شخصیت گلہائے رنگا رنگ کا گلدستہ تھی، جن کی خوشبو سے اب ہم سب محروم ہوگئے ہیں۔ ہم رب کائنات کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں مقامات عالیہ عطا فرمائے، اور پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین
Comments are closed.