جدید دور میں بچوں کی تربیت

 

ازقلم:عجوہ شاز

بقول علامہ اقبال

دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر

نیا زمانہ نیا مقام پیدا کر

آج کل کے دور میں کون سا بچہ ہے جو اپنا مقام پیدا کرتا ہے؟

اگر بچوں سے پوچھا جائے تم کون ہو تو بتاتے ہیں کہ فلاں کا بیٹا ہوں.

کیا اپنا مقام پیدا کیا؟

نہیں.

میٹرک سے اول لیول تک پہنچ جاتے ہیں مگر شخصیت نہیں بنتی.

والدین اولاد کو بتائیں کہ چاہے نوکری ملے یا نہ ملے تمہیں اپنی شناخت پیدا کرنی ہے اور اس دنیا میں ستارے کی مانند چمکنا ہے.

مگر کیسے؟

والدین مل کر بیٹھیں اور بچوں کو سمجھائیں کہ انہوں نے جھوٹ نہیں بولنا، دھوکہ نہیں دینا اور دین کی تعلیمات پر عمل کرنا ہے،والدین بچوں کے اندر محبت اور توجہ انویسٹ کریں گے تو draw بھی کر سکیں گے- آجکل والدین بچوں کو آسائش تو دے دیتے ہیں مگر شخصیت نہیں بنتی۔

ایک غریب بچہ جس کی شخصیت ہو وہ آسائش حاصل کر سکتا ہے مگر آسائش ہوتے ہوئے دوسروں سے شخصیت ادھار نہیں لی جا سکتی ہے۔

اسکے علاوہ موبائل فونز اور انٹرنیٹ پر گیمز وغیرہ کے دوران جنسی کشش کی طرف راغب کرنے کے اشتہارات خود بخود آ جاتے ہیں جو بچوں کی شخصیت بگاڑتے ہیں تو والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو موبائل فونز سے دور رکھیں اور اسکے ساتھ ہی سافٹ ویئر ایکسپرٹس کو چاہیے کہ وہ انکی روک تھام کریں۔

اسی طرح میڈیا کو بھی چاہیے کہ مثبت چیزیں سکھاۓ، اپنے لباس پر توجہ دیں، اچھے پروگرام جیسے ELC وغیرہ چلائیں تاکہ بچے دین کی طرف راغب ہوں گے، میرا مقصد یہ بتانا ہے کہ ایڈوانس سوسائٹی کو اسلام کے دائرے کے اندر فروغ دیں، بچوں کے لیے دینی پروگرام، quiz اور تقریری مقابلوں کا انعقاد کر کے انکو مثبت سرگرمیوں کا انعقاد کیا جائے تاکہ بچوں کی تربیت صحیح طرح ہو سکے۔

Comments are closed.