"کوشش اور محنت”
آمنہ جبیں ( بہاولنگر)
انسان ازل سے اس سوچ میں جکڑا ہے کہ قسمت نے یہ کر دیا وہ کر دیا۔ اور قسمت یہ کر دے گی وہ کر دے گی۔ لیکن ایک چیز انسان ہمیشہ سے پیچھے چھوڑتا رہا ہے وہ کیا ہے "کوشش،تگ ودو” ہاتھوں پاؤں مارنا کچھ پانے کے لیے دوڑنا یہ کوشش ہے۔ کبھی آپ نے سفر کرنا چاہا ہو اور گاڑی چل کر آپ کے پاس آئی ہو۔ کیا ایسا کبھی ہوا ہے۔ کبھی آپ تھکے ہارے ہوں اور کھانا بن کر سامنے آ جائے اور خود منہ میں ڈل جائے ایسا کبھی ہوا ہے؟ ” نہیں ہوا” اٹھ کر بنانا پڑے گا گاڑی تک جانا پڑے گا۔ پھر تلاشِ منزل مکمل ہو گی۔ یہ نہیں ہے کہ بیٹھے بٹھائے مل نہیں سکتا مل سکتا ہے۔ مگر کامیابی کا سفر کوشش میں رکھ دیا گیا ہے۔ آپ کے راستے تاریک ہیں تو کیا آپ یہ تصور کر چکے ہیں کہ یہ تاریک ہی رہیں گے۔ یہ قسمت میں لکھ دیا گیا ہے۔ آپ خود سے پوچھیں بہت سے ایسے مسلئے ہوں گے معملات ہوں گے جن کو آپ یہ کہ کر سلا دیتے ہیں۔ حل کرنے سے انکاری ہوتے ہیں۔ کہ قسمت میں ہوا تو ہو جائے گا۔ قسمت میں لکھا ہوا تو یہ اندھیریں چھٹ جائیں گے۔ یہ غبار دھل جائیں گے۔ کوشش نہیں کرو گے تو بہاریں آئیں گی۔ کوشش نہیں کرو گے تو پھول کھلیں گے۔ کیا ایسا کچھ سوچتے ہو اگر سو چتے ہو تو فضول سوچتے ہو۔ جیسے بیج کے بغیر پہلی پھوٹتی کونپل کا وجود نہیں اور غذایت کے بغیر درخت کا بننا ناممکن ہے۔ اسی طرح کوشش کے بغیر کامیابی اور منزل نہ ممکن ہے۔ کیوں اپنے راستوں کے تاریک ہونے پہ خود کے غمگین ہونے پہ افسردہ ہو مایوس ہو اور کال کوٹھری میں بند ہو گئے ہو۔ اٹھو کوشش کرو اپنے راستوں کے کانٹے ہٹانے کی۔ آپ چاہتے ہیں نہ کہ کوئی خضر مل جائے۔ آپ کو کوئی رہنما مل جائے تو سنو ! رہنما تب ملتا ہے جب راستہ معلوم ہو منزل معلوم ہو اور سب سے بڑھ کر منزل کو پانے کی چاہ اگر موجود ہو۔ تب خضر آیا کرتے ہیں۔ تب دوستیاں مقدر میں لکھ دی جاتی ہیں۔ اور جب منزل کی چاہ ہو گی تو تلاش اور کوشش آپ کے وجود میں کوٹ کوٹ کر بھر دی جائے گی۔ آپ کی راتیں آپ کے لمحے اس چاہ کو پانے کے لیے بے تاب رہیں گے۔ آپ کے بدن سے پسینے کی بوندیں آپ کو تھکان نہیں سکون دیں گی۔ اور مزید بڑھنے پہ اکسائیں گی۔ یاد رکھو! اس دنیا کی تسخیر سے لے کر اپنی ذات کی فتح تک ہر چیز کوشش اور چاہ میں ہے۔ رب کی منشاء آپ کی کوشش اور چاہ کے مطابق ہو جائے گی۔ کیونکہ جو تلاش اور کوشش میں صحراؤں، ریگستانوں اور کھلیانوں میں بھٹکتے ہیں۔ پھر پھول اور باغات ان کا استقبال کرتے ہیں۔ جیسے ٹھنڈا آٹا تندور کی گرمائش میں جھلس کر روٹی بنتا ہے۔ اسی طرح آپ کا ٹھنڈا بدن جب تک کوشش اور محںنت کی تپش میں نہیں پکے گا۔ آپ کامیاب نہیں ہوں گے۔ چھوڑ دیجیے ایک دفعہ قسمت کے کھیل کو اس پہ یقین کر لیں کہ کوشش کامیابی ہے۔ نہیں کرنا چاہتے ہیں تب بھی کر لیں کہ کوشش کامیابی کا زینہ ہے۔ پہاڑ سرک سکتے ہیں۔ راستے سہل ہو سکتے ہیں۔ کانٹے پھول بن سکتے ہیں۔ ویرانے بہار بن کر مہک سکتے ہیں۔ آنکھیں سکوں پا سکتی ہیں۔ اگر کوشش ہو۔ یہ سوچیں بس، جب یہ سوچیں گے تو آپ دوڑیں گے نہیں رینگتے ہوئے کوشش کریں گے۔ اور اتنی کوشش کریں گے کہ کامیابی سامنے ہو گئ آنکھوں کے اور آپ حیران رہ جائیں گے۔ کہ یہ کیا ہوا۔ تب آپ یہ سوچنے پہ مجبور ہو جائیں گے کہ یہ قسمت ہے یا محنت؟ یقیناً وہ محنت ہی تھی جو عرش پہ پسند کر لی گئی اور قسمت میں کامیابی کا سفر لکھ دیا گیا۔
کیونکہ قرآن کہتا ہے کہ
‘اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے”( سورتہ النجم39)
بس یہ اس پہ بھروسہ کریں اور اپنے راستے منتخب کر کے نکل جائیں تلاش کو، بھٹکنے کا ڈر نہ رکھنا نیت صاف رکھنا۔ تھامنے والے مل جائیں گے۔ خضر مل جائیں گے۔اور کامیابی مقدر میں لکھ دی جائے گی۔ ارے اپنے ہاتھوں پہ اپنے بدن میں پوشیدہ طاقت انرجی پہ کوئی شک ہے۔ رب کی تخلیق پہ کوئی شک ہے؟ ” نہیں نہ” تو پھر چھوڑو قسمت کے چکر کو نیت صاف کرو اور کوشش کی دہلیز پہ قدم رکھ لو راستے روشن پھولوں سے مزین اور کامیابی سے بھرپور ہوں گے۔
( ان شاءاللہ)
Comments are closed.