آہ – – استاد محترم مولانا نذرالحفیظ صاحب ندوی ازہری مرحوم!! (٢)
محمد صابر حسین ندوی
رو میں ہے رخشِ عمر کہاں دیکھیے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں
مادر علمی دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں مولانا کی خدمات نصف صدی پر محیط ہے، اگر آپ کی سوانح حیات لکھی جائے تو آپ بیتی سے زیادہ جَگ بیتی کہلائے، عالم عرب، یورپ اور ملک عزیز کی گرد چھاننے والے، فکری طور پر ہمیشہ اسلام کیلئے سینہ سپر رہنے والے بھلا کیوں نہ ایک داستان ہوں! کئی دماغوں کا ایک دماغ، کئی اعلی مفکرین کا مجموعہ اور کردار و سیرت کا غازی یہ حق رکھتا ہے؛ کہ اس کی زندگی کی کد و کاوش پر صفحات سیاہ کئے جائیں، جو سیاہی روشن منار بنے اور نئی نسلیں ان کی روشنی میں پیش قدمی کریں، یقیناً آپ کی علمی و فکری اور عملی جہد مسلسل پر لکھا جائے گا، اہل قلم آپ کی بوقلموں شخصیت کی ایک ایک نوک و پلک لوگوں کے سامنے لائیں گے، جو اپنے آپ میں ایک دفتر اور نئی نسل کیلئے علمی مشعل ہوگا، واقعہ یہ ہے کہ مولانا کی زندگی ایک فکری زندگی تھی، آپ قلم کے بادشاہ تھے، ادبیت خواہ عربی ہو یا اردو رَچ بَس گئی تھی، سینکڑوں عربی، اردو کے اشعار، جملے، کہاوتیں، قصے اور باریکیاں آپ کو زبان زد تھیں، برجستہ جب اشعار کہتے یا کسی کا تعارف کرواتے ہوئے خاکہ نگاری کرتے اور ان میں اشعار چست کرتے تو لگتا بَس یہ شعر اسی موقع کیلئے کہا گیا ہے، آپ کا ذوق عالی تھا، تحریر میں چاشنی پائی جاتی تھی، جو ہر کس و ناکس کو کھینچ لاتی، سلاست، روانی میں گویا بہتی ندی کے مثل تھے، پانی کا ایک سطح جو خموش بہتا جاتا ہے اور اپنی منزل پاکر ہی رہتا ہے، آپ کی جملہ بندی بھی غضب کی تھی، نامانوسیت، اجنبیت سے دور اور فصاحت و بلاغت کے قریب – آپ کو تاریخ سے بھی بہت لگاؤ تھا، تاریخی واقعات اور اسلامی تحریکوں کے قیام، کامیابی و ناکامیابی کا خوب تجزیہ کیا کرتے تھے، عالم عرب کے احوال سے تو واقف ہوتے اور طلباء کو بتاتے ہی تھے، خاص طور پر ہندوستان میں تحریک سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ کا تذکرہ بار بار کرتے تھے، ان کی شہادت، خلافت کی کوششیں اور برطانوی سامراج کی زیادتیاں بیان کرتے نہیں تھکتے تھے، اسی طرح مولانا کی زندگی میں صحافت کا بڑا دخل تھا، آپ کو ابتدا سے ہی صحافت سے خاص دلچسپی رہی ہے، مصر کے زمانۂ قیام کے دوران ریڈیو مصر سے وابستہ تھے، بعد میں پندرہ روزہ تعمیر حیات- لکھنؤ کے مدیر مسئول بھی رہے، پندرہ روزہ الرائد-(عربی) ہفت روزہ ندائے ملت اور سہ ماہی کاروان ادب کے ادارتی رکن رہ چکے ہیں۔ ان جرائد میں مولانا کے سیکڑوں مضامین شائع ہوئے ہیں جو موضوع، فکر اور مواد کے اعتبار سے یکتا ہیں، آپ قلم کے شہ سوار تھے، قلمی زندگی ہی آپ کی محبت تھی، چنانچہ آپ نے متعدد کتابیں بھی تصنیف فرمائی ہیں جن میں سے اہم یہ ہیں: "مغربی میڈیا اور اس کے اثرات” – – یہ ایک کتاب نہیں مغربی دنیا کی سازشوں، چالبازیوں اور عیاریوں پر مبنی دستاویز ہے، تحقیق سے لبریز، شب و روز کی محنت اور قلب و جگر پر مشتمل یہ کتاب آپ کی شناخت کے طور پر پیش کی جاتی تھی، شاید ہی کوئی ندوی یا صاحب ذوق ہو جس نے مغربی افکار کو موضوع بنایا ہو اور اس نے یہ کتاب نہ پڑھی ہو، اس کتاب کے متعدد زبانوں جیسے عربی، انگریزی، ملیالم، بنگلہ وغیرہ میں ترجمے ہوئے ہیں، اسی کے ساتھ اور بھی کتابیں بھی ہیں جو قابل مطالعہ ہیں، مثلاً عربی میں "الإعلام الغربي وتأثيره في المجتمع” جو انگریزی میں Western Media and its impact on society کے عنوان سے شائع ہوئی۔ "الزمخشري كاتبا وشاعرا” یہ پی ایم اے کا مقالہ ہے- سیدی مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ کی زندگی اور فکر پر روشنی ڈالتی کتاب” أبو الحسن علي الحسني الندوي كاتبا ومفكرا” اور "مجالس علم و عرفاں” جس میں رمضان المبارک کے دوران عشاء کے بعد مفکر اسلام کی مجالس کے ملفوظات ہیں وغیرہ – – – ان کے علاوہ ایک بڑا علمی سرمایہ ان کے مقالات و مضامین کی شکل میں ہے جو مختلف رسائل و جرائد کی شکل میں شائع ہوئے ہیں، مولانا کی عربی زبان و ادب کی خدمات کے اعتراف میں ٢٠٠٢ء میں صدر جمہوریہ ایوارڈ بھی مل چکا ہے –
حقیقت یہ ہے کہ آپ کی وفات علمی دنیا خصوصاً ندوہ کا ایک ایسا خسارہ ہے جس کی تلافی قریبی زمانے میں ممکن نہیں لگتی، مخلص، دل وجان نچھاور کرنے والا اور ادارے کو ہر صورت مقدم رکھنے والا کہاں سے لائیں گے؟ بالخصوص حسنی خاندان کیلئے محبت سے بڑھ کر عقیدت کی کیفیت رکھنے والے اور ہر محاذ پر ڈَٹ کر کھڑے رہنے والے تھے، یوں کہا جاسکتا ہے آپ اس وقت مرشدی سید محمد رابع حسنی ندوہ مدظلہ کے دست راست تھے، مضبوط بازو اور فدائی تھے، راقم کو مولانا سے ذاتی طور پر بھی ایک خاص لگاؤ تھا، درجوں میں علمی و فکری محاضرے، مفکر اسلام رحمہ اللہ کی حسین یادیں، ذریں اقوال، واقعات اور پھر ان سے زندگی میں رہنمائی کے گُر بتانا آپ ہی کا خاصہ تھا، عربی ہو یا اردو سادہ، فصیح زبان استعمال کرتے تھے، جب بھی بولتے علم کے موتی جھڑتے، اخلاص و سوز جگر کی تپش محسوس ہوتی، طلباء کی تربیت اور ان کی فکری اٹھان پر بات کرتے تو صاف نظر آتا کہ ایک ایسا اتالیق بات کر رہا ہے جس کے دل میں نوجوانوں کا مستقبل سنوارنے اور اسلامی راہ میں علمی مجاہدین تیار کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے، ندوہ میں جب تعلیمی سال کا آغاز ہوتا ہے تب اساتذہ کرام کی جانب سے موٹیوشنل تقریریں کروائی جاتی ہیں، ان میں مولانا کا بیان دراصل پاجا سراع زندگی کا خلاصہ ہوا کرتا تھا، آپ محنت کرنے اور اپنے وقت کو ضائع نہ کرنے؛ نیز دوست عمدہ منتخب کرنے پر زور دیتے تھے، کہتے تھے خربوزا خربوزے کو دیکھ کر رنگ بدلتا ہے، اس لئے قدیم طلباء کو متنبہ کرتے تھے کہ دیکھو بھائی! انہیں خراب مت کرنا، آپ پوری ضمانت کے ساتھ فرماتے تھے کہ آپ میں جو کمی ہو اسے دور کیجئے! وقت کا انتظار مت کیجئے! سابقہ اداروں میں آپ نے کیا کیا اور وقت کیسے برباد کیا وہ سب دماغ پر لاد کر مت بیٹھ جائیے! ندوہ نے آپ کو موقع فراہم کیا ہے، عظیم الشان علامہ شبلی لائبریری آپ کی منتظر ہے، اگر آپ اپنی کمی پر صرف ایک مہینہ تسلسل کے ساتھ محنت کر لیں تو آپ دیکھیں گے کہ وہ کمی دور ہوچکی ہے؛ مزید یہ کہ آپ کو کسی کو اپنا آئیڈیل، نمونہ بنائیں، آپ اس بات پر خوب زور دیتے تھے، زندوں میں نہ سہی کم سے کم کسی سابق شخصیت کو منتخب کرنے پر بھی اکتفا کرنے کی بات کہتے، درجے میں مغربی افکار، میڈیا کی سازشیں اور ان کی تاریخ جب بیان کرتے تو اذہان و قلوب پر وا ہوتا کہ یہ مغرب اپنی چمک میں کتنے نوکیلے دانت رکھتا ہے، آپ مرشدی حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی دامت برکاتہم کی مجلس میں تشریف فرما ہوتے تو اکثر ہم طلباء کیلئے استفادے کی مزید گنجائش نکل آتی، ادب و تواضع اور انکساری دیکھ کر لگتا کہ واقعی آپ شریف طبیعت اور پاک روح کے مالک ہیں، آواز کی پستی، مٹھاس اور انداز تو اتنا نرالا تھا کہ کسی کا بھی دل موہ لے، آپ کی چال ڈھال سے رعب اور ایک خاص شخصیت کا پتہ چلتا تھا، طلباء کیلئے آپ چلتا پھرتا کتب خانہ تھے، حوصلے دینا تو گویا ان کا مزاج ثانی تھا، آہ ایسے خورد نواز کہاں ملیں گے؟ غلطیوں پر ٹوکنے والے لیکن پھر آگے بڑھنے کی تلقین کرنے والے، حوصلہ توڑنے کے بجائے کمیوں میں کوئی ایک اچھائی تلاش کر کے اسے نمایا کرنے والے اب کہاں تلاش کریں؟ دل بار بار گواہی دیتا ہے کہ آپ طبت حیاً و طبت میتاً کے مصداق تھے، جمعہ کی مبارک ساعتيں بھی شاہد ہیں کہ یہ پاکباز روح عنداللہ خاص مقام رکھتی ہے، ندوہ اور اہل ندوہ تو تعزیت کے مستحق ہیں ہی ساتھ ہی ایک عالم سوگوار ہے، دیکھو کیا شخص زمانے سے اٹھا ہے – اللہ آپ کی مغفرت فرمائے، سیآت کو حسنات سے مبدل فرمائے اور مادر علمی دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کیلئے نعم البدل عطا کرے – آمین
زندگانی تھی تری مہتاب سے تابندہ تر
خوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفر
مثل ایوان سحر مرقد فروزاں ہو ترا
نور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو ترا
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
Comments are closed.