مفتی محفوظ الرحمان عثمانی کی یادمیں چندباتیں
محمدصدرعالم ندوی ،ویشالی
مفتی صاحب کومیں اچھی طرح سے جانتا اور پہچانتا تھا تقریبا پندرہ سالوں سےمیرےتعلقات تھے،وہ بھی مجھےنام اورشکل وصورت سےجانتےاورپہچانتےتھے،شایدمیری پہلی ملاقات بٹلہ ہاؤس،دہلی کےآفس میں ہوئی تھی،بہت محبت سےملے،ایک ہی ملاقات میں مفتی صاحب سےمیں بہت مانوس ہوا،باتوں باتوں میں حضرت مولانا سیدمحمدشمس الحق صاحب سابق شیخ الحدیث جامعہ رحمانی مونگیرکاتذکرہ آگیا،مفتی صاحب نےحضرت شیخ الحدیث صاحب کانام ادب سےلیا ،اورذکرخیربھی کیا،اسی پربس نہیں کیا،بلکہ حضرت شیخ الحدیث صاحب کی حیات وخدمات پرمضامین کامجموعہ "ضیائےشمس”مرتب محمدصدرعالم ندوی ،کےکئی نسخےبھی قیمتاخریدا اورمیری ہمت افزائی کی ،ساتھ میں کھاناکھلایا،پھرواپس آگیا،جب تک میراقیام دہلی میں تھابرابرمفتی صاحب سےملاقات ہوتی تھی،مفتی صاحب کی آفس ہرآنےجانےوالوں کےلیےکھلی رہتی تھی ،دسترخوان بھی وسیع تھا اس کےلیےغیروں سےکچھ سننابھی پڑتالیکن مفتی صاحب کسی کی پرواہ نہیں کرتے،بلکہ اپنےعزم وحوصلہ کےساتھ مشن میں لگےرہتے،اپنےمشن کی کامیابی کےلیےبیرون ملک کابہت دورہ کیا،مصیبتیں جھیلیں ،لیکن تعلیمی مشن کو آنچ نہیں آنےدیا،میں سمجھتاہوں کہ بہار کےوہ سرسیدتھے،بہارکےسوپول ضلع کےمدھوبنی گاؤں میں جامعۃ القاسم کےنام سےایک ادارہ کی بنیادرکھی ،دیہات کےلوگوں کوجہالت سےنکالنےکاعزم کیا،اوربہت ہی کم وقت میں ادارہ کافیض لوگوں تک پہونچا،ایک مرتبہ مجھےبھی مفتی صاحب کےمدرسہ میں حاضری کاموقع ملا،پوراسیلابی علاقہ ہے،جب بھی بارش کاموسم آتاہےپوراکوسی کاعلاقہ سیلاب کےزدمیں آنےلگتاہے،مفتی صاحب نےایسی جگہ پرادارہ کھول کرکےوہ کارہاۓنمایاں انجام دیاہے،جوآب زرسےلکھنےکےلائق ہے،مفتی صاحب نےخودسےمدرسہ گھمایا،عالیشان مسجد کودیکھا ،عہدسلاطین کی مسجدیں یادآگئیں،خوب ضیافت کی،اورواپسی کے وقت زادراہ بھی دیا،مفتی صاحب ضیافت وزادراہ کےمعاملہ میں مثالی تھے، مفتی صاحب عزم وحوصلہ کےپہاڑتھے،جس کام کو چاہ لیتےاس کو پایہ تکمیل تک پہونچاکرکےہی چھوڑتے،اورکسی لومةلائم کی پرواہ نہیں کرتے،ایک مرتبہ کاواقعہ ہےکہ آج سےدس سال قبل اےاین سنہاانسٹی ٹیوٹ پٹنہ میں ،”بہارمیں علم حدیث” کےعنوان پرمفتی صاحب نےایک سیمینارکروایاتھا اس سیمینارمیں مفتی صاحب کی زندگی پر”متاع زندگی”کےنام سےکتاب کااجرابھی ہواتھا ،اس پروگرام میں وزیراعلی بہارمحترم جناب نیتش کمار کوبھی آناتھا لیکن وہ کچھ مشغولیت کی وجہ سےنہ آسکے،میری یادداشت کےمطابق مولاناانیس الرحمان قاسمی سابق ناظم امارت شرعیہ پٹنہ،مولانامحمدشاہد امین عام مدرسہ مظاہرعلوم سہارنپور،مولانا ابوالکلام قاسمی شمسی سابق پرنسپل مدرسہ اسلاميہ شمس الہدی پٹنہ،علی انورصاحب سابق ایم پی اشفاق کریم صاحب کٹیہارمیڈیکل کالج بہار ،راقم الحروف کےعلاوہ اوردیگرحضرات بھی تھے ،اشفاق کریم صاحب کی گفتگو پرکسی نےاعتراض کیا جسکی وجہ ہنگامہ کی نوبت آگئی،مفتی صاحب نےاپنی حکمت ودانائی سےہنگامہ پرکنٹرول کیا اوربحسن وخوبی پروگرام اختتام کوپہونچا،مفتی صاحب کوپروگرام وسیمینارکرانےکی بےانتہاصلاحیت تھی جس کی وجہ سے ملک وبیرون ملک کی بڑی بڑی ہستیوں کومدرسہ میں حاضری کاموقع ملا،مفتی صاحب اپنےاکابرسےبہت محبت کرتے ،اوراپنےعزیزوں کوبھی نہیں چھوڑتے،مفتی صاحب کوجب بھی فون کرتابہت محبت سےبات کرتے اورہربارمحبت میں اضافہ ہی ہوتا ،آخری بات چیت رمضان سےقبل ہوئی تھی ،میں نےملاقات اوربہارمیں علم حدیث کےعنوان سےمضامین کامجموعہ شائع کرنےکاخیال ظاہرکیاتھا،مفتی صاحب نےکہاکہ پٹنہ آتاہوں توملونگا،کسےپتاتھاکہ مفتی صاحب سے یہ آخری گفتگو ہوگی ،ورنہ دل کھول کربات کرلیتا،پھرمفتی صاحب کی بیماری کی خبرآٸ ،ادھردعاکےلیےہاتھ اٹھا،ادھرموت کےفرشتہ تیاری کررہےتھے،مفتی صاحب کاعلاج ڈاکٹرزیڈآزادکی سخت نگرانی میں پٹنہ کےمیڈاراسپتال میں ہورہاتھا بالآخر موت کےفرشتہ نےاپنےمقررہ وقت پراپناکام کرہی دیا ،اورمفتی صاحب مختصر علالت کےبعد23مئی 2021دس شوال١٤٤٢ھج بروز اتوارشام کےساڑھےپانچ بجےبہت ساری خواہشوں وآرزووں کےساتھ اللہ کو پیارے ہوگئے اناللہ واناالیہ راجعون جسدخاکی کوآبائی گاؤں مدھوبنی سوپول بذریعہ ایمبولینس لایاگیا،کل ہوکرکےصبح میں مفتی صاحب کےبڑےبیٹےقاری ظفراقبال مدنی نےنمازجنازہ پڑھاٸ،اورہزاروں لوگوں کی موجودگی میں اپنےقائم کردہ جامعہ کےاحاطہ میں سپردخاک کیے گئے،اوراپنی یادوں کےساتھ ہمیشہ ہمیش کےلیے ہم سے جدا ہوگئے۔
تمہیں کہتاہےمردہ کون تم زندوں کےزندہ ہو
تمہاری خوبیاں زندہ ،تمہاری نیکیاں باقی
مفتی محمدمحفوظ الرحمان عثمانی بن مولانا ایوب رحمانی بن منشی مظہرحسین کی پیدائش پندرہ اگست 1996کو سوپول ضلع کےمدھوبنی گاٶں میں ہوٸ،ابتدائی تعلیم اپنےوالدسےحاصل کی ،اس کےبعدمختلف مدرسوں میں تعلیم حاصل کرنےکےبعدمدرسہ مظاہرعلوم سہارنپورکارخ کیا اوریہیں سےسندفراغت 1988میں حاصل کی ،فراغت کےبعدکچھ دن گجرات میں پڑھایا اس کےبعدبہارواپس آگۓ،اوراپنےآباٸ گاٶں مدھوبنی میں سولہ شعبان ١٤٤٠٩ھج مطابق 25مارچ 1989کوجامعتہ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ کی بنیادرکھی جواب تناوردخت کی شکل میں کھڑاہےاورمفتی صاحب کی لازوال قربانیوں کی غمازی کررہاہے ،اللہ ان کی غلطیوں کومعاف فرمائے ،ان کی نیکیوں کوقبول کرےاورجنت میں ان کواعلی مقام نصیب کرے-آمین!یہی ہماری دعاہے
Comments are closed.