کورونا ویکسین: غلط فہمی اور حل
شاہنوازبدرقاسمی
اس عالمی وباء سے بچاؤ کا واحد حل اب ویکسین کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے، لوک ڈاؤن، جسمانی فاصلے، سینیٹاذر وغیرہ وقتی حل ہے، جس پر اب بڑی تعداد میں لوگ عمل بہی کررہے ہیں، یہ حقیقت ہے کہ احتیاط کے بغیر اس بیماری سے بچنا مشکل ہے_
اب جبکہ دوسری لہر ختم ہونے اور تیسری لہر کی تیاری شروع ہوچکی ہے ایسے میں ویکسین کو لیکر ہمارے ملک میں کئی طرح کے مسائل اور مشکلات پیدا ہوگئے ہیں، ہر آدمی ایک دوسرے کو مطمئن کرنے اور سمجھانے میں لگے ہیں لیکن اس کے باوجود غلط فہمی اور افواہوں پر قابو پانا بظاھر مشکل نظر آرہا ہے_
کورونا کی دو لہروں نے ہمیں کتنا نقصان پہنچایا اس کا اندازہ لگانا ناممکن ہے-
ویکسین کو لیکر جو غلط فہمی ہے اسے مسلم اور دلت برادری سے جوڑ کر بعض علاقوں میں مذہبی رہنماؤں کے ذریعے ذہن سازی بہی سرکار نے شروع کردی ہے لیکن کیا اس طرح ویکسینیشن بیداری مہم کو کامیاب بنایا جاسکتا ہے، ہمارے ملک میں جب تک ہر مسئلے پر خوب سیاست نہ ہو سسٹم میں بیٹھے لوگوں کو سکون نہیں ملتا، اس ناکامی کیلئے عوام سے زیادہ سرکار ذمے دار ہے، آخر لوگ ویکسین لگوانے کیلئے تیار کیوں نہیں ہے، بھارت کے علاوہ دوسرے ممالک میں آخر یہ غلط فہمی کیوں نہیں پھیل رہی ہے، خبروں کے مطابق کئی ممالک نے کورونا سے بچاؤ کیلئے اپنے شہریوں کو ویکسینیشن پروگرام مکمل کرچکے ہیں اور وہاں کے حالات بہی کافی حد تک بہتر ہیں لیکن ہمارے ملک میں اب تک صرف تین فیصد لوگ ہی اس سے فائدہ اٹھا پاۓ ہیں، ہمارے وزیر اعظم سے لیکر گاؤں کے مکھیا اور وارڈ ممبران تک کی قابلیت اور حکمت عملی سے ہم سب بخوبی واقف ہیں، جب دیش کا راجا ہی بے وقوف اور کنفیوژ ہو تو عوام میں کنفیوژن پھیلنا لازمی ہے_
ہمیں ایک ذمے دار شہری کے ناطے اس کنفیوژن کا شکار نہیں ہونا ہے اور کورونا سے مستقل بچاؤ کیلئے ویکسین ضرور لینا ہے لیکن لیں بہی تو کیسے جب طبی مراکز پر ویکسین ہی دستیاب نہیں ہے پہر عوام سے کیا شکایت، سرکار اور سرکاری انتظامیہ کو خود احتسابی سے کام لینا چاہیے اور عجلت پسندی میں بیان بازی سے خود گریز کرنا چاہیے_
Comments are closed.