آہ – – مولانا بشیر صاحب قاسمی (کھردون) مرحوم!!
محمد صابر حسین ندوی
ہر شے مسافر، ہر چیز راہی!
کیا چاند تارے، کیا مرغ و ماہی
عالم آب و خاک سے مہ پاروں اور شہ پاروں کی رخصتی جاری ہے، باغ انسانی کے گل و غنچے موسم خزاں کی طرح جھڑتے جاتے ہیں، سر عیاں اپنا وجود لئے خدائے لم یزل کی بارگاہ میں حاضر ہوئے جاتے ہیں، پیغام محبت، انسانیت اور سحر زندگی کا پتہ دینے والے باری باری مالک حقیقی کی طرف رواں ہے، گویا اک قافلہ جو بنا کسی پڑاؤ، راحت و آرام اور سکون کے چلتا جارہا ہے، اس نے منزل اتنی قریب دیکھ لی ہے کہ اب کہیں ایک پل کی تاخیر منظور نہیں، دیوانہ وار اور پروانہ وار اڑے جاتے ہیں، جیسے شمع جلی ہے اور پروانے کود پڑے ہیں، مگر اپنوں کو غم جاں دیے جاتے ہیں، قلب کو زخمی اور ناسور جگر کئے جاتے ہیں، پچھلوں کی یاد اور نمونہ اسلاف کی رحلت مزید غمگین کر دیتی ہے، پچھلے کچھ دنوں میں کشمیر سے لیکر کنیا کماری تک متعدد سفید پوش، خرقہ پوش علماء، صلحاء اور دعاۃ وفات کی لذت چکھ چکے ہیں، جید علماء جن سے ایک عالم سیراب ہورہا تھا، انسانیت کا چشمہ صافی جن کے دہن مبارک سے بہہ رہا تھا، جو عوام کیلئے مشعل بن کر راہ ہدایت کا کام کر رہے تھے وہ بھی گزر گئے، نہ جانے کیسے کیسے راہ رو اور راہ گزر داغ مفارقت دے گئے اور کیسوں کیسوں کی جدائیگی کا غم ابھی جھیلنا باقی ہے، سینہ پرخار ہے، چھلنی چھلنی ہے، خود شہر بھوپال اپنے درنایاب، گوہر یکتا سے بچھڑتا جارہا ہے، کئی شخصیات پیوند خاک ہوگئی ہیں، قحط الرجال میں ایسوں کا ساتھ چھوڑ جانا آنکھیں اشکبار کئے دیتا ہے، جو لوگوں کے دلوں کا مداوا ہوا کرتے تھے، مصائب میں حل اور صحراء میں سائبان ہوا کرتے تھے، جو استاذ و اتالیق تھے، جن سے نسلوں نے تربیت پائی، جنہیں دیکھ کر زندگی کے گُر سیکھے، وقت کی نزاکت اور ستم ظریفی کے مابین زندگی کہ شہ رگ کو باقی رکھنا، تازم دم اور سبز طبیعت رہنا سیکھا؛ حتی جان و عزیز مادر علمی دارالعلوم تاج المساجد بھوپال کو بھی گزشتہ کل اپنے ایک سابق خدمت گزار اور سینکڑوں کے معلم و مربی مولانا بشیر صاحب قاسمی کھردون، ایم پی – کی وفات کا غم جھیلنا پرا – إنا للہ وانا الیہ راجعون اللهم اغفر له وارحمه واسكنه فسيح جناته ويلهم أهله وذويه الصبر والسلوان – آمین – اگرچہ عمر و عوارض میں یہ قابل توقع حادثہ تھا؛ لیکن کسے پسند کہ وہ جگر کو کسی عمر میں بھی کاٹے، دل کے ٹکڑے کرے اور اس کا درد برداشت کرے، خصوصاً جن کی زندگی تابندہ اور اس شعر کے مصداق تھی:
مرے گلو میں ہے، اک نغمہ جبریل آشوب
سنبھال کر جسے رکھا ہے لا مکاں کیلئے
مولانا کی وفات نے زمانہ طالب علمی کے مختلف دریچے کھول دئے، یادوں کی اک بارات آنکھوں کے سامنے ہلچل کرنے لگی، ماضی کے پردے چاک ہونے لگے، وہ سارے گزرے ہوئے لمحات یاد آنے لگے جن میں آپ نے شفقت و محبت، نرمی و گرمی کا معاملہ کیا تھا، بلکہ کہنا چاہئے سراپا نرمی و رافت کا سلوک کیا تھا؛ کیونکہ (راقم کا یہ ذاتی تاثر ہے) انہیں ہمیشہ بے ضرر پایا، بلند آواز میں نرم خو طبیعت کا مالک پایا، ایسے میں اک مشفق، رحمدل، ہمدرد اور خورد نواز کی تصویر دل و دماغ میں بار بار گردش کرنے لگی، متوسط قد، قدرے ثقیل جسم، باریش و سفید ریش بھرا ہوا چہرہ، بڑی بڑی آنکھوں اور آنکھوں پر موٹے اور قدیم طرز کی عینک، دیوبندی ٹوپی (چونچ دار)، سفید کرتا اور ٹخنے سے اوپر پاجامہ، ہاتھوں میں کبھی کبھی عصا، درمیانہ چال، پیروں کو پھیلا کر بارعب چلنا، گرجدار آواز والی شخصیت رونما ہونے لگی، مولانا شعبہ حفظ سے تعلق رکھتے تھے اور مطبخ کے ذمہ دار بھی تھے، اس لئے درسیات پڑھنے کا موقع نہیں ملا؛ لیکن وہ معلمی کا مقام پانے کا حق رکھتے ہیں، تقریباً چھ سال ہمارے دو نگراں میں سے ایک تھے، پہلے استاذ محترم حضرت مولانا محبوب عالم ندوی مدظلہ تھے جن کی محبت و شفقت ساتھ ہی رعب و داب طلباء کے سینہ میں دھاک بن کر بیٹھی تھی، جب ان کے پیروں کی دستک کانوں میں پڑتی تو دلوں میں دھمک بھی پڑ جاتی، یہ عالیہ کے طلباء کا ہوسٹل تھا؛ لیکن آپ نفسیاتی طور پر ایسا سلوک کرتے کہ تربیت کی سختی اور شفقت کی ڈھنڈی چھاؤ دونوں یکبارگی مہیا ہوجاتی، دوسرے نگران مولانا مرحوم تھے، آپ کا رویہ بھی بڑا انوکھا اور دلچسپ تھا، فجر کی نماز کا شاخسانہ ہر ایک اہل مدرسہ کو معلوم ہے، مولانا مرحوم جماعت سے لگ بھگ آدھا گھنٹہ یا بیس منٹ قبل ہاتھ میں لوہے کی راڈ لے کر گھر سے نکلتے تھے، تاج المساجد کے اندرون حصے میں ہی آپ مقیم تھے، گھر سے باہر آتے ہی راڈ فرش پر مارتے، آواز گونجتی، آپ آگے بڑھتے، خراماں خراماں دارالاقامہ کے انتیس کمروں تک جاتے، ہر کمرے کا دروازہ پیٹتے، اور جب تک اس کمرے کی لائٹ نہ جل جاتی آپ ایک انچ بھی نہ ہٹتے، چنانچہ ہم طلباء کے مطابق مولانا کا اصول یہ تھا کہ وہ کمرے میں لائٹ جلتی ہوئی دیکھنا چاہتے تھے، اس کا مطلب یہ ہوتا کہ طلباء بیدار ہو گئے ہیں، یہ بات الگ ہے کہ عدو مبین کی تھپک اور یاری زیادہ بھاری ثابت ہوتی، یوں مولانا کا یہ بارعب سفر مکمل ہوتا، مولانا نماز کے پابند تھے، مختلف عوارض کے باوجود مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنے کی کوشش کرتے تھے، آپ کو عرصے سے شوگر کی شکایت تھی، غالباً گھٹنے میں بھی تکلیف رہتی تھی؛ اس کے باوجود آپ سائیکل (مسجد کی صحن وسیع ترین ہے) سے مسجد کے اگلے حصے میں پہنچ جاتے، مولانا کے ذمے ظہر کی نماز تھی، بلاناغہ وہ نماز پڑھاتے، الحمد للہ مولانا کثیر الاولاد تھے، بیٹوں نے تاج المساجد اور ندوۃ العلماء لکھنؤ سے تعلیم مکمل کی ہے، ان میں آپ کے صاحبزادے برادرم تنویر ندوی سلمہ اللہ ہمارے سینئر ساتھیوں میں سے ہیں، وہ بھی خلیق اور ملنسار ہیں – اللہ ان سب کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین
نہ تو زمیں کیلئے ہے نہ آسماں کیلئے
جہاں ہے تیرے لئے، تو نہیں جہاں کیلئے
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
Comments are closed.