میرے ساتھ خدا ہے (ڈرامہ)

ڈرامہ نگار:محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک

پہلا منظر: (ایک نوجوان مسلسل موبائل ملارہاہے، دوسرے حصہ میں ایک صحافی موبائل پر ہے۔،تیسرے حصہ میں کوئی خاتون ہے وہ بھی موبائل پر ہے)

نوجوان: سر! میں آپ کے اسمبلی حلقہ سے ہوں، میں ایک بیروزگار شخص ہوں، آپ سے ملنا چاہتاہوں۔

دوسری طرف سے آواز: میں رکن اسمبلی کا پی اے سےبات کررہاہوں، سر مصروف ہیں (فون کاٹ دیاجاتاہے، نوجوان ہیلو ہیلو سر کہنے لگتاہے)

صحافی: ایم ایل اے جی، حالات آپ کے حق میں پہلے سے نہیں ہیں، آپ کے طبقہ کے لوگ بھی آپ کے خلاف ہورہے ہیں کیونکہ آپ انھیں دستیاب نہیں ہیں بلکہ آپ کسی کو بھی دستیاب نہیں ہیں۔

رکن اسمبلی کی آواز: دیکھوجی!تم صحافی ہو، تمہارا کام حالات پر نظر رکھنا ہے اور اخبارمیں لکھناہے۔ دوسری بات جو اہم ہے وہ یہ ہے کہ حالات پر قابوکس طرح پایاجائے وہ ہم جانتے ہیں، تم نہیں۔

صحافی: سر! پڑوسی تعلقہ کے آپ ہی کی پارٹی کے آنجہانی شرما صاحب کے بھی یہی کچھ ڈائیلاگ تھے۔وہ بھی صحافیوں سے ہم تم ہی کرتے رہے اور انتخاب ہار گئے تھے۔

رکن اسمبلی کی آواز: ہم میں اور شرما صاحب میں بہت فرق ہے۔ ہمیں کوئی ہرا نہیں سکتا اسلیے کہ ہماری کاسٹ سے کوئی دوسرا فرد میدان میں کبھی نہیں آیا، ہماری کاسٹ کے ووٹر ہمیں ہی ووٹ دیتے ہیں اور آخرکا رہم ہی جیت جاتے ہیں۔

صحافی: سر! اس بار ایسے حالات نہیں ہیں کیونکہ آپ اپنے ووٹرس کے درمیان نہیں ہیں، ان کی مشکل گھڑی میں ان سے دور راجدھانی میں بسیراکرنے لگے ہیں۔

رکن اسمبلی کی آواز: میں نے کہا نا کہ حالات کو قابومیں کرنا ہم جانتے ہیں، تم نہیں (فون کٹ کردیاجاتاہے، صحافی اپنے موبائل کوایسے دیکھ رہاہے جیسے کوئی انہونی ہوگئی ہو)

خاتون (موبائل پر): ایم ایل اے صاحب ہیں؟

دوسری طرف سے آواز: نہیں ہیں، وہ راجدھانی میں ہیں (فون کٹ ہوجاتاہے)

دوسر امنظر (پارٹی کے دفتر میں اجلاس چل رہاہے۔ پارٹی کے ریاستی مبصر اور مقامی عہدیداراجلاس میں شریک ہیں)

ریاستی مبصر: آج کے اجلاس میں ایم ایل اے صاحب نظر نہیں آرہے ہیں؟

مقامی عہدیدار: وہ کسی کی نہیں سنتے، انھیں یقین ہے کہ پارٹی جھک مارکر ٹکٹ انھیں دے گی اور وہ الیکشن جیت جائیں گے اور یہ سچ بھی ہے۔پچھلے میں ہم نے کہاتھاکہ انہیں ٹکٹ نہ دیاجائے لیکن پارٹی ہائی کمان نے انہیں ہی ٹکٹ دیا۔آج کے اجلاس میں ان کے حامی عہدیداربھی نہیں آئے۔

ریاستی مبصر: حلقہ کے ووٹرس کی کیارائے ہے؟

دوسرا عہدیدار: وہ کسی بھی ووٹرس سے ملتے نہیں ہیں جس کی شکایت جابجا ہے۔ البتہ چار چھ ماہ میں ایک دفعہ کچھ رقم ادھر اُدھر بانٹ دیتے ہیں۔

ریاستی مبصر: اس سے کیاہوتاہے؟

نوجوان عہدیدار: ہوتا تو کچھ نہیں، لیکن یہ رقم بھی پارٹی میں موجود ان کے حامی غبن کرلیتے ہیں۔ اس میں سے صرف 25فیصدرقم غریب ووٹر س تک پہنچتی ہے۔

ریاستی مبصر: کسی کو کوئی اور بات کہناہے؟(ایک ہاتھ اٹھتاہے، کہنے کے لئے اشارہ کردیاجاتاہے)

مقامی عہدیدار: سر! جب ان کی ذمہ داری یاددلائی جاتی ہے تو ایم ایل اے صاحب کہتے ہیں، مجھے کچھ نہیں چاہیے۔ میرے ساتھ خدا ہے اور ان کی حرکتیں ایسی ہیں جیسے وہ کہہ رہے ہوں میرے ساتھ خدا ہے اور میں کسی کوساتھ لے کر نہیں چلوں گا۔ ہم سب ان کی اِن حرکات سے پریشان اور نالاں ہیں۔ جن نوجوانوں نے ان کے لئے کام کیاتھا وہ بھی ان سے دور ہوچکے ہیں کیونکہ انھوں نے ان کی بیروزگاری دور کرنے کاوعدہ کرکے بھی ان کے لئے کچھ نہیں کیا۔ اب تو ایم ایل اے صاحب فون بھی نہیں اٹھاتے ہیں بلکہ ان کا فون پی اے کے پاس ہوتاہے اور وہ راجدھانی میں قیام کرتے ہیں۔

(مقامی عہدیداران کے چہروں پرمایوسی طاری ہے۔ ریاستی مبصرباری باری سے سب کے چہروں کو دیکھتاہے اورپھر اجلاس برخاست کردیاجاتاہے)

تیسر ا منظر: (ہر طرف پٹاخے چھوڑے جارہے ہیں، کان پڑی آوازسنائی نہیں دے رہی ہے، اتنے میں ایم ایل اے کی آمد ہوتی ہے، جس کے چہرے پر دیوانگی طاری ہے)

ایم ایل اے: (پٹاخے چھوڑنے والوں کو پکڑ پکڑ کر) خوشی منارہے ہو، میر اٹکٹ کاٹ کر، پٹاخے اڑا رہے ہو، ایک ایک کو دیکھ لوں گا۔ میرے مقابلہ میں کھڑا کوئی مجھ سے جیت نہیں سکتا۔ پارٹی نے ٹکٹ نہیں دیاتو کیا ہوا، میں خود ہائی کمان ہوں۔ سمجھے میں خود ہائی کمان ہوں۔ میرے ساتھ اللہ ہے۔ میرے ساتھ اللہ ہے۔ (پٹاخے اڑانے والے نوجوان ہنسنے لگتے ہیں، ایک پوچھتاہے)

ایک نوجوان: جب آپ کے ساتھ اللہ ہے تو پھرآپ اتنے پریشان کیوں ہیں، جائیے اور اطمینان سے الیکشن لڑئیے۔

ایم ایل اے: (کچھ یادکرتے ہوئے) ہاں! آں!میں کہاں پریشان ہوں؟ میں کہاں پریشان ہوں؟

دوسرانوجوان: پہلے آئینے میں چہرا دیکھ لیں لیڈر صاحب پھر ہم سے بات کریں۔

ایم ایل اے: مجھے لیڈر کہتاہے، (اس کاگلہ پکڑنے کی کوشش)میں یہاں کاایم ایل اے ہوں ۔

تیسراجوشیلا نوجوان: (مداخلت کرتے ہوئے)خواب دیکھ رہے ہیں آپ! خواب دیکھنے کے دن ختم ہوگئے۔ آپ سڑک پر آچکے ہیں۔جس کو پارٹی کا ٹکٹ نہیں ملا اس کو جنتا کاساتھ کیاملے گا؟

ایم ایل اے: (چیختے ہوئے) تم سب کو دیکھ لوں گا، مجھے سڑک پر لانے کاتمہاراخواب ادھورا ہی رہ جائے گا، میرے ساتھ خدا ہے، میرے ساتھ خدا ہے (آواز ڈوبنے لگتی ہے)

پردہ گرتا ہے۔

Comments are closed.