اترپردیش انتخابات 2022: ریاست کی فضا بی جے پی کے خلاف !

مسلمان جوش سے نہیں ہوش سے کام لیں ۔۔۔۔۔۔۔
احساس نایاب ( شیموگہ،کرناٹک )
اترپردیش انتخابات کے چلتے سیاسی گلیاروں سے لے کر ملی حلقوں تک ایک بھونچال سا مچا ہوا ہے ، دنیا بھر کی نظریں اترپردیش انتخابات پر گڑی ہیں ، کہا جارہا ہے کہ اترپردیش کے انتخابی نتائج بی جے پی کا مستقبل طے کرنے میں اہم کردار ادا کرنے والی ہیں ، جس کے چلتے بی جےپی کے ساتھ ساتھ دیگر تمام سیاسی جماعتیں جیت کا تاج اپنے نام کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہیں, کل تک جہاں ووٹرس کو لبھانے کے لیے شراب, راشن ,نقد روپیہ و دیگر اشیا کی لالچ دی جاتی تھی، جھوٹے وعدے، دعوے کرکے ووٹرس کو اپنی جانب راغب کیا جاتا تھا ، ووٹنگ سینٹرس پہ غنڈوں کے ذریعہ ووٹرس کو ڈرا دھمکا کر جبرا اپنی پارٹی اپنے امیدوار کے نام ووٹ دلوائے جارہے تھے، جہان ای وی ایم گھوٹالے سے لے کر، ووٹر لسٹ سے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے نام غائب کردیے جاتے تھے، آج ان تمام سیاسی حربوں میں مزید اضافہ ہوچکا ہے اور ہر پارٹی چنے ، موم پھلی کی طرح ایک پارٹی سے دوسری پارٹی کے ایم ایل اے اور ایم پی کو باآسانی پیسوں و عہدوں کے عوض خرید رہی ہے ،یعنی سیاسی دنگل میں ایک قسم سے خرید و فروخت کا بازار لگ چکا ہے، اور سات کھڈی والا کھیل کھیلا جارہا ہے ـ ایسے میں پلڑا کسی بھی جانب جھک سکتا ہے ـ
عوام جسے کانگریس امیدوار سمجھ کر ووٹ دیتی ہے وہ کب کمل کی گود میں جا بیٹھے، جس امیدوار نے سماج وادی پارٹی کی ٹوپی پہن کر ووٹ حاصل کیے وہ کس وقت اپنے گلے میں کمل کا پٹہ پہن لے کچھ کہہ نہیں سکتے ، یون کب کون کتنے پیسوں کے لیے بک جائے گا یہاں کوئی نہیں بتاسکتا ـ اور آج کی سیاست طوائف کے کوٹھے سے بدتر ہوچکی ہے ، ایک طوائف محض اپنا جسم بیچتی ہے، لیکن خود کو سیاسی نیتا لیڈر کہنے والے اپنا ضمیر، ایمان اور اپنی قوموں کو بیچ رہے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے سیکولرزم کے مکھوٹوں کے پیچھے سے کمیونل چہرے زہر اگلنے لگتے ہیں، اس بیچ ان مکاروں کا ساتھ دینے کے لیے ہمارے ہی چند نام نہاد رہنما و قائدین برساتی مینڈکوں کی طرح میدان میں کود پڑتے ہیں، اور سال بھر ننگے سر گھومنے والا شخص بھی انتخابات کے وقت داڑھی ٹوپی پہن کر اپنے اپنے علاقوں میں مسلم ووٹوں کی دلالی کا فریضہ انجام دیتے ہوئے نظر آتا ہے ـ
خیر ان دھتّو مینڈکوں کو روکنا یا سمجھانا بھینس کے آگے بین بجانے کے برابر ہے ،لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ سیاسی لیڈران کے ساتھ ساتھ آج ملی رہنما بھی اس میدان میں اتر چکے ہیں جو لمحہ فکریہ ہے ـ
ّمثال کے طور پہ مدنی صاحب ، جی ہاں حال ہی میں چھوٹے مدنی جنہوں نے کشمیر 370 کی حمایت کی تھی اور کشمیری مسلمانوں پر بی جے پی کی ظلم و بربریت کی تائید کرتے ہوئے جنیوا پہنچ گئے تھے، تو کبھی این آر سی اور سی اے اے جیسے ظالمانہ قوانین کی حمایت کرتے ہوئے مجبور مسلمانوں کو ملک بدر کرنے کا فرمان جاری کردیا تھا، آج ایک بار پھر یہ جناب ڈھکے چھپے انداز مین بی جے پی کے حمایتی ترجمان بن کر ” آج تک” کے اسٹوڈیو پہنچ گئے، اور آج تک کی اینکر انجنا اوم کشب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو بی جے پی کو ہرانے کا خیال چھوڑ دینا چاہیے، انہوں نے مزید یہاں تک کہہ دیا کہ:مسلمان بی جے پی کو بھی ووٹ دے سکتے ہیں ۔
خیر ان سے اور امید بھی کیا کی جاسکتی ہے ناجانے ان کی کون سی دُکھتی نبص بی جے پی کے ہاتھ لگی ہے، جو انہیں بار بار چاہتے ناچاہتے بھی اس طرح کی غیرضروری حرکتیں کرنی پڑتی ہیں ـ
خیر
سمجھنے ہی نہیں دیتی سیاست ہمیں سچائی
کبھی چہرہ نہیں ملتا کبھی درپن نہیں ملتا ۔
لیکن یہاں پہ مولانا سلمان ندوی جی کا تو انداز ہی نرالا ہے، اپنی شعلہ بیانی کے لیے مشہور مولانا کبھی اچانک سے شری شری روی شنکر سے جا ملتے ہیں ، ملک میں امن و بھائی چارگی کو برقرار رکھنے کے خاطر مسلمانوں کو بابری مسجد کو رام مندر بنانے اور اُس کے متبادل کہیں اور مسجد لائبریری ، ہونیورسٹی وغیرہ تعمیر کرنے کا مشورہ دے دیتے ہیں تو کبھی بابری مسجد کے خلاف اور رام مندر کے حق میں آئے ظالمانہ فیصلے کے بعد مسلمانوں کے حصہ میں آئی 5 ایکڑ زمین کی بھیک لینے کے لیے، مسلم نوجوانوں کے قاتل یوگی کے آستھانہ پر پہنچ جاتے ہیں اور اس بار انہیں سجاد نعمانی صاحب کے لکھے گئے کھلے خط پہ اعتراض ہے ۔
جی ہاں اپنے بچپن کے ساتھی سجاد نعمانی صاحب کا لکھا ہوا وہی خط جو اترپردیش انتخابات کے مدنظر آپ نے اسدالدین اویسی کے نام لکھا ہے ۔
جس میں اپنی
دوراندیشی ، سیاسی بصیرت اور ملک کے سلگتے ہوئے مسائل پر گہری نظر رکھتے ہوئے مولانا نے اپنے اس کھُلے خط میں بےحد سنجیدگی اور عاجزانہ طور پر اسدالدین اویسی کو چند مشوروں سے نوازا ہے جو یوپی کے انتخابی حالات کے مدنظر بےحد ضروری اور اہم ہیں ۔
یہاں پر آپ کی جانکاری کے لیے ہم سجاد نعمانی صاحب کے اُس خط کے مضمون کو مختصر پیش کررہے ہیں ۔
ملک کے مسلم دشمن اور عیسائیت کے علمبردار طبقے کی اصل عوامی طاقت کا سرچشمہ وہ لوگ ہیں جن کا تعلق "او بی سی” سے ہے جس کے ذیل میں بےشمار سماجی اکائیاں آتی ہیں تاریخ گواہ ہے کہ جب اُس طبقہ کے لوگ فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف صف آرا ہوجاتے ہیں تو اُن طاقتوں کو شکست ہوجاتی ہے
گذشتہ کل گیارہ جنوری جو کچھ لکھنو میں ہوا اطلاعات کے مطابق یہ صرف آغاز ہے آگے بہت کچھ ہونے والا ہے اس کے پیش نظر یہ اور زیادہ ضروری ہوگیا ہے کہ زیادہ ظالم لوگوں کے خلاف ووٹوں کی تقسیم کم سے کم ہو ،،،،،، آپ کو شاید اندازہ نہیں ہے کہ ان سطور کے راقم کے دل میں آپ کے عزائم اور آپ کی صلاحیتوں کی کتنی قدر ہے اور یہ بات جو میں نے آپ سے عرض کی ہے یہ خود زمینی حالات اور حقائق کی وجہ سے لکھی ہے ورنہ سچ یہ ہے کہ یہ رائے میرے جذبات سے متعلق نہیں رکھتی کاش کے تمام مظلوم و کمزور طبقات کو ساتھ لے کر اپنی قیادت میں سیاسی طاقت کی تشکیل کا کام آج سے چالیس پچاس سال پہلے شروع ہوا ہوتا ، اگر آپ میری گزارش سے متفق ہوں تو آپ ہی بہتر فیصلہ کرسکتے ہیں کہ ووٹوں کی تقسیم کو کس طرح کم کیا جاسکتا ہےـ
میری سمجھ کے مطابق آپ صرف اُن سیٹوں پر بھرپور طاقت صرف کریں جہاں کامیابی یقینی ہو اور بقیہ سیٹوں کے لیے آپ خود گٹھبندھن کے لیے اپیل کردیں،
میرے خیال میں اُس سے آپ کی مقبولیت اور آپ پر اعتماد بہت زیادہ بڑھ جائے گا، جس سے آئندہ یعنی انتخابات کے فورا بعد اپنےاصل نصب العین کے لیے فوری طور پر شروع کی جانے والی کوشش کی کامیابی کے امکانات بہت بڑھ جائیں گے ، یقین رکھیں کہ یہ گزارشات میں نے صرف آپ اور ملک و ملت کی خیر خواہی کے جذبہ سے آپ کی خدمت میں پیش کی ہیں اگر ناگوار لگی ہو تو معذرت خواہ ہوں ۔
یہ الفاظ سجاد نعمانی صاحب کے ہیں جو اترپردیش انتخابی حالات کا گہرائی سے جائزہ لیتے ہوئے پیش کی گئی ہیں لیکن چند لوگون کی آنکھون پر شخصیت پرستی ، انا اور خود پسندی کا چشمہ چڑھا ہے ۔
ایسے میں حکمت عملی کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کرنے کے بجائے ہمارے حضرات ایک دوسرے کی تانگ کھینچنے ایک دوسرے کی باتوں میں کیڑے نکالنے میں لگے ہیں
کاش ہمارے ملی رہنما و اکابرین مل کر مسلمانوں کی بکھری ہوئی سیاسی پارٹیوں کو متحد کرپاتے تو آج ہر فرقہ پرست سیاسی جماعت مسلمانوں کے ساتھ گٹھبندھن کرنے کے لئے سامنے سے آتی اور مسلمانوں کا سیاسی مستقبل تابناک بنتا ۔
خیر فی الحال اترپردیش کی آب و ہوا بی جے پی کے خلاف چل رہی ہے، کورونا سے کسانوں تک بی جے پی کی مسلسل ناکامیوں نے 75 فیصد عوام کو بی جے پی کے خلاف کردیا ہے اور فی الحال بی جے پی کے پاس ہندو مسلم ، مندر مسجد کے علاوہ کوئی مدعہ نہیں بچا، لیکن اب عوام اس سے بھی اکتا چکی ہے اور اس کے لئے روزگار، تعلیم، ہیلتھ، ایجوکیشن اور اپنی جان و مال کا تحفظ اہم ہے ، جس کے چلتے اترپردیش مین بی جے پی کا رُک پانا مشکل لگ رہا ہے ، یہاں تک کہ خود بی جے پی کے کئی اراکین اسمبلی پارٹی چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں یعنی استعفی دے کر دوسری پارٹیوں میں شامل ہو رہے ہیں ـ
ایسے میں بی جے ہی کے آگے اترپردیش انتخابات ایک بہت بڑا چیلینج بن چکا ہے یہاں تک کہ خود یوگی آدتیہ ناتھ کا رام کی نگری سے پتہ کٹ چکا ہے اور خود کو رام بھگت کہنے والے یوگی کی کٹر ہندو پنتھی اس بار کام نہیں آرہی اور ایودھیا کے رام جی نے یوگی کو اپنی نگری ایودھیہ سے دھتکار کر ہکال دیا ہے، فی الحال اپنی رہی سہی عزت بچانے کے خاطر یوگی کو ایودھیہ کے بجائے اپنے آبائی علاقہ گورکھپور سے لڑنا پڑرہا ہے، ان حالات میں بی جے پی بوکھلائی ہوئی ہے اور حالات کو بدلنے اپنے حق میں کرنے کے لئے وہ بس ایک موقعہ کی تلاش میں ہے ـ
ایسے میں یوپی کے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے اپنے علاقے کے حالات کا گہرائی سے جائزہ لیتے ہوئے سوچ سمجھ کر اپنے ووٹوں کو تقسیم ہونے سے بچائیں اور صحیح امیدوار کا انتخاب کریں، خاص کرکے کسی کے بہکاوے میں نہ آئیں اور اُس پارٹی، اُس شخص کو ووٹ دے کر جتائیں جو واقعی میں ملک و ملت کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ رکھتا ہو ، جو پارٹی جملے بازی، شعلہ بیانی اور بےبنیادی دعوے کرنے کے بجائے گراؤنڈ لیول پہ کام کرتی ہو اور سب سے اہم اپنے ووٹ کو تقسیم ہونے نہ دیں ، اپنی سیاسی بصیرت اور اجتماعیت کا ثبوت دے کر آنے والوں پانچ سالون کا مستقبل طے کریں ـ
یاد رہے: ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی
جس کو بھی دیکھنا ہو کئی بار دیکھنا ۔۔
ویسے بھی اس بار بی جے پی کی ہار 75 فیصد یقینی ہے باوجود اگر کسی بھی طرح سے بی جے ہی جیت جاتی ہے تو اس کوتاہی کے ذمہ دار بیشک یوپی کے مسلمان ٹھہرائے جائیں گے، اس کے علاوہ اسد الدین اویسی
کو بھی چاہیے کہ وہ بھی جوش کے ساتھ ہوش سے کام لیں ـ
انتخابی ریلیوں کے دوران اویسی کا ایک غلط بیان، ایک غلط تقریر بی جے پی کے لیے وردان ثابت ہوجائے گا اور بی جے پی جس موقعہ کے انتظار میں ہے وہ سامنے سے مل جائے گا جو ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف متحد کرکے چاروں خانہ چِت ہوچکی "بی جے پی” کو دوبارہ کامیاب کرنے کے لئے کافی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اس کے علاوہ اسدالدین اویسی کو چاہئیے کہ وہ مولانا سجاد نعمانی صاحب کے مشورے پہ غور کریں اور خود کو بی جے پی کی "بی ٹیم ” کہلوائے جانے سے بچائیں ـ
جہاں جیت سوفیصد یقینی ہو بیشک وہاں زور لگائیں لیکن اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ غیرضروری جگہوں پہ مسلمانوں کے ووٹ تقسیم نہ ہونے پائیں ۔
اس پورے اُتھل پُتھل کے دوران اگر کانگریس کی بات کی جائے تو ہمیشہ کی طرح اس بار بھی کانگریس مسلمانوں کو نظرانداز کررہی ہے اور اس کا پورا زور کسانوں دلتوں و دیگر نچلی طبقوں پر نظر آرہا ہے،
جس کے چلتے اناؤ عصمت دری متاثرہ کی ماں کو ٹکٹ بھی دیا گیا ہےـ
آپ اس کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کانگریس دشمن کا دشمن میرا دوست کی مصداق کام کررہی ہے اور اس کی نظر میں مسلم ووٹرس کی حیثیت گھر کی مرغی دال برابر ـ
یہی وجہ ہے جب ہاتھرس میں اور دہلی مین عصمت دری کے واقعات پیش آئے تو راہول اور پرینکا گاندھی متاثرہ خاندان سے ملنے کے لئے پہنچ جاتے ہین ، جب لکھیم پور میں دھرنہ دے رہے کسانوں پہ گاڑی چلائی جاتی ہے تب بھی کانگریس سے لے کر عام آدمی پارٹی تک پہنچ جاتی ہیے ، وہین دہلی اور ترپورا میں ہوئی مسلم نسل کشی کسی کو نظر نہیں آتی ۔
بہرحال آج خود سیکولر کہنے والی پارٹیوں میں سنگھی سوچ کا غلبہ ہے اور آج کی سیاست میں ایک طرف جیے شری رام تو دوسری جانب ہر ہر مہادیو کے نعرے گونج رہے ہیں ۔
ایسے میں کسی کو مسلمانوں کا ہمدرد ماننے سے پہلے شہابدین اور آعظم خان کو نہیں بھولنا چاہئیے یہ دو مثالیں مسلمانوں کے لیے کافی ہیں ۔۔۔۔۔۔
ان سے امید نہ رکھ یہ ہیں سیاست والے
یہ کسی سے بھی محبت نہیں کرنے والے ۔۔۔۔۔
کاش ان فریبی مکار دجالی طاقتوں کا مقابلہ کرنے کے خاطر اسدالدین اویسی کی پارٹی ایم آئی ایم ، ایس ڈی پی آئی کے ساتھ جُڑ کر کام کرتی یا ایس ڈی پی آئی کو اپنے ساتھ لے کر کام کرتی تو مسلمانوں کے حق مین کئی گنا بہتر ہوتا
ـویسے بھی ایس ڈی پی آئ ایک کیدر بیس پارٹی ہے جو کسی ایک شخص یا خاندان کے ماتحت نہیں ہے اس کے علاوہ بھی اگر بات کی جائے تو ایس ڈی پی آئی زمینی سطح پر لوگون کے درمیان کام کرتی ہے جوش ، جذبہ کے ساتھ ہرقسم کی قربانی کے لئے ہمیشہ تیار رہتی ہے کاش اویسی صاحب اس طرف توجہ فرمائیں اور آنے والے دنوں میں مسلمانوں کو سیاسی طور پر مزید مضبوط بنانے کی جانب پہل کریں ۔۔۔۔۔۔۔
کیونکہ آج ملک و ملت کی فلاح بہود، امن و امان سیاست مین مسلمانوں کی مظبوط دعویداری سے ہی یقینی بنائی جاسکتی ہے، بشرط مسلم ووٹ منتشر ہونے سے بچ جائے ۔۔۔۔۔۔۔
آخر میں ایک بار پھر بھارت کی سیاست میں گٹھبندھن کی ہوا تیز ہے اور اراکین اسمبلی کا ایک سے دوسری تیسرت پارٹی مین شامل ہونا رواج بن چکا ہے ایسے میں مسلمان پوری سنجیدگی و ذمہ داری کے ساتھ سوچ سمجھ کر اپنے ووٹ اپنی طاقت کا استعمال کریں ۔۔۔۔۔۔۔ یہی آپ کے لئے 2024 کی چابی ہے ۔۔۔۔۔۔

 

Comments are closed.