وندے ماترم کو لازمی قرار دینا آئین ہند کی روح کے خلاف، مسلم تنظیمیں متحد ہوکر مؤثر لائحۂ عمل اختیار کریں: مولانا محمد ابو طالب رحمانی

 

کولکاتا، 15 مئی(پریس ریلیز)آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکنِ عاملہ حضرت مولانا محمد ابو طالب رحمانی نے حکومتِ مغربی بنگال کی جانب سے جاری حالیہ سرکولر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کے تمام سرکاری اور سرکاری امداد یافتہ تعلیمی اداروں میں اسمبلی کے دوران “وندے ماترم” کو لازمی قرار دینا آئین ہند کی روح، مذہبی آزادی اور دستور میں دی گئی بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے اپنے ایک تحریری بیان میں کہا کہ ملتِ اسلامیہ ہند ہمیشہ دستورِ ہند، قومی یکجہتی اور پُرامن بقائے باہمی کی علمبردار رہی ہے، لیکن اپنے عقیدۂ توحید، ایمانی حدود اور شرعی اصولوں کے تحفظ کو بھی اپنی دینی ذمہ داری سمجھتی ہے۔ “وندے ماترم” کے بعض اشعار اور اس کا مخصوص تاریخی و فکری پس منظر اکابرِ امت اور متعدد ملی و دینی اداروں کے نزدیک ہمیشہ محلِ اشکال رہا ہے، اسی لیے مسلمانوں میں اس فیصلے کے تعلق سے شدید تشویش پائی جارہی ہے۔

مولانا رحمانی نے کہا کہ موجودہ حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ملت کی تمام مؤثر ملی، دینی، قانونی اور سماجی قیادتیں فوری طور پر اس مسئلہ پر سنجیدہ غور و فکر کریں، باہمی مشاورت کا اہتمام کیا جائے اور حکمت، بصیرت اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے کوئی مضبوط اور مؤثر لائحۂ عمل تیار کیا جائے، تاکہ مسلمانوں کے دینی جذبات، ایمان اور شرعی حدود کا مکمل تحفظ ہوسکے اور ملت کسی غیر ضروری انتشار یا نقصان سے بھی محفوظ رہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس حساس مسئلہ کے پیش نظر انہوں نے فوری طور پر ملک کی مختلف باوقار ملی و دینی شخصیات اور تنظیموں کے ذمہ داران سے رابطہ قائم کیا، جن میں حضرت مولانا ارشد مدنی، حضرت مولانا محمود مدنی، حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، حضرت مولانا فضل الرحیم مجددی، حضرت مولانا عبید اللہ خاں اعظمی، حضرت مولانا اصغر علی امام مہدی اور حضرت مولانا سعادت اللہ حسینی دامت برکاتہم شامل ہیں۔ مولانا رحمانی نے ان حضرات کو اس سرکولر کے ممکنہ خطرناک اثرات سے آگاہ کرتے ہوئے اس سلسلے میں متحدہ اور مضبوط لائحۂ عمل تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

مولانا محمد ابو طالب رحمانی نے مطالبہ کیا کہ:

اس مسئلہ پر فوری ہنگامی مشاورت طلب کی جائے۔

تمام ملی و دینی جماعتوں، مسلم پرسنل لا بورڈ، علماء، ماہرینِ قانون اور دانشورانِ ملت کو ساتھ لے کر متحدہ موقف اختیار کیا جائے۔

آئینی و قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے کر مناسب قانونی چارہ جوئی پر غور کیا جائے۔

عوام خصوصاً طلبہ اور سرپرستوں کی صحیح شرعی اور قانونی رہنمائی کا مؤثر نظم کیا جائے تاکہ جذباتیت کے بجائے حکمت و بصیرت کے ساتھ مسئلہ کا حل تلاش کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ ملتِ اسلامیہ آج جن نازک حالات سے گزر رہی ہے، ان میں قیادت کی بروقت بصیرت، اتحاد اور حکیمانہ اقدام بے حد ضروری ہے۔ امید ہے کہ مسلم تنظیموں کے ذمہ داران اس اہم مسئلہ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری توجہ فرمائیں گے۔

آخر میں مولانا رحمانی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ملتِ اسلامیہ کے ایمان، تشخص اور دینی آزادی کی حفاظت فرمائے اور ملت کی قیادت کو صحیح، دانشمندانہ اور مؤثر فیصلے کرنے کی توفیق عطافرمائے۔

Comments are closed.