کفن بردوش جا پہنچے مگر —

محمدنفیس خان ندوی

 

حج محض ایک عبادت نہیں بلکہ ایک مکمل تربیتی نظام ہے، جو انسان کو ظاہری اور باطنی دونوں اعتبار سے بدلنے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ یہ وہ عظیم سفر ہے جس میں بندہ اپنے رب کے حضور اس حال میں حاضر ہوتا ہے کہ گویا وہ دنیا کی ساری نسبتوں سے کٹ کر صرف اللہ کا ہو گیا ہو۔ سفید احرام دراصل کفن کی یاد دلاتا ہے‘ایک ایسا لباس جس میں نہ کوئی شان ہے، نہ تفاخر، نہ امتیاز!

مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی اس ’کفن‘ کی حقیقت کو سمجھ پاتے ہیں؟ ذرا تصور کیجیے! حج کے مقدس ایام ہیں، فضا لبیک اللّٰہم لبیک کی صداؤں سے گونج رہی ہے، آنکھیں اشکبار ہیں اور دلوں میں خشوع کی کیفیت، لیکن اسی ہجومِ عاشقاں میں ایک منظر یہ بھی نظر آتا ہے کہ کوئی موبائل لہرا رہا ہے، کوئی سیلفی میں مصروف ہے، کوئی طواف کے دوران تصویر لے رہا ہے، کوئی عرفات کے لمحات کو مختلف زاویوں سے محفوظ کر رہا ہے اور کوئی منیٰ کے خیموں میں عبادت کے بجائے مناظر قید کرنے میں لگا ہوا ہے۔ یہ وہ رویہ ہے جو حج کی روح کو سرد کر دیتا ہے اور انسان کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم اللہ کے حضور حاضر ہیں یا اپنی نمائش میں گم؟

یہی وہ دل شکن منظر ہے جسے دیکھ کر کوئی شاعر بے اختیار کہہ اٹھتاہے ع
کفن بردوش جا پہنچے مگر مرنا نہ سیکھا تھا
یہ مصرعہ پورے منظرنامے کو آئینہ دکھاتا ہے، لاکھوں افراد احرام باندھ کر میدانِ عرفات تک پہنچتے ہیں، مگر کتنے ہیں جو اپنے نفس کو بھی قربان کرتے ہیں؟ کتنے ہیں جو خواہشات، غرور، حسد اور دنیا پرستی کو چھوڑ کر ایک نئی زندگی کا آغاز کرتے ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ حج محض چند اعمال کی ادائی کا نام نہیں بلکہ ایک گہری روحانی تربیت ہے۔ اس میں مشقت بھی ہے، آزمائش بھی اور نفس کے خلاف جدوجہد بھی۔ اگرچہ جدید سہولتوں نے اس سفر کو آسان بنا دیا ہے، لیکن اسی کے ساتھ اس کی روح کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ بہت سے لوگ بغیر ذہنی و روحانی تیاری کے اس سفر پر نکلتے ہیں، مناسک جلدی جلدی ادا کرتے ہیں اور واپس آ جاتے ہیں، مگر ان کی زندگیوں میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آتی۔ حالانکہ حج کا اصل مقصد یہی ہے کہ انسان کی سوچ، اس کا کردار اور اس کی زندگی بدل جائے۔
یہ سفر انسان کو اپنے مزاج پر قابو پانے، دل اور نگاہوں کی حفاظت کرنے اور صبر و برداشت اختیار کرنے کی عملی تربیت دیتا ہے۔ مختلف مزاج کے لوگوں کے درمیان رہ کر برداشت، حلم اور تقویٰ کا مظاہرہ کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔ یہی وہ موقع ہے جہاں زبان کی حفاظت، آنکھوں کی پاکیزگی اور دل کی صفائی کا عملی امتحان ہوتا ہے۔ اگر یہاں بھی انسان خود کو نہ سنبھال سکے تو پھر کہاں سنبھلے گا؟

احرام کی دو سادہ چادریں انسان کو بار بار یہ پیغام دیتی ہیں کہ ایک دن یہی کیفیت مستقل ہو جائے گی‘نہ کوئی عہدہ ساتھ ہوگا، نہ دولت، نہ شہرت، صرف اعمال ہوں گے۔ اسی لیے حج دراصل موت کی یاد کو تازہ کرنے اور آخرت کی تیاری کا نام ہے۔ مگر افسوس کہ ہم اس پیغام کو سننے کے بجائے دنیاوی مصروفیات میں الجھے رہتے ہیں۔

ماضی میں حج کا سفر واقعی ایک کٹھن مرحلہ ہوا کرتا تھا۔ لوگ مہینوں کی مسافت طے کر کے، ہر طرح کی مشقت جھیل کر اور آخری سفر کا احساس لے کر نکلتے تھے۔ وہ حقوق العباد ادا کرتے، چھوٹے بڑو ں سب سے معافیاں مانگتے اور اس یقین کے ساتھ روانہ ہوتے کہ شاید واپسی بہت مشکل ہو۔ اسی اخلاص اور سچی طلب نے ان کے حج کو زندگی بدل دینے والا بنا دیا تھا۔

آج اگرچہ سفر آسان ہو گیا ہے، مگر دلوں کی کیفیت ویسی نہیں رہی۔ اسی لیے سب سے بڑی ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے دل کو اس سفر کے لیے تیار کریں۔ ہم یہ شعور پیدا کریں کہ ہم ایک ایسے مقام کی حاضری کے لیے جا رہے ہیں جہاں رحمتیں برس رہی ہیں اور مغفرت کے دروازے کھلے ہیں۔ اگر وہاں سے بھی انسان خالی ہاتھ لوٹ آئے تو اس سے بڑی محرومی کوئی نہیں۔

مزید یہ کہ حج ہمیں مساوات اور اخوت کا عملی درس بھی دیتا ہے۔ ایک ہی لباس میں بادشاہ اور فقیر، امیر اور غریب سب ایک صف میں کھڑے ہوتے ہیں۔ کوئی کسی سے برتر نہیں ہوتا سوائے تقویٰ کے۔ اگر یہ سبق ہم اپنے معاشرے میں واپس لے آئیں تو بہت سی سماجی برائیاں خود بخود ختم ہو سکتی ہیں۔

لہٰذا ضروری ہے کہ حج کے مبارک سفر میں جہاں دیگر سامان سفر کی تیاری مکمل ہووہیں توشہ تقویٰ کا بھی جائزہ لےلیا جائے تاکہ یہ سفر محض سفر نہ رہے بلکہ سراپا عبادت بن جائے تاکہ حاجی اس نویدنبویﷺ کا مستحق قرار پائے:
’’مقبول حج کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں۔‘‘

(دارالعلوم ندوۃ العلماء-لکھنؤ)
15/مئی 2026

Comments are closed.