یوم حجاب ایک رسم ہے جو چلی جارہی ہے !
احساس نایاب ( شیموگہ، کرناٹک )
ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال بصیرت آن لائن
کیا ایک دن کے لئے یوم حجاب رسم ادا کردینے سے ہماری ذمہ داریاں پوری ہوجائیں گی ؟
وہ بھی اُس وقت جب کرناٹک میں اڈپی کے سرکاری کالج کی 8 بچیاں مسلسل ایک ماہ سے اپنے حجاب کے لئے جدوجہد کررہی ہیں
ایسے میں اُن بچیوں کا ساتھ دینا کیا ہماری ذمہ داری نہیں ہے ؟؟؟
مانا یکم فروری دنیا بھر میں یوم حجاب کے طور پہ منایا جارہا ہے یعنی ( حجاب ڈے )جس کی وجہ سے سوشل میڈیا صارفین اپنی اپنی فیس بک وال، واٹس اپ گروپس، ڈی پی، اسٹیٹس، انسٹاگرام و دیگر سوشل اکاؤنٹس پر یوم حجاب کی تصاویر اورپوسٹرس لگارہے ہیں اور خود کو اسلام و شریعت کے پاسبان جتانے کی کوشش کرر ہے ہیں ۔۔۔
جبکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ مسلمان بالخصوص بھارت کے مسلمان آج کے دن یہی پوسٹرس و پلے کارڈس ہاتھوں میں لئے سڑکوں پر اتر آتے اور اُڈپی کی اُن آٹھ بچیوں کی آوازسے آواز ملاکراُن کی حوصلہ افزائی کرتے،ان کے عزم کوپروان چڑھاتے، اُن کی مضبوط طاقت بنتے، جو ایک ماہ سے زائد وقفے سے اپنے حجاب کے لئے مسلسل لڑرہی ہیں ۔۔۔۔
ہزار پریشانیوں ، دھمکیوں اور اپنوں کے طنزیہ لہجوں کے نشتر خود پہ سہتے ہوئے محاذ پہ ڈٹی ہوئی ہیں، اپنے مستقبل کی پرواہ کئے بغیر اپنے دین، اپنی شریعت اور اپنے آئین کی پاسدار بن کر فرعونی طاقتوں کے آگے صف آرا ہوچکی ہیں ۔۔۔
آج اسلام کی ان شہزادیوں کو ہمارے اور آپ کے ساتھ کی ضرورت ہے اور یاد رہے آج جو لڑائی یہ کمسن بچیاں لڑرہی ہیں وہ اُن کی ذاتی لڑائی ہرگز نہیں ہے، بلکہ یہ پوری قوم کی لڑائی ہے ، بنت حوا کے وجود اُس کی غیرت و حمیت کی لڑائی ہے ۔۔۔
محض ایک دن کے لئے ڈی پی بدل لینے سے یا اسٹیٹس پہ یوم حجاب کے پوسٹرس لگالینے سے ہماری اور آپ کی ذمہ داریاں ختم نہیں ہوں گی، نہ ہی ہمارے مسلمان ہونے کا حق ادا ہوگا ۔۔۔
بلکہ آج ہر مسلمان مرد و خواتین کو اپنے دین اور اپنی شریعت کے تحفظ اور اپنے حقوق کی بقا کی خاطر سڑکوں پر آنا ہوگا ۔۔۔
ورنہ وہ دن دور نہیں جب نئی نسلیں حجاب اور پردے کو کتابوں میں قصے کہانیوں کی طرح پڑھیں گی اور آج حجاب کی مخالفت کرنے والی طاغوتی طاقتیں کل ہماری پردہ نشین بچیوں کو سڑکوں، چوراہوں پہ ننگا گھمائیں گے، راہ چلتی ہماری غیرت مند بچیوں کے برقعے، دوپٹے اور سروں کے آنچل تک جبرا کھینچے جائیں گے ، اُس وقت ہمارے پاس خون کے آنسو بہانے کے سوا کچھ نہ ہوگا، کیونکہ مسلمانوں کے ساتھ آج جو کچھ بھی ہورہا ہے اُس کے ذمہ دار بیشک ہماری ہی بےحسی، بزدلی و دنیا پرستی ہے، جو ہم پہ قہر بن کر ٹوٹ رہی ہے، اگر آج نہیں سنبھلے تو عنقریب سب کچھ تباہ و برباد ہوجائے گا پھر مسلمانوں کے پاس نہ دنیا رہے گی نہ آخرت ۔۔۔۔!!!
Comments are closed.