موجودہ دورکے جدید طریقوں میں بچوں کا بچپن کھوتا جارہاہے، تربیت پر توجہ دینے کی ضرورت !
زینب ساجد پٹیل جلگاؤں
موجودہ دور کی جدیدیت سے قبل ایک سنہرا دور کچھ اس طرح سے گذرا ہیں کہ اس دورکی یاد کرنےپر ذہن میں ایک خوشحالی سے بھرپور خوبصورت تصویر آنکھ کے پردے پر آشکار ہوتی ہے۔جودل و دماغ میں سکون پیداکرکے اس زمانے میں جانے کی خواہش بیاں کرتی ہیں۔ان سب باتوں کو دیکھتے ہوئے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔آخر کیوں ؟ اس سنہرے ماضی کے دور کی باتیں اتنی سرخیوں میں ہے۔جو جب بھی یاد کیا جائے وہ دل و دماغ کو ترو تازہ کردیتے ہیں۔اس سنہرے دور کی وجوہات پر غور و فکر کرنے کے بعد یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ اس میں ادب ،عزت ، ثقافت ،تہذیب اور وقت کی پابندی حیاء کی پاسداری ،اخلاقیات سے پر معاشرہ ان باتوں کی اہمیت کا اندازہ اس دور کے بزرگوں کی اپنے سامنے کی نسل کی شاندار تربیت کا نتیجہ ہوا کرتی تھی۔لیکن جوں۔جوں وقت سرکتا گیا سماج کے ہر شعبہ جات میں تبدیلیاں واقعہ ہوتی رہی۔سماجی رابطے جدید تکنیک کے ذریعے ہوتے ہوئے برقی رفتار سے سماج کو نیت نئے سامان کے حوالے کرنے اور ان رحجانات کو پروان چڑھانے پر مجبور ہوجانا پڑا۔اس میں سب سے اہم رول موبائل تہذیب جس نے ڈگری یافتہ سے لےکر انگوٹھا چھاپ ان پڑھ تک اس سے متاثر ہوئے بنا نہیں رہے۔اس کا سب سے بڑا اثر بچوں کے بچپن پر ہوا۔موبائل تہذیب نے سماج کے بچہ کمپنی کو اپنے جانب کرنے میں بہت بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔یہاں تک کے والدین و سرپرستوں نے خود بچوں کے ہاتھوں میں موبائل تھمادیتے ہیں۔تاکہ وہ اپنا کام پرسکون ہوکر انجام دے سکے۔اب ایسے پرخطر ماحول میں والدین و ہر ذمہ دار کو کمال کی سمجھداری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
ان کے برتاؤ سے بچوں کی تربیت پر گہرا اثر ہوگا۔موبائل کی آئے دن بدلنے والی جدید سے جدیدتر تکنیکی طریقوں میں موبائل اور اس کی مختلف ٹیکنالوجی کی طرف بچوں کا رحجان زیادہ ہونے کی وجہ سے ان میں علم ،ادب ، تہذیب و تمدن کی کمی واقع ہوتی جارہی ہیں۔جس کے منفی اثرات بچوں کے رہن۔ سہن ،انداز گفتگو ، سلوک ، والدین کی نافرمانی اور بڑوں کے روبرو زبان درازی میں نمایاں طور پر دیکھی جاسکتی ہیں۔اس کے علاوہ سب سے بڑا نقصان بچوں میں دینی تعلیمات سے دوری اختیار کرنا وغیرہ حساس پہلوؤں نے جنم لےلیا ہے۔ایسے حالات میں بچوں میں والدین اور گھر کے بڑوں کی ذمہ داری بنتی ہےکہ وہ اپنے قیمتی وقت میں سے وقت نکال کر اپنے بچوں کو دیں۔ان کی دینی معلومات سے پر وقعات کی روشنی میں ان سے چلتے پھرتے گفتگو کریں۔انھیں ادب و تہذیب کے واقعات سناؤ۔ان کا نصابی سبق انھیں سمجھاؤ ان کی سماجی روایتوں اور سماجی رشتوں کی نزاکت سے انھیں روشناس کریں۔انھیں تعلیم و تربیت کی حدود میں جوابدہ بنانے کی بھرپور کوشش کریں۔وقت گذرتے ہر موجود چیز پرانی ہوجاتی ہے۔لیکن و انسانی زندگی پر جو اپنے اثرات مرتب کرتی ہیں و پرخطر یا مثبت اخلاقیات سے پر ہوتے ہیں۔جو ہمیں بہت کچھ ضرور دے جاتے ہیں لیکن ہمارے ہاتھوں سے اچھائی نہ چلی جائے اور ہمیں اپنے ایمان کو بچانے کےلالے پڑ جائے۔اس لیئے اولاد کی تربیت کے تعلق سے ہمیشہ ہوشیار اور بیدار رہے۔
Comments are closed.