یوپی اسمبلی الیکشن میں مجلس اتحاد المسلمین کی سنگین غلطیاں اور مسلمانوں سے گذارشات

مظاہرحسین عماد قاسمی
مجلس اتحاد المسلمین نے حالیہ اتر پردیش اسمبلی الیکشن میں سو اسمبلی نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرنے کا اعلان کر کے بہت بڑی سنگین غلطی کی ہے اور اب تک اس نے تقریبا چالیس امیدواروں کا اعلان بھی کردیا ہے ، اور اس سے بھی بڑی سنگین غلطی یہ کی ہے کہ ایسی پارٹیوں سے اتحاد کیا ہے جن پارٹیوں کا ایک ممبر اسمبلی بھی نہیں ہے ، اور خواب یہ دکھایا جارہا ہے کہ ہمارے اتحاد کی حکومت ہوگی اور ڈھائی سال تک پسماندہ طبقات کا وزیر اعلی ہوگا اور بقیہ ڈھائی سال دلت وزیر اعلی ہوگا۔
وزیر اعلی دلت ہو یا پسماندہ طبقات کا ،اس سے مسلمانوں کو کیا فائدہ ہوگا ؟؟؟
مسلمانوں کے لیے برہمن ، پسماندہ اور دلت سب برابر ہیں ، سب میں سے بہت ساروں کی تلواریں اور زبانیں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف چلتی رہتی ہیں ۔
ملائم سنگھ یادو اور اکھلیش سنگھ یادو پسماندہ طبقات کے ہی ہیں اور مایاوتی دلت ہیں ، اور اس کی کیا گارنٹی ہے کہ بابو سنگھ کشواہا اکھلیش سے اچھے ثابت ہوں گے ، اور اس کی بھی کیا گارنٹی ہے کہ وامن مشرام مایاوتی سے بہتر ثابت ہوں گے ، جن ہندو سیکولر لیڈران کے پاس اپنی برادری کا ایک فیصد بھی ووٹ نہ ہو ان کو مسلمان اپنا سو فیصد ووٹ کیوں دیں ؟؟
بابو سنگھ کشواہا اور وامن مشرام نے مسلمانوں کے لیے اب تک کیا کیا ہے ؟؟
جو پارٹی تلنگانہ میں حیدرآباد کے علاوہ کہیں اور سے اپنے اسمبلی امیدوار کھڑے نہیں کرتی ، وہ اتر پردیش جیسے حساس صوبے میں سو امیدوار کھڑے کرکے مسلمانوں کے ووٹوں کو مزید کئی ٹکڑوں میں بانٹنا چاہتی ہے ۔
مجلس کو چاہیے تھا کہ وہ صرف اپنے بل بوتے پر صرف دس بارہ نشستوں پر اپنے امیدوار اتارتی ، اور بی جے پی کے علاوہ تمام سیکولر پارٹیوں کے خلاف بیان بازی اور زبان درازی سے گریز کرتی ، اور اترپردیش میں بھی وہی حکمت عملی اختیار کرتی جو اس نے تلنگانہ میں اختیار کر رکھی ہے ،تلنگانہ میں وہ صرف حیدرآباد شہر کی آٹھ نشستوں پر امیدوار اتارتی ہے اور زیادہ سے زیادہ سات نشستوں پر کامیاب ہوتی ہے ، تلنگانہ میں حکمراں جماعت تلنگانہ راشٹریہ سمیتی کے خلاف کچھ نہیں بولتی ، جب کہ یہ پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حلیف رہ چکی ہے ،حیدرآباد ضلع میں مسلم آبادی چوالیس فیصد ہے ، اور پرانے حیدرآباد والے سات اسمبلی نشستوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے ، ان میں سے چھ نشستیں حیدرآباد لوک سبھا کے تحت ہے ، حیدرآباد لوک سبھا کے تحت آنے والی گوشا محل نشست پر بھی مجلس کبھی کامیاب نہیں ہوپاتی ، یہاں سے کانگریس اور بی جے کے امیدوار کامیاب ہوتے ہیں ۔
حیدرآباد ضلع کی دوسری لوک سبھا نشست سکندرآباد ہے ، یہاں سے کئی بار مجلس نے اپنا امیدوار اتارا مگر ہمیشہ ناکام رہی ۔سکندرآباد لوک سبھا کے تحت آنے والی نشستوں میں سے صرف نام پلی نشست پر ہی مجلس کامیاب ہوپاتی ہے ، بقیہ چھ نشستیں دیگر پارٹیوں کی جھولی میں چلی جاتی ہیں ۔
مجلس بہار کے کشن گنج کی کامیابی سے زیادہ خوش فہمی میں نہ رہے ، وہاں جناب تسلیم الدین صاحب اور مولانا اسرار الحق صاحب کی وفات کے بعد جناب اختر الایمان صاحب ہی سب سے بڑے لیڈر ہیں ، اور اترپردیش میں مجلس کے پاس اختر الایمان جیسا لیڈر نہیں ہے ۔
اسلامی فقہ میں دفع مضرت ( تکلیف دہ چیزوں کو دور کرنے )کو جلب منفعت ( فائدہ حاصل کرنے )پر مقدم رکھا جاتا ہے ۔
ڈاکٹر پہلے جسم کی گندگی کو نکالتا ہے ، پھر جسم کو تندرست کرنے کی فکر کرتا ہے ۔
مسلمان کے وزیر اعلی ہونے یا ڈپٹی وزیر اعلی ہونے کے خواب پر مسلمان دھوکہ نہ کھائیں ۔
اتر پردیش جیسے اسی (80)فیصد غیر مسلم والے صوبے میں کوئی مسلمان وزیر اعلی بن بھی جائے تو وہ مسلمانوں کے لیے کچھ بھی نہیں کرسکتا ، اور ڈپٹی چیف منسٹر کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی اور نہ ہی یہ عہدہ مستقل ہوتا ہے ۔
ڈپٹی چیف منسٹر کا عہدہ بچوں کے جھنجھنے کی طرح ہے ،* رونے والے بچے کو جھنجھنا پکڑا کر اس کو چپ کرانے کی کوششیں کی جاتی ہیں ، ایسے ہی پارٹی کے بعض ناراض لیڈران کو یا اکثریت نہ ہونے کی صورت میں حلیف پارٹیوں کے لیڈران کو ڈپٹی چیف منسٹر کا عہدہ دے دیا جاتا ہے ۔
مسلمانوں کو وزارت نہیں امن و امان چاہیے ، نوکری چاہیے ،اسکول ،کالج اور یونیورسٹی چاہیے ،اور سب سے بڑھ کر اپنے دین پر عمل کی مکمل آزادی چاہیے ۔
اگراسد الدین اویسی صاحب اپنے اتحاد کے پلیٹ فارم سے یہ اعلانات کرتے تو زیادہ اچھا ہوتا ۔
1- تمام بے گناہوں کو جیل سے رہا کر دیا جائے گا ۔
2- تمام مساجد ، مدارس ، مزارات اور مقابر کی حفاظت کی جائے گی ۔
3- اوقاف کی مقبوضہ زمینوں کو واپس لیا جائے گا ، اور قبضہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی ۔
4- مسلمانوں کو ان کی ابادی کے تناسب سے سرکاری نوکریوں میں بیس فیصد حصہ ریزرو کردیا جائے گا ۔
5- جوہر یونیورسٹی کے تمام مسائل حل کر لیے جائیں گے ۔
6- ہر پانچ ضلع کے لیے ایک مسلم یونیورسٹی کھولی جائے گی ۔
عاجزانہ گذارش
میری عاجزانہ گذارش یہ ہے کہ اتر پردیش کے مسلمان صرف اور صرف بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہرانے کی فکر کریں ، اگر یوگی سرکار دوبارہ آگئی تو اتر پردیش میں بھی آسام جیسے حالات پیدا ہوسکتے ہیں ، آسام میں سرکاری امداد حاصل کرنے والے ہزاروں مدارس کو اسکول اور کالج میں تبدیل کردیا گیا ہے ، اور پرائیوٹ مدارس کے نصاب کو بھی وہ بدلنا چاہتے ہیں ،اتر پردیش میں بھی سرکاری امداد پانے والے ہزاروں مدارس ہیں ، اور کئی مدارس بڑے مشہور ہیں جن کی بڑی خدمات ہیں ۔
اتر پردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا دوبارہ منتخب ہو جانا نہ صرف اترپردیش کے لیے نقصان دہ ہے ، بلکہ پورے ملک کے لیے نقصان دہ ہے ،
سوچ سمجھ کر ووٹ دیں ، ووٹ امانت بھی ہے اور شہادت بھی ہے ، نہ امانت میں خیانت جائز ہے اور نہ جھوٹی شہادت جائز ہے اور نہ شہادت کو چھپانا جائز ہے ۔
جو بلا سوچے سمجھے ووٹ دے رہے ہیں ، وہ خائن ہیں یا نا سمجھ ،مومن نہ خائن ہوتا اور نہ ہی نا سمجھ ،اور جو ووٹ نہیں دیتے وہ شہادت کو چھپاتے ہیں اور شہادت ( گواہی ) کو چھپانا جائز نہیں ۔یاد رکھیے ، موجودہ حالات میں ووٹ دینا واجب ہے ، آپ کے ووٹ پر ہی آپ کے مستقبل اور پورے ملک کے مستقبل کا دار و مدار ہے ۔

Comments are closed.