اقبال چچا۔۔۔ محبت بھرا ایک اور لہجہ خاموش ہو گیا!

کامران غنی صبا
اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو نیتیشور کالج،مظفرپور
’’ہم ترے چچا ہیں رے‘‘اس محبت بھرے لہجے کو لفظوں کا پیرہن عطا کرنا بہت مشکل ہے. یہ لہجہ اور اس لہجے میں چھپی محبت کو صرف محسوس ہی کیا جا سکتا ہے، بیان نہیں…… آہ! اب ہماری سماعتیں اس لہجے کو ترسا کریں گی. اقبال چچا (سید اقبال بلخی) 18 فروری 2022 کو جمعہ کے دن ہم سب سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گئے۔
اقبال چچا رشتے میں ہمارے نانا تھے. نانا جان پروفیسر سید شاہ علیم الدین بلخی علیہ الرحمتہ کے خالہ زاد بھائی. لیکن ہم لوگ انہیں اقبال چچا ہی کہتے تھے۔ اقبال چچا ہمیں ہمیشہ ٹوکتے رہے کہ ہم انہیں نانا کہا کریں اور ہم لوگ ہمیشہ انہیں اقبال چچا ہی کہتے رہے۔ہم نے جب سے ہوش سنبھالا اقبال چچا کو خود سے بہت قریب پایا، خوشی اور غم ہر موقع پر وہ ہمیشہ ہم سب کے ساتھ رہے۔ ان کی محبت میں نمائش نہیں تھی، توازن تھا۔ اکثر ایسا ہوا کہ وہ گھر آئے اور ہم انہیں زیادہ وقت نہیں دے سکے انہوں نے کبھی کوئی حرف شکایت اپنی زبان پر نہیں لایا۔وہ بڑے ہو کر خود ہی فون کیا کرتے تھے. قریب اور دور کے تمام رشتہ داروں سے رابطے میں رہا کرتے تھے۔ ان کے پاس جاییے تو خوشی سے کھل اٹھتے تھے۔
چند ماہ قبل ان کے دماغ کا آپریشن ہوا تھا. آپریشن نازک تھا لیکن آپریشن کے بعد الحمد للہ وہ بالکل ٹھیک ہو گئے تھے. باہر نکلنا کم ضرور ہوا تھا ۔
انتقال سے کچھ روز قبل اہلیہ اور بیٹے کے ساتھ ان سے ملنے گیا. وہ نیم غنودگی کے عالم میں تھے. گود میں بیٹے کو دیکھا تو پوچھا ناتی ہے؟ پھر اپنے بیٹے عامر بلخی سے کہا کہ بابو کو چاکلیٹ دلا دو۔
اقبال چچا کا سماجی رویہ مثالی تھا. وہ ہر چھوٹے بڑے سے ایک طرح سے ملتے تھے. ان کی ملاقات میں رسمی تکلف نہیں تھا. گھر جاییے تو جو موجود ہو حاضر کر دیتے. رشتہ داروں کے یہاں سے کوئی ان سے ملے نہ ملے، وہ خود سب سے ملاقات کرتے تھے. جن رشتہ داروں سے ملاقات مشکل تھی ان سے فون سے رابطہ رکھتے تھے۔
طبیہ کالج سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے رہنے لائق مکان بنایا. دو بیٹوں کی شادی کی. ان کی زندگی میں انتہائی سادگی تھی. دنیاداری سے ان کا دور دور کا واسطہ نہیں تھا۔ میں نے کبھی انہیں سیاسی گفتگو کرتے نہیں دیکھا، کسی کا گلہ شکوہ کرتے نہیں پایا۔البتہ اگر ان سے رابطے میں لمبا وقفہ ہو جاتا تھا تو بڑے ہونے کے ناطے منھ پر ہی اتنا ضرور کہتے تھے کہ بیٹا اگر ہم فون نہ کریں تو خیر خیریت بھی نہ ملے۔
نانا جان علیہ الرحمتہ کے بعد بہت حد تک اقبال چچا ان کے نعم البدل تھے. ان کی حیثیت سرپرست جیسی تھی۔آہ… ہمارے خاندان کا ایک اور ستون گر گیا….. اللہ اقبال چچا کی بال بال مغفرت فرمائے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق دے۔

Comments are closed.