بڑھتی مہنگائی بنی بے روزگاری کا سبب

مسرت جہاں
جامعہ نگر دہلی
انسان کی تگ ودو کا اہم مقصد بنیادی انسانی ضرورتوں کا حصول ہے۔اسے جسم وجان کا رشتہ قائم رکھنے کے لئے خوراک تن ڈھانپنے کا کپڑا اور موسموں کی تندی و تیزی سے بچنے کے لئے مکان کی ضرورت ہے۔آج ہم اکیسویں صدی میں کھڑے ہیں مگر عالمی صورتحال کا معروضی جائزہ لیں تو مہنگائی کی وجوہ اور اثرات کا تقریباً وہی نقشہ نظر آتا ہےجو صدیوں پہلے دور میں تھا۔بڑھتی ہوئ مہنگائ اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ آئندہ آنے والے وقت میں انسان لقمہ خوراک کو ترس جائیگا۔اس مہنگائ نے غریب کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔
ہر گزرتا دن ہم ہندوستانیوں کے لئے ایک عزاب ثابت ہو رہا ہے ، بے روزگاری کا سیلاب اور مہنگائ کے طوفان نے ملک کے لوگوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ملک عجیب و غریب بحران سے دو چار ہے۔
پارلیمنٹ میں بجٹ سے قبل جو ملک کا اقتصادی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔اس میں ملک کی معیشیت مستحکم ہونی بتایا گیا ہے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ کورونا وباء کی تقریباً تین لہروں کے دوران معیشت دراصل سکڑ کر رہ گئی ہے۔بڑے پیمانے کے سرمایہ کاروں کی صنعتیں اور تجارتیں سلامت رہیں، مگر چھوٹے سرمایہ کاروں اور متوسط تاجروں کی تجارت ٹھپ پڑ گئی۔پرائیویٹ سیکٹر میں زیر ملازمت لوگوں کی تعداد گھٹ کر رہ گئ۔صنعت و حرفت کی پیداوار میں واقع بتدریج کمی کے پیش نظر بر سرروزگار ملازمین کو ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔نتیجہ کے طور پر بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہوتا گیا۔آمدنی کم ہوتی گئی۔عام لوگوں کے ہاں قوت خرید میں گراوٹ نے اشیاء کی خرید و فروخت کو بے حد متاثر کیا۔اس کے ساتھ ہی اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔چند ریاستوں میں عنقریب ہونے والے انتخابات کے پیش نظر تازہ بجٹ میں کوئ نئ اصلاحات اور فیض مندانہ اعلانات کی امیدیں نہیں رکھتی تھیں۔مجموعی اعتبار سے حکومت اپنی کارکردگی کی خود ستائش کرتے ہوئے جتا رہی ہےکہ ملک کی حالت بہتر ہے۔مگر ہو یہ رہا ہے کہ ملک میں امیروں اور غریبوں کے درمیان خلیج بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔
مہنگائی تو شاید ہی ہماری ہر آنے والی حکومت کے کنٹرول میں رہی ہو لیکن سرکار کی طرف سے نوکری کا حصول وعام آدمی کے بس کی بات نہ پہلے تھی ،نہ اب ہے۔خاص طور سے نوجوان طبقہ جو ہماری کل آبادی کا ستر فیصد کے قریب ہےاور بے روزگار پڑھے لکھے نوجوان گریجویٹ ان پڑھ نوجوان سے بھی تین گنا زیادہ تعداد میں ہیں۔مگر ان کے لئے حکومت کے پاس کوئ جاب ہی نہیں ۔اسی طرح بے روزگار نوجوان تعلیم یافتہ لڑکیوں کی تعداد لڑکوں سے زیادہ ہے۔حکومت کوئی آسان سکیم ابھی تک دینے میں ناکامیاب ہو رہی ہے جس سے عام آدمی کو بغیر کسی سفارش کے نوکری یا چھوٹا کاروبار میسر آسکے۔یہ آج کی بات نہیں بلکہ ستر سالوں سے بے روزگاری کی عفریت کی ہےجو پھیلتی جا رہی ہے۔جس سے عوام خصوصی طور پر نوجوان طبقہ میں بڑھتی ہوئ مہنگائ کے ساتھ مایوسی کو جنم دے رہی ہے۔
ضروری اشیاء پر پرائس کنٹرول کہیں نظر نہیں آرہا ہے، حتی کے ضروری ادویات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں ۔مہنگائ کی شرح جو پہلے چار فیصد تک ہوتی تھی ،اب دس فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ کم مہنگائ کا دور ختم ہو گیا ہے،اس میں اب مسلسل اضافہ ہی ہو گا ۔
لہذاا مرکزی حکومت اور مرکزی بینک کو ایسے اقدامات اور اصلاحات کو یقینی بنانا ہوگا ۔جن سے عام آدمی بڑھے۔مہنگائی روکنےکے لئے حکومت کو اپنے تمام وسائل اور قوت سے کام لینا چاہیئے اور بلیک کرنے والوں ، رشوت خوروں اور بے ایمانی کرنے والوں کو عبرت ناک سزائیں دینی چاہیئے کیونکہ اگر جلد ہی موثر اقدامات نہیں کئے گئے تو یہ مسئلہ اتنا بڑھ جائے گا کہ اس پر قابو پانا ناممکن ہو جائیگا۔

Comments are closed.