دار الاسلام / دار الحرب !
احساس نایاب شیموگہ کرناٹک
وہ ممالک جو اللہ سبحان تعالی کی رضا, خوشنودی کے لئے اسلامی احکامات پر عمل پیرا ہوں, بھلے مُٹھی بھر ہوں لیکن تقوی پرست ہوں, جہاں امن چین ؤ سکون کی فضا ہو ایسے علاقے, ایسے ممالک بیشک دارالاسلام کہلاتے ہیں بھلے وہاں مسلمان اقلیت کا درجہ رکھتے ہوں یا اکثریت کا …..
وہیں دار الحرب اس کا برعکس ہے چاہے وہ مسلم اکثریت والے مسلم ممالک ہی کیوں نہ ہوں, باوجود اگر وہاں اللہ سبحان تعالی کی نافرمانی کی جارہی ہو, اللہ سبحان تعالی کے احکامات کو نظرانداز کیا جارہا ہو تو وہ دار الحرب کہلائے جائیں گے
جنگی اور افراتفری والے علاقے باقی ہم سے کہیں کوئی غلطی ہوئی ہو تو اللہ سبحان تعالی ہمیں معاف فرمائیں اور خیر کے ساتھ صحیح و برکت والے علم سے نوازیں …..
آمین یارب العلمین ……
دوسری بات جنت میں داخلے کے لئے تو بیشک خدمت خلق کے ساتھ نیک اعمال کی پونجی ضروری ہے اور جہاں پر ظلم ہورہا ہو وہاں پر اگر آپ خاموش ہیں اور اپنی خاموشی کو حکمت کہتے ہوئے سجدوں میں پڑجائیں تب بھی آپ ظالم کہلائیں گے کیونکہ آپ کی خاموشی ظالم کی طاقت ہے, اور کہیں نہ کہیں آپ ناچاہتے ہوئے بھی ظالم کو ظلم کرنے کے لئے ساتھ دے رہے ہون گے, ایسے میں ناانصافیاں عروج پر ہوں گی ایسے میں کوئی ملک خود کو دار الاسلام ہونے کا دعوی نہیں کر سکتا….. نہ ہی وہاں چین و سکون کی فضا بنے گی بلکہ افراتفری کا ماحول ہوگا امن کے بجائے جنگی حالات ہوں گے اور یہ وقت یہ حالات بیشک ایک مومن مسلمان کے لئے سب سے بڑی آزمائش ہے, ایمان کی آزمائش اور جو مسلمان اس آزمائش کو کامیابی کے ساتھ پار کرلے وہ بیشک جنت کا حقدار ہے …….
یاد رہے ظلم کرنے والا ہی ظالم نہیں ہوتا بلکہ ظلم ہوتا دیکھ خاموش رہنے والا بھی ظالم ہے اور ایک ظالم آخر کیسے جنت کی چاہ کرسکتا ہے ؟؟؟؟؟
یہاں پر چند اہل علم حضرات نماز اور روزے کو مکمل ایمان سمجھ بیٹھے ہیں, جس کی وجہ سے آئے دن غیرمسلم ہم سے ایسے سوال کرتے ہیں جس کا جواب دیتے ہوئے اپنے ہی جواب میں ہم پھنس کر رہ جاتے ہیں …..
مسلمانوں کو ہرگز اس بات کو بھلانہ نہیں چاہئیے کہ مسلمان کے ذمہ محض پانچ فرائض نہیں ہیں اس کے علاوہ بھی کئی ذمہ داریاں ہیں جس میں سب سے اہم ہم وطن بھائیوں کو دین کی دعوت دینا ہے, اگر ہم اس اہم ذمہ داری سے چوک جاتے ہیں تو بیشک ہم بھی ظالم کہلائیں گے ……
دوسری بات کئی حضرات کے مطابق ہندوستان دار الاحد ہے جبکہ یہ محض ہماری خوش فہمی ہے کیونکہ اب
ہندوستان میں لگ بھگ مکہ کے حالات بن چکے ہیں
مسلم نوجوانوں کی لنچنگ سے لے کر نمازیں ,مساجد, اذان, حجاب یہاں تک کہ شریعت پہ بارہا حملہ کیا جارہا ہے آج یہاں نہ ہمارا دین ایمان محفوظ ہے, نہ ہی جان , مال و آبرو ایسے میں ہندوستان کو مدینہ کی مثال سے تشبیہ کرنا اس وقت کی ہماری سب سے بڑی غلطی بھول ہے
آخری اور غورطلب بات اگریمنٹ, معاہدہ دو برابر والے گروہ کے درمیان ہوا کرتا ہے, طاقتور اور کمزور کے درمیان نہ دوستی ہوتی ہے نہ ہی کسی قسم کا اگریمنٹ
بھارت کے مسلمانوں کو سالوں سے اسی دھوکے میں رکھا گیا ہے اور ہم دھوکہ میں مر مر کر جی بھی رہے ہیں جبکہ آج بھارت نہ دارالاسلام ہے نہ دار الاحد بلکہ آج کے بھارت کو دار الحرب کہنا غلط نہ ہوگا ……..
Comments are closed.