شبنمی زبان کے ترجمان ’’ڈاکٹر ارشد اکرام‘‘

مظفراحسن رحمانی
ایڈیٹر بصیرت آن لائن
خادم التدریس ’’حکومت بہار‘‘
گندمی رنگ ،کھڑی ناک ،،کتابی چہرہ ،چہرے پر خوبصورت داڑھیوں کی لکیر ،پیشانی پر سجدے کے نشان ،درمیانہ سر جس پر بے وفا بالیں ،پینٹ شرٹ زیب تن ،جس پر خوبصرت صدری ،صدری کے جیب ۔میں قلم اور چشمہ ،جب یہ خیالات آپ کے ذہن کے اسکرین پر آئے تو اس پر آپ لکھ دیں ڈاکٹر ارشد اکرام احمد ،صدر شعبہ تعلیمی جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی ۔
ڈاکٹر ارشد اکرام صاحب یوپی کے فیض آباد ضلع سے تعلق رکھتے ہیں ،ابتدائی تعلیم اپنے گھر پر اور اعلی تعلیم کے لئے اعلیٰ عصری درسگاہوں سے استفادہ کیا اور پھر دنیا کے عظیم ترین کام درس و تدریس سے منسلک ہوگئے اور اس وقت ایشیا کے معروف عصری درسگاہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ تعلیم کے ذمہ دار ہیں ۔
ان کی گفتگو دھلی دھلائی ،صاف ستھری اور شبنمی زبان کی ترجمان ہوتی ہے ، وہ طبیعت کے نرم ہونے کے ساتھ دل درد مند اور فکر ارجمند کے بھی حامل ہیں یہی وجہ ہیکہ وہ اپنے پڑھائے ہوئے بچوں سے بھی بے حد محبت رکھتے ہیں اور ان بچوں کی تربیت اور آگے بڑھنے کی فکر ہمیشہ دامن گیر رہتی ہے، مجھے اس بات کا اندازہ اس سے ہوا کہ جب وہ سمینار سے ہوٹل تشریف لاتے تو نوجوان نسلوں کی ایک بھیڑ ان کے پاس موجود ہوتی تھی ،میں نے معلوم کرنا چاہا کہ یہ نوجوان نسلیں جو موجود ہیں آخر کون ہیں ؟
تو پتہ چلا کہ ان میں سے اکثر ’’مانو‘‘ کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں اور سب ارشد اکرام صاحب کے شاگرد ہیں اور ارشد اکرام صاحب کے استاد محترم پروفیسر ڈاکٹر اعجاز مسیح صاحب نے اس بات کی تائید اس طرح کی کہ یہ سب ’’ارشد صاحب کے پروردہ اور تربیت یافتہ ہیں ‘‘۔
تین چار مہینوں کے درمیان کئی بار ان سے ہماری ملاقاتیں بندھے ٹکے اصولوں کے مطابق جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی ،مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی،یو ،این ،ایف ،پی ،اے ، کے اشتراک سے ہونے والے مختلف ورک شاپ کے درمیان ہوتی رہیں ، لیکن بات چیت کا بہت موقعہ نہیں ملا البتہ ’’جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی‘‘ کی جانب سے ’’مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی دربھنگہ‘‘کے میٹنگ ہال میں منعقدہ ملحقہ مدارس کے صدر المدرسین کے لئے مرتب کردہ کتاب ’’گلہائے دانائی ‘‘ کے پائلٹ ورکشاپ میں جو 24/فروری تا 26/ فروی 2022 بروز جمعرات تا ہفتہ چلتا رہا اس میں ان کے افتتاحی اور اختتامی گفتگو سے استفادے کا خوب موقعہ ملا ۔
ان کی گفتگو معیاری ہونے کے ساتھ سبق آزموز بھی ہوتی تھی، ان کی تمام باتوں میں دو باتیں جسے میرے من نے پسند کیا، ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ:
’’قائد وہ ہے جو اپنے پیچھے قیادت چھوڑ کر جائے ،قائد وہ نہیں ہے جو اپنے پیچھے معتقدین کی بھیڑ چھوڑ کر جائے‘‘
اور’’کسی کے بھی عیبوں کو چھپانے کوشش ہونی چاہئے ‘‘۔
اس حوالے سے انہوں نے ایک نہایت ہی سبق آموز واقعہ سنایا جس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی تربیت ایسے اساتذہ اب بھی کرتے ہیں جن کو اللہ نے خوف اور ڈر کا ایک بڑا حصہ عطا کیا ہے ،ویسے بھی وہ اپنے ایک استاد کا ذکر جو اس ورکشاپ میں موجود ہیں ،کا کرتے رہتے ہیں اور وہ بڑا نام ہے پروفیسر ڈاکٹر اعجاز مسیح صاحب کا، جن کی دینی حمیت اور خشیت الی اللہ کو ہم نے بھی اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔
انہوں نے اپنے واقعہ کا آغاز کچھ اس انداز سے کیا :’’دھوپ کی شدت زمین میں اگنے والی ہر چیز کو کھا رہی تھی ،چرند پرند، مال مویشی ،ندی کے کنارے جاکر بھی پیاسی لوٹ رہی تھی ،انسان کا بدن جلتا تھا اور حلق کو بھگونے کے لئے چشمے خشک ہوگئے تھے ،بچوں کے منہ ماؤں کی چھاتیوں سے بغیر پیٹ بھرے واپس لوٹ رہے تھے ،چولھوں کو سوکھی لکڑی تو میسر تھی لیکن ہانڈیوں میں ڈالنے کے دانے تو دور کی بات تھی اس کی جلتی آگ کو بجھانے کے لئے سارے دریا خشک تھے ،اس قحط نے انسانوں میں سے بہت سے پہلوانوں ،معصوم بچوں ، بوڑھوں ،بلکتی ماں کی ممتا کو سفید کپڑے میں لپٹاکر ہمیشہ کے لئے خاموش کردیا تھا اور یہ سلسلہ تیز رفتاری کے ساتھ آگے کو بڑھ رہا تھا ،انسانیت بھوک اور شدت قحط سے پریشان تھی ،ایک بڑی خلقت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں پہونچی اور عرض گذار ہوئی :آپ تو اللہ کے نبی ہیں ،کلیم اللہ آپ کو ہم اس لئے کہتے ہیں کہ آپ کی بات اللہ سے ہوتی ہے، ہم سب پر رحم کیجئے اور اللہ کے حضور ہماری سفارش کردیجیے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قادر مطلق کے حضور اس پیغام کو ہونچادیا ۔اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ تمہاری امت میں ایک بڑا گناہ گار موجود ہے جب تک وہ مجھ سے معافی نہیں مانگے گا اس وقت تک یہ سنوائی مسترد رہے گی۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پوری قوم تک ستارالعیوب کے اس پیغام کو پہونچادیا اور کہا کہ ہم میں سے جو کوئی بھی ہوں وہ سر عام اپنے گناہ کا اعتراف کرے اور رحمٰن ورحیم اللہ سے معافی کا مطالبہ کرے ۔
ادھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا پیغام عام ہوا اور دوسری طرف بخش دینے والے اللہ اور محتاجوں کی ضرورتوں کو پوری کرنے والے رزاق نے اس گناہ گار کو توبہ کی توفیق بخشی، اس نے جیسے ہی اپنے گناہوں کا اعتراف اور معافی کی درخواست رحیم اللہ کے حضور پیش کی، تو اس غفور رب نے آسمان کو بادلوں سے ڈھک دیا اور گرجتے مینہ نے پیاسی زمین کو سیراب کردیا ۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے پوچھا کہ آخر وہ کون تھا جس کا گناہ ہم سب کے لئے عذاب بنا ہوا تھا ۔
اللہ نے کہا :موسی ’’میرا نام ستار ہے ‘‘۔
مجھے کسی بھی انسان سے بے حد محبت ہے ،میں اپنی مخلوق کو کبھی بھی سر عام رسوا نہیں کرتا ،اسے میں نے توبہ کی توفیق دی ،اور اس توفیق کے نتیجے میں ،جب اس نے اپنی پیشانی زمین پر رگڑ مجھ سے رحم ،معافی کی ،بھیک مانگی تو میں نے اسے بخش دیا ، اور آسمان سے برسنے والی بارش کو کہا کہ اب تم اس زمین پر برس کر اسے لہلہاتے ہوئے پیڑ پودے ،ہری بھری کھیت کھلیان ،موجیں مارتے سمندر ،بھرے ہوئے دریا ،میں تبدیل کردو ،تاکہ ہماری مخلوق سیراب ہوجائے ،اللہ نے کہا موسی !
میں عیبوں کو چھپاکر اس پوری انسانیت کا کام رکھنے والا ہوں ،اور پھر وہ اس خاموش اور بھیگی پلکوں کے ساتھ اپنی نشست پر براجمان ہوگئے،اس لئے میں نے اس عظیم معلم کو جو موجوں کی تلاطم میں بھی اپنی شیریں زبان رکھتے ہیں، کو کہدیا:
’’شبنمی زبان کے ترجمان ‘‘پروفیسر ڈاکٹر ارشد اکرام۔

Comments are closed.