آج پھر ایک مسلمان نے کی دوسرے مسلمان کے قتل کی کوشش! ذمہ دار کون ؟؟؟
احساس نایاب ( شیموگہ، کرناٹک )
شیموگہ 8 مارچ
آج کرناٹک کے ضلع شیموگہ میں پیسوں کے معاملے کو لے کر قتل کی کوشش کا معاملہ پیش آیا ہے ۔۔۔۔
شہر کے شنکر مٹھ روڈ پر واقع ٹاٹا شوروم کے قریب شام کے وقت باپوجی نگر کے رہائشی ( 40 ) سالہ پاشا خان پر ، آر ایم ایل نگر کے دستگیر نے چاقو سے حملہ کرکے پاشاہ خان کو شدید زخمی کردیا ۔ اور زخمی پاشاہ خان کو مردہ سمجھ کر موقعہ سے فرار ہوگیا ، جس کے بعد پاشاہ خان کو مقامی میگھن اسپتال میں بھرتی کیا گیا ہے، ابھی پاشا کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے ۔۔۔۔۔
خبرون کے مطابق پاشاہ خان اور دستگیر کے درمیان کاروباری رنجش تھی اور آج ایک لاکھ روپیہ کے لئے دستگیر نے پاشا پر چھوڑا گھونپ کر حملہ کردیا ۔۔۔۔۔۔۔
ویسے شہر میں یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ گذشتہ ایک سال درمیان 12 مہینوں میں 12 سے ذائد قتل کی وارداتین پیش آچکی ہیں جس میں قتل کرنے والا بھی مسلمان ہے اور قتل ہونے والا مقتول بھی مسلمان ہے ۔۔۔۔۔۔
بات کڑوی ضرور ہے لیکن سچ ہے
آج جب ایشورپہ یا کوئی اور سنگھی ہمارے نوجوانوں کو غنڈہ مسلمان کہتا ہے تو ہمیں اتنا غصہ آتا ہے کہ تن من میں آگ لگ جاتی ہے, دل کرتا ہے سبھی کا منہ توڑ دیں، بتیسی گرادیں،
لیکن اتنے میں یہ خیال آتا ہے کہ آج مسلمانوں کی حرکتیں بھی تو شریفوں والی نہیں ہیں ۔۔۔۔۔
یہ اور بات ہے کہ آئنہ دیکھنا کسی کو پسند نہیں ۔۔۔۔۔۔ لیکن یہی حقیقت ہے ۔۔۔۔۔
پچھلے ایک سال کی فہرست نکالی جائے تو شہر شیموگہ میں 12 سے ذائد قتل کے معاملات پیش آچکے ہیں، کہیں آپسی رنجش، تو کہیں گروپ بندی تو کہیں نشے کی لت نے مسلم نوجوانوں کو قاتل بنادیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
لیکن افسوس کہ شہر کے ذمہ داروں کو ابھی تک ہوش نہ آیا ، سینکڑوں نوجوان گرفتار ہیں ، کم عمر کے لڑکے نشے کی وجہ سے جرائم کی طرف راغب ہورہے ہیں، ایسے میں سمجھ نہیں آرہا کہ شہر کی درجن بھر جماعتیں، تنظیمیں و اداروں میں ہونے والی محنت کہاں جارہی ہے ؟؟؟
جبکہ ہر جماعت ہر تنظیم کا دعوی ہے کہ وہ اپنی اپنی جانب سے اصلاحی اور تربیتی کام بخوبی انجام دے رہے ہین، محلہ واری اجتماع کئے جارہے ہیں ، تربیتی کیمپس منعقد کئے جاتے ہیں ، باوجود نوجوان بےراہ روی کے شکار ۔۔۔۔۔۔
ایسے میں ذمہ دار کون ؟
جہان والدین کو ذمہ دار ٹہرایا جاتا ہے وہان اس بات کو بھی سمجھنا بیحد ضروری ہے کہ آج اکثر والدین کے اندر بھی تربیت کا فقدان ہے ، ایسے مین وہ اپنے بچوں کی صحیح تربیت، اپنے نونہالوں کی صحیح رہنمائی کیسے کرپائیں گے ؟؟؟
یہاں ہمارا مقصد کسی کو بُرا بھلا کہنا یا الزام تراشی ہرگز نہیں ہے ۔۔۔۔۔
بلکہ ہمارے نوجوانوں کے حالات دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے، درد ہوتا ہے ۔۔۔۔۔
اور بار بار ذہن میں یہی سوال آتے ہیں
کہ تربیت سے دور اپنے ان بھائی بہنوں کے لئے شہر کے باصلاحیت ، تربیت یافتہ افراد آخر کیوں آگے نہیں آتے ؟؟؟ پورے شہر کی نہ سہی
کم از کم ایک گھر ایک محلے کی ذمہ داری تو خود پہ لینی ہوگی ۔۔۔۔۔۔
مساجدوں کو نمازوں کے ساتھ ساتھ بچوں کی تربیت گاہ بنانا ہوگا ، ہر محلے کی ہر مسجد میں کاؤنسلنگ سینٹرس قائم کرنے ہوں گے، جس کی ذمہ داری تعلیم یافتہ باشعور افراد کو لینی ہوگی اور جاہل قسم کے لوگون کو اللہ کے گھرون کی ذمہ داری سے نکال کر باہر کا راستہ دکھانا ہوگا اور انہیں جلسوں میں اسٹیجس کی زینت بنانے سے گریز کرنا ہوگا ورنہ دیکھا دیکھی ہمارے نوجوان ایسوں سے متاثر ہوکر انہیں کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش میں برباد ہوجائیں گے یا بہتر ہوگا بلاخوف تربیت و اصلاح کی شروعات اُنہیں افراد سے کریں ۔۔۔۔
بیشک ہدایت دینے والا رب ہے ۔۔۔۔۔
اس کے علاوہ نوجوانوں کو نشے کی لت سے نجات دلانے کے لئے شہر میں اپنا رہیبٹیشن سینٹر بنانا ہوگا ، اور سب سے ضروری اور اہم بات ہمارے اہل علم حضرات کو قوم کے خاطر اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے خاطر اُن کی اُمت کے لئے آپسی اختلافات کو بھلاکر محض اللہ کی رضا کے خاطر متحد ہوکر قوم کی فلاح بہبود کے لئے کام کرنا ہوگا اور سب سے پہلے انہیں اپنی قدر و قیمت جاننی ہوگی اور اپنے اندر سے بندوں کا خوف نکال کر خود مختار بننا ہوگا تاکہ اللہ کے گھروں کے ساتھ ساتھ اللہ کے بندوں کی ذمہ داری بخوبی نبھاسکیں ورنہ اس قوم، اس امت کی تباہی کے ذمہ دار آپ ہوں گے ۔۔۔۔۔۔
Comments are closed.