نتائج اور ہماری مایوسی
بقلم پروفیسر ڈاکٹر عبدالحلیم قاسمی
تقریباً گزشتہ ایک سال سے افسر شاہوں اور بڑے منصب پر فائز افسران سے ملتے رہنے کی وجہ سے سیاسی ماحول کو سمجھنے میں کافی مدد ملی، یہی وجہ ہے کہ میں نے الیکشن کے دوران کا پورا وقت ریسرچ، تحقیق، مضمون نویسی میں لگایا،ساتھ ہی میری کوشش رہی کہ ہم اپنے حلقے میں اپنی فکر، اپنی تعلیم، اپنی قیادت کی بات کریں، تاکہ ہمارے لوگوں کے ذہن غیر ضروری بحث و مباحثہ سے دور رہیں۔
برادران وطن کا ایک طبقہ مکمل ایک سال سے گھر گھر جا کر شام کے اندھیروں میں برادران وطن کی ذہن سازی میں مصروف تھا،ہم لوگ گھر گھر جا کر آسمان کی یا اندرون زمین کی باتیں کرتے ہیں، برادران اپنی پوری توانائی بھیڑ اور ریلیوں سے بہت دور رہتے ہوئے انفرادی طور پر کرتے ہیں۔
مسلمانوں اور مسلمانوں کی قیادت کے لئے فی الحال کی سب سے بہتر حکمت عملی صرف صرف صرف اور صرف اپنے کو معاشی طور مضبوط کرنے اور علم کے ہر میدان میں مہارت حاصل کرنے کے علاوہ اگلے دس سال کچھ بھی ادھر ادھر دیکھنے، سوچنے اور کرنے کی ضرورت نہیں ہے،معاشی و تعلیمی دونوں میدانوں کی ترقی ہی دراصل باقی ترقیوں کی ضمانت ہے،باقی سب دل بہلانے کی باتیں ہیں،ہم سب کو مل کر اپنے مسائل خود طے کرنے ہوں گے،حکومت کوئی بھی ہو، کم و بیش کوئی زیادہ فرق نہیں، کسی خاص حکومت سے نفرت اور کسی خاص خکومت سے جذباتی لگاؤ وابستہ کرنے سے ہمارا اپنا ہی نقصان ہے،نوکری، مہنگائی اور تعلیم کا مسئلہ پورے ہندوستانیوں کا مسئلہ ہے،ان کا بھی کام چل رہا ہے، ہم مسلمانوں کا بھی کام چلے گا انشاءاللہ ،ہم لوگ تو مؤمن ہیں، ہمارا ایمان بہرحال پختہ ہونا چاہیے،ناامید اور خوفزدہ باالکل نہیں ہونا چاہیے، کسی بھی حکومت کے جیتنے اور ہارنے کے مسئلہ کو عزت سے جوڑ کر ہم مسلمانوں کو نہیں دیکھنا چاہئیے۔
بہت ممکن ہے کچھ لوگوں کو کچھ علاقوں میں عوامی طور پر شرمندگی اور کمینٹ اور غیر مناسب تبصروں کا سامنا کرنا پڑے، ایسی صورتحال میں انتہائی فراست سے کام لینے کی ضرورت ہے، جہاں تک حکومت سازی کا مسئلہ ہے تو حکومت بہر صورت برسرِ اقتدار پارٹی ہی کی کم و بیش سیٹوں کے ساتھ بنے گی، حکومت کوئی بھی ہو آپ کو آپ کے مشن میں کام کرنے کے لیے انشاءاللہ کوئی رکاوٹ نہ ابھی تک ایسی کچھ ہوئی ہے اور نہ ہوگی،ہمارے ترقی کے دروازے پہلے بھی کھلے تھے اب کھلے ہیں اور انشاءاللہ آئندہ بھی کھلے رہیں گے،ہماری اپنی طاقت صرف صرف ہماری معاشی مضبوطی، تعلیمی ترقی اور لگا تار محنت ہے،
مایوس اور فکرمندی کی بات نہیں، مایوس فکرمند ہو کر برادران وطن کوطنز کا موقع فراہم نہ کریں، خوش رہیں اور اپنے تین کام معاش، تعلیم، جہد مسلسل پر پوری توجہ مرکوز رکھیں۔
شکریہ
مورخہ 10 مارچ بروز جمعرات 2022
Comments are closed.