2+2 کا مطلب ساڑھے تین
مولاناحکیم محمود احمد خاں دریابادی
سیاست میں 2+ 2 ہمیشہ چار نہیں ہوتے بلکہ کبھی پانچ ہوجاتے ہیں اور کبھی تین ہی رہ جاتے ہیں۔ ـ
سامنے کی بات تو یہی ہے کہ اگر سپا، بسپا اور کانگریس ملکر لڑتیں تو جیت جاتیں،……… یہ تجربہ پچھلی مرتبہ کامیاب نہیں ہوسکا تھا، اس لئے کہ اس طرح ووٹر کے پاس صرف دو آپشن رہ جاتے ہیں، …….. بہت سے ووٹر ایسے بھی ہوتے ہیں جو دونوں پارٹیوں کو ووٹ نہیں دینا چاہتے ایسے لوگوں کے لئے ایک تیسرا، چوتھا مضبوط آپشن بھی ہونا چاہیئے، اس کی عدم موجودگی میں بی جے پی کے ناراض ووٹر سپا کے بجائے دوبارہ بی جے پی کی طرف لوٹنا پسند کرتے ہیں، اس کی بھی متعدد وجوہات ہیں ان کی تفصیل پھر کبھی ـ۔
الگ الگ لڑنے سے ایک فائدہ یہ ہوسکتا تھا کہ مثلا پنڈت جو بی جے پی سے ناراض ہے وہ کانگریس کو پسند کرسکتا ہے، اس لئے کہ سابق میں پنڈت کانگریس کا پکا ووٹر رہ چکا ہے،……. اسی طرح دلت وپسماندہ ہندوؤں کا ووٹ بسپا کاٹ سکتی ہے، اس طرح بھاجپا کے ووٹوں میں خاصی کمی ہوجاتی ـ…….. مگر جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ اس بار2+ 2 پانچ ہونے کے بجائے تین ہی رہ گئے اور سارا حساب کتاب گڑبڑا گیا ۔ـ
بھاجپا کے ناراض ووٹر کچھ سپا کی طرف آئے بھی تو دوسری طرف بسپا کے دس فیصد ووٹر بھاجپا کی طرف چلے گئے، کانگریس کے چار فیصد ووٹر بھی کھسک گئے، بسپا کا ووٹ فیصد 22 سے گھٹ کر 12 فیصد ہی رہ گیا، دوسری طرف بھاچپا کا39 فیصد ووٹ بڑھ کر42 فیصد ہوگیا اور بھاجپا پھر سے گدی نشین ہوگئی، اگرچہ کچھ سیٹیں کم ہوگئی ہیں۔ ـ
سپا پچھلی بار کے 22 فیصد کے مقابلے میں اس بار31 فیصد اور47 سیٹوں سے 125 سیٹیوں پر پہونچنے کے باوجود کرسی سے بہت دور رہ گئی۔ ـ
یاد رہے کہ جب تنہا225 سیٹیں حاصل کرکے سپا اقتدار میں آئی تھی تب بھی اس کا ووٹ فیصد 31 ہی تھا، اس بار32 ہے اور سیٹیں 225 کے بجائے 125 ہی ہیں ـ۔
اسی کو کہتے ہیں2+2 کا مطب ساڑھے تین!
Comments are closed.