اوروں کو غدار بعد میں کہئیے ،پہلے اپنے گریبان میں جھانکئے !

احساس نایاب شیموگہ کرناٹک
ایک مشہور کہاوت ہے ’’ پوت کے پاؤں پالنے میں ہی نظر آجاتے ہیں ‘‘ 2022 یوپی الیکشن کا حال بھی اسی کہاوت کے مصداق رہا ہے …..
منظرنامہ بھلے کچھ اور بتارہا تھا، نظارے بھی کچھ اور ہی تھے،چاہے وہ ووٹ مانگنے گئے بھاجپائی کارکنان کو مقامی لوگوں کا بھگادینا ہو، یا آن کیمرہ کچھ جانے مانے اور کچھ انجانے چہروں کا بی جے پی کے خلاف بیزارگی کا اظہار ہو ،یا بی جے پی کی مسلسل ناکامیوں کا تذکرہ ہو، بالخصوص ہاتھرس، لکھیم پور، کورونا کال میں مریضوں، مزدوروں کی بدحالی، مہنگائی کی مار یا کسان آندولن ، ہر لحاظ سے ماحول، میدان، فضا سب کچھ بی جے پی کے خلاف تھی جس کی وجہ سے بظاہر ایک عام انسان کی نظر میں ’’ غورطلب ایک عام انسان کی نظر میں بی جے پی کی ہار طئے تھی‘‘ لیکن پردے کے پیچھے جو سیاسی کھیل چل رہا تھا ، اُسے محسوس کرتے ہوئے سیاسی چالوں کو سمجھنے ،سیاسی شعور رکھنے والے افراد انتخابات کے آغاز میں ہی اس بات کو سمجھ گئے تھے کہ 2022 کا انتخابی اونٹ کس کروٹ بیٹھنے والا ہے ، بالکل اوپر لکھی گئی کہاوت کی طرح پوت کے پاؤں پالنے میں ہی نظر آجاتے ہیں،اور الحمدللہ ایک بڑی اکثریت کو نظر آچکا تھا، بالخصوص صحافت سے تعلق رکھنے والے، ہم بھی اپنے پچھلے مضامین میں کھُلے لفظوں میں اس کا تذکرہ کر چکے ہیں …….
لیکن مسلمانوں کی ایک بُری عادت ہجوم کے پیچھے دوڑنے کی ہے ،جس نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی خود کو ہی نقصان پہنچایا ہےلیکن افسوس کہ ہم اپنی ناسمجھی کا ٹھیکرہ اوروں کے سر پھوڑ کو خود کو صحیح ثابت کرنے میں لگ جاتے ہیں …….
بہرحال غلطی خود کریں الزام اوروں پر لگائیں،منافقت ہمارے درمیان ہو مگر غدار کسی اور کو کہا جائے …..
واہ رے مسلمان!
ایسے میں تیرا کچھ نہیں ہوگا، جس کو ہم غدار کہہ رہے ہیں، یاد رہے وہ اپنی قوم کے ساتھ وفادار ہے،وہ اپنی قوم اپنے دھرم کے لئے اپنے وجود کو مٹاکر بھی مطمئن ہے اور مزید ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار ہے۔
لیکن ہم کیا ہیں ؟؟؟
ذرا اپنے گریبانوں میں بھی جھانک کر دیکھ لیں!
کیا آپ لوگ اپنی قوم کے ساتھ وفادار ہیں ؟ اپنی قوم کے لئے ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار ہیں ؟ اوروں کو غدار کہنے والوں کو چاہئیے کہ کبھی اپنا بھی جائزہ لے لیا کریں، خود تو کبھی ایک ہو نہیں پائے، تنکوں کے مانند آج بھی بکھرے پڑےہیں اورامیدیں غیروں سے لگائے بیٹھے ہیں…..
ملک کی تو بہت دور کی بات ہے ،چھوٹے شہر،گاؤں ، گلی محلے حتی کہ ایک چھت کے نیچے کبھی ایک نہ ہوسکے ،یہاں تک کہ اللہ سبحانہ تعالی کے پاکیزہ گھروں کو بھی تقسیم کر رکھا ہے اور غداری کا ٹھیکرا سو خداؤں کو ماننے والوں کے سر پھوڑ کر خود کی غلطیوں کو کلین چٹ دینا چاہتے ہو …….
جبکہ سو خداؤں کو ماننے والے ایک ہندوتوا کے نام پر مرنے مارنے کے لئے تیار ہیں، لیکن ایک خدا،ایک رسول اور ایک قرآن کو ماننے والی ایک جسم کہلانے والی اُمت اپنے ہی جسم کے سو ٹکڑے کر لہولہان ہوچکی ہے …….
سوچا تھا یوپی الیکشن پر کچھ نہیں لکھنا ہے،لیکن لگتا ہے کہ اب لکھنا ہی پڑے گا ……
جہاں اپنے ہی ہاتھوں اپنا جسم زخموں سے چھلنی کیا گیا ہو، اپنے ہی آنگن میں ہزار کانٹے بچھا کر ہم اوروں کی دہلیزوں میں پھولوں کی امید کریں اس سے بڑی حماقت اور کیا ہوگی ؟؟؟
ساڑھے چودہ سو سال پہلے ہی اللہ سبحانہ تعالی نے اپنے کلام پاک کے ذریعہ واضح طور پر فرما چکا ہے کہ کفار کبھی تمہارےدوست نہیں ہوسکتے،باوجود خود سے اپنی دفا کرنے کے بجائے کفار پہ اعتماد کرنے کی بیوقوفی بار بار ہم ہی کرتے ہیں،کبھی حکمت کے نام پر تو کبھی بزدلی کی وجہ سے، ایسے میں جو اپنے رب کے فرمان کو بھلائے گا یقینا وہ تاقیامت یونہی ٹھوکریں کھائے گا……
جوسبق، جو سیکھ مومن کے لئے ہے وہ کفار اور یہود اپنی زندگیوں میں امپلیمنٹ کررہے ہیں جس کی وجہ سے وہ کامیاب ہیں …… اور اُن کی ڈیڈیکیشن کامیابی ہمارے لئے سیکھ ہے جسے ہم سمجھنا نہیں چاہتے نہ سیکھنا چاہتے ہیں،بلکہ اپنی سوچ اپنے عمل کو غلامانہ بنا رکھا ہے ایسے میں ذلیل و خوار تو ہوں گے ہی…… ویسے بھی جو اپنوں کا نہ ہوسکا، جو اپنے رب کا نہ ہوسکا وہ کبھی کسی کا کیا ہوگا ….. ؟؟؟
خیر جب تک ہم اپنی غلطیاں تسلیم نہیں کریں گے اور آگے انہیں سدھارنے کی کوشش نہیں کریں گے ،تب تک ہماری کیا ہماری نسلوں کے حالات بھی نہیں بدلے جائیں گے!
رہی بات غیروں کی تو ہماری اوقات ہی نہیں ہے کہ ہم انہیں غدار ، دھوکے باز یا کچھ اور کہیں ، ایک بار پھر ہم اپنی بات دہرارہے ہیں کہ’’کفار اپنی قوم، اپنے دھرم، اپنی ہندوتوادی سوچ کے ساتھ پوری طرح سے وفادار ہیں‘‘…..اور اب مخلص و وفادار ہمیں بننا ہے نہ کہ انہیں……
اس لئے پہلے اپنے گریبانوں کو سیدھا کریں، پھر غیروں کے گریبانوں کا جائزہ لیں ……..

 

Comments are closed.