جامعہ رحمانی مونگیر اور مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
(پہلی قسط)
مظفر رحمانی
بہت پہلے سے یہ خبر تھی کہ اس مرتبہ مارچ کی کسی تاریخ کو مخدومی استاد محترم حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب دامت برکاتہم جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ،جنرل سکریٹری فقہ اکیڈمی انڈیا ،بانی وناظم المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد بہار کے مصروف ترین دورہ پر ہونگے ،لیکن تاریخ سے متعلق ہمیں کوئی اطلاع نہیں مل پائی تھی ،ایک دن میں نے اس بات کے جاننے کے لئے میسیج کیا کہ آپ ہمیں بہار کے سفر سے متعلق ضروری معلومات فراہم کردیں تاکہ ہم آپ کی سہولتوں کو ملحوظ رکھ سکیں اور بہار میں آپ کی تمام سہولتوں پر نظر رکھنا میرے فرائض میں داخل ہیں.
مولانا نے کچھ دنوں کے بعد "سفری منصوبہ برائے بہار ” کے
عنوان سے پوری ترتیب کے ساتھ ہمیں روانہ فرمایا جو اس طرح تھا.
6/مارچ مولانا عبد الماجد "شانتی سندیش” پٹنہ
7/مارچ پٹنہ سے دربھنگہ ،
8/ مارچ مدرسہ بشارت العلوم کھرایاں پتھرا ،
9/مارچ مدرسہ محمودالعلوم دملہ،
10مارچ تا 15/مارچ جالے
16/مارچ ڈھاکہ ،
17/ مارچ دربھنگہ واپسی ،
19/ مارچ دربھنگہ سے حیدرآباد واپسی
اس تفصیلی پروگرام کے بعد ہمیں اطمینان ہوا.
لیکن 4/ماچ کو مولانا رحمت اللہ ندوی صاحب کے ایک پروگرام میں جس کا عنوان تھا "اصلاح معاشرہ میں مدارس اسلامیہ کا کردار ” ہم اس میں مشغول تھے کہ اسی درمیان حضرت استاد کے فون کی گھنٹی بجی میرا دل دھک سے اٹھا ،مجھے خیال گذرا کہ کہیں مولانا کا پروگرام تو ملتوی نہیں ہوگیا ؟
لیکن مولانا نے مجھ سے فرمایا کہ میں نے جو پروگرام تم کو بھیجا ہے اس میں تھوڑی ترمیم ہوئی ہے، میں نے محسوس کیا کہ کوئی خوش کن خبر ہے ،فرمانے لگے کہ پٹنہ میں درس قرآن اور ایک تعلیمی ادارے کی بنیاد کے بعد فورا خانقاہ رحمانی مونگیر جانے کا پروگرام ہے جہاں حضرت استاد مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی قبر پر فاتحہ پڑھنا ہے، سنا ہوں کہ راستہ بھی اب اچھا ہوگیا ہے اور پھر وہیں سے دربھنگہ آجائیں گے ،اس لئے اب تم بھی پٹنہ آجاؤ تاکہ مونگیر کے سفر میں میرے ساتھ رہو ،یہ بات ہمیں بہار کے سفر میں ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ اس مرتبہ جب میں بہار آؤنگا تو مونگیر بھی جاؤنگا لیکن ہر مرتبہ یہ کہ کر ٹال دیتے کہ آئندہ سفر میں مونگیر کے سفر کو یقینی بنائیں گے.
اس مرتبہ جب حضرت مولانا نے کہا تو لگا کہ یہ سفر یقینی ہے چونکہ ان کی گفتگو سے اس مرتبہ ایک خاموش خوشی کا ہمیں احساس ہورہا تھا.
میں 5/مارچ کی رات کو تاخیر سے پٹنہ پہونچا اس درمیان مجھ سے پوچھتے رہے کہ تم کس وقت تک پٹنہ پہونچوگے ،اب ہمیں اور یقین ہوگیا ،میں جس وقت ان کی رہائش گاہ ان کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر مظفرالاسلام صاحب کے گھر پہونچا تو معلوم ہوا کہ حضرت استاد کسی پروگرام میں تشریف لے گئے ہیں،
ابھی کچھ دیر ہی گذرا تھا کہ آپ تشریف لے آئے اور مجھے یاد فرمایا اور کہنے لگے کہ کل مونگیر جانا ہے اور ترتیب اس طرح ہے.
مولانا نے دوبارہ پروگرام کی تفصیلات سے آگاہ فرمایا
اور کہا کہ کل مولانا عبد الماجد صاحب کے پروگرام سے فارغ ہوتے ہی ہم خانقاہ کے سفر پر روانہ ہوجائیں گے، اس ترتیب کے بتانے کے دوران اپنے مادر علمی کے دیکھنے کے شوق نے انہیں مکمل طور پر صحت مند بنادیا تھا، چہرے سے پھوٹتی خوشی اس بات کا پتہ دے رہی تھی کہ ایک لائق فرزند کو اپنی ماں کے آنچل کی چھاؤں کی تڑپ نے کتنا پریشان کر رکھا ہے ،ایسا لگ رہا تھا کہ گویا اپنی اس زندگی کی طرف لوٹ رہے ہوں جہاں کبھی انہوں نے امیر شریعت رابع حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی رحمہ اللہ کی صحبت سے فیض پایا تھا ،جہاں اپنی تربیت کے لئے مشہور اور اپنی علمی تفوق کی بنیاد پر بلند قد اور حوصلہ مند اساتذہ کے سامنے جن میں حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ ، شیخ الحدیث حضرت مولانا شمس الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ ،حضرت مولانا فضل الرحمان قاسمی صاحب رحمۃ اللہ علیہ،حضرت مولانا فضل الرحمان رحمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ،حضرت مولانا اکرام علی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی ان درسگاہوں کو دیکھ کر اپنی تاریخ کے پچھلے دنوں میں لوٹنا چاہتے ہوں.
پٹنہ سے لحد ولی پر مونگیر کے لئے روانہ
6/مارچ کی تاریخ محبتوں کی چادر میں لپٹ کرخوشی کے پیغام کے ساتھ طلوع ہوئی ،خواہش نے انگڑائی لی، یہ دن حضرت مولانا صاحب دامت برکاتہم کے لئے بہت مشغولیت کا تھا ،دن کے دس بجے مسجد عبد الحی میں معروف معالج ڈاکٹر عبدالحی صاحب کی دعوت پر تشریف لے گئے جہاں شہر کے مختلف علما ،دانشوران موجود تھے ،آپ درس قرآن سے فارغ ہوتے ہی مولانا عبد الماجد کے پروگرام میں شرکت کے لئے روانہ ہوگئے.
میں تقریبا 26/سالوں سے بہار کے سفر میں حضرت مولانا کے ساتھ رہتا ہوں لیکن یہ سفر دیگر سفر کے مقابلے میں بالکل مختلف تھا ، مولانا عبد الماجد صاحب کا پروگرام بہت مرتب اور مختصر تھا، عمائدین شہر سے گفتگو کے بعد حضرت مولانا نے ایک ایسے درسگاہ کی بنیاد رکھی جو حقیقی معنی میں روایتی دینی درسگاہ سے الگ تھلگ ہونے کے ساتھ دینی نہج پر قائم کیا جارہا تھا،
آپ اگرچہ کہ اس تاریخ کو پٹنہ میں تھے لیکن ذہن ودماغ آپ کا جامعہ رحمانی مونگیر میں تھا ،
اس پروگرام کے دوران آپ نے ایک دو مرتبہ یہ بھی فرمایا کہ کھانے میں تاخیر ہوسکتی ہے بہت اچھا یہ ہوتا کہ راستے میں ہی کھانا کھاتے ،لیکن جو میزبان تھے وہ بہت ہی مخلص اور محبت کرنے والوں میں تھے اور انہوں نے قبل ازوقت سارے انتظامات پورے ڈھنگ سے کر رکھے تھے ، ہم لوگ کربگھیا کی جامع مسجد کے صدر وہاں کے امام صاحب کی اقتدا میں پہونچے ان لوگوں کو بھی مولانا کا پروگرام معلوم تھا اس لئے خوبصورت دسترخوان پہلے سے ہی چن دیا گیا تھا ،کھانے سے فارغ ہوکر ظہر کی نماز قیام گاہ میں ہی ادا کی گئی لیکن دوپہر کا جو حضرت مولانا کے معمول میں تھا اسے تج دیا گیا اور پھر وہاں سے ہم لوگ مونگیر کے لئے روانہ ہوگئے اس سفر میں مولانا کے نواسہ (بھانجی کا لڑکا ) حافظ مولانا مفتی فیصل ہما قاسمی ،مولانا کے بھتیجہ (چھوٹے بھائی ڈاکٹر مظفرالاسلام صاحب (عارف)کے فرزند)حافظ اظہر الاسلام متعلم ندوۃ العلماء لکھنؤ ، ساتھ تھے ،فراٹے مارتی کار شہر کی بھیڑ کی پرواہ کئے بغیر نکلتی جارہی تھی تھوڑی دیر آگے جاکر ایک جگہ مولانا نے گاڑی کو روکا اور کلہڑ کی چائے کے پینے کی خواہش کی، مولانا سفر میں اپنے ہم سفروں کا بہت خیال رکھتے ہیں اور ایک ایک چیز کو پوچھتے رہتے ہیں ،میرا ان کے ساتھ ہونے کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے میرے دانت بجھی ختم ہوجاتی ہے ، مولانا سفر کے دوران خوب اپنے ہم سفروں کے دل کو بہلانے کے لئے صاف اور پاکیزہ مزاح بھی فرماتے ہیں جس سے بوریت کا اور سفر کے تھکان کا احساس نہیں ہوتا ہے ،بسا اوقات بعض فقہی مسائل سے متعلق بھی گفتگو کرتے ہیں اور خود سوال قائم کر کے جواب بھی دیتے ہیں.
ہم لوگوں سے درمیان میں پوچھتے بھی رہتے کہ اب مونگیر کی مسافت کتنی رہ گئی ایسا لگ رہا تھا کہ انہیں اپنے مادر علمی کے دیکھنے کی بے چینی ہے.
حضرت مولانا محمد علی مونگیری رحمۃ اللہ علیہ سے اپنے دادا مولانا عبدالاحد صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے تعلق کا تذکرہ
اسی سفر کے دوران مولانا نے ہم لوگوں سے بتایا کہ ہمارے دادا حضرت مولانا عبدالاحد صاحب رحمۃ اللہ علیہ حضرتِ مولانا حسین احمد مدنی سے اصلاح کا تعلق تھا اور خود میرے والد (حضرت مولانا حکیم زین العابدین صاحب ) کا بھی اصلاحی تعلق انہی سے تھا اس لئے وہ حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی جانب اپنی نسبت کرتے ہوئے "حسینی ” لکھا کرتے تھے ،
لیکن ایک موقعہ سے جب حضرت مولانا محمد علی مونگیری رحمۃ اللّٰہ علیہ گڑھول شریف مولانا بشارت کریم رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقات کی غرض سے تشریف لائے اور گڑھول شریف جانے کا راستہ جو گیارہ اسٹیشن سے جالے کی طرف سے گذرتا تھا ، ہونا تو یہ تھا کہ دادا مرحوم ان کی جانب متوجہ ہوتے لیکن انہوں نے کوئی توجہ نہیں دیا ، اسی دن دادا نے خواب میں دیکھا کہ ایک روشنی ان کے گھر کے قریب سے گذر رہی ہے تو دل میں خیال ہوا کہ آخر ماجرا کیا ہے تو انہوں نے اس بات کو سمجھنے میں دیر نہیں کی کہ یہ روشنی ہمیں اس بزرگ کی طرف متوجہ کرتی ہے ،اور پھر اسی وقت سے مولانا محمد علی مونگیری رحمۃ اللہ علیہ کے دست گرفتہ ہوگئے.
(جاری)
Comments are closed.