ظلم کشمیر میں ہو یا گجرات میں قتل انسانیت ہوتی ہے !

 

احساس نایاب (شیموگہ کرناٹک )

 

"The Kashmiri files” فلم کا اثر

 

کشمیری پنڈتوں پر بنائی گئی اس حقیقت سے زیادہ منگھرت فلم جسے دیکھنے کے لئے ٹھیٹر پہنچے سنگھیوں کا جوش سیٹھ پر بیٹھے بیٹھے ہی لاوے کی طرح دہکنے لگا اور فلم کے ختم ہونے کے فورا بعد ٹھیٹر سے باہر نکلتے ہوئے ان سنگھیوں نے جئے شری رام کے نعروں کے ساتھ "جس کا خون نہ کھولے پانی ہے, دیش کے غداروں کو گولی مارو سالوں کو” جیسے نفرت انگیز نعرے لگانے لگے ….

فرض کریں اُس وقت اگر وہاں کوئی داڑھی ٹوپی پہنا مسلمان موجود ہوتا تو یہ سنگھی ٹولی اُس کا کیا حشر کرتی, جب ٹھیٹر کے اندر ان کا یہ حال ہے تو سڑکوں اور سنسان جگہوں پر کیا حال ہوگا جب کوئی مسلمان مرد یا خاتون انہیں اکیلے مل جائیں ؟؟؟

یہ محض فلم نہیں ہے بلکہ نفرت کی ایسی چنگاری ہے جو انسانیت کو خاک کردے گی …..

سرکار کو چاہئیے تھا کہ وہ ملک کے امن ؤ امان کو بحال رکھنے کے خاطر فوری طور پر اس اشتعال انگیز و من گھرت فلم پہ پابندی لگائے اس سے پہلے کہ بھارت کو ایک بار پھر نفرت کی آگ میں جھلسنا پڑے اور ملک میں ایک اور گجرات, بھاگلپور, گودھرا, دہلی اور ہاشم پور بنے

لیکن افسوس جنہیں اس چنگاری کو بجھانا چاہئیے تھا وہ خود آگ میں گھی ڈالنے کا کام کررہے ہیں…….

جی ہاں بھارت کا وزیر اعظم نریندر مودی اس زہریلی فلم کو پرموٹ کرتے ہوئے فلم ڈائریکٹر, پرڈیوزر اور دیگر اداکاروں کو شعلے فلم کے گبر کی طرح شاباشی دے رہے ہیں, ویسے بھی ایسے شخص سے کسی بھی قسم کی بھلائی کی امید کرنا نادانی ہے جس کے اپنے ہاتھ بےگناہوں کے خون سے رنگے ہوں …….

بھارت کی تاریخ میں آج بھی 2002 گجرات ایک بدنما داغ ہے جس کے زخم بھرپانا ناممکن ہے, کاش کبھی اُس سفاک منظر کو بھی محسوس کیا جاتا, جس میں ایک حاملہ خاتوں کا پیٹ چیر کا بچہ کو زندہ جلایا گیا تھا اور جئے شری رام کہتے ہوئے گِدھوں نے کمسن بچیوں کے جسموں کو سرعام نوچا تھا ……

لیکن ملک میں مسلم مخالف ماحول اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ مسلمانوں پر کئے جانے والے ہر ظلم کو جائز قرار دے کر ان کے ساتھ مزید خونی کھیل کھیلنے کی تیاری کی جارہی ہے اور ” دا کشمیر فائلس ” نامی فلم اُسی سازش کا ایک حصہ ہے جس سے مسلمانوں کے خلاف خونی بھیڑ تیار کی جاسکے مانو مسلمانوں کا خون خون نہیں پانی ہو جس کا بہہ جانا مقدس ہو, جیسے کچھ پاکھنڈی سادھو دیوی دیوتاؤں کو خوش کرنے کے لئے انسانی جانوں کا نزرانہ چڑھاتے ہیں, بالکل اُسی طرح آج بھگتوں کے ہاتھوں حکمرانی جماعت کے ستا دھاری سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے بےقسور مسلمانوں کو قربان کیا جارہا ہے …….

یاد رہے ظلم کشمیر میں ہو یا گجرات میں قتل ہمیشہ انسانیت ہوتی ہے اور مجھے قتل کرکے خوش ہونے والے بزدلوں ایک اور بات اپنے گوبر بھرے دل و دماغ میں ٹھونس لو

یہ جو میرے قتل پہ لیتے ہو تم رام کا نام

دراصل بدنام کرتےہو تم اپنے ہی بھگوان کا نام …….

Comments are closed.