حجاب اسلام کا ضروری حکم ہے، مسلمان خواتین شریعت پر عمل کرتی رہیں گی: مفتی عطاءاللہ قاسمی
عدالت کا کام مذہب سِکھانا نہیں، انصاف کرنا ہے: آل انڈیا امامس کونسل ایم پی
بھوپال (پریس ریلیز) 16 مارچ 2022ء، کئی مہینوں سے جاری حجاب تنازع پر بالآخر کرناٹک ہائی کورٹ نے فیصلہ سنا ہی دیا، اس فیصلے میں مسلم طالبات کو انصاف، آزادی اور دستوری حق دینے کے بجائے امید کے برخلاف بات کہی گئی اور حجاب کو اسلام کا غیرضروری حکم بتایا گیا۔
آل انڈیا امامس کونسل مدھیہ پردیش کے صوبائی صدر مفتی عطاءاللہ قاسمی نے اس پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ: فیصلے میں یہ کہنا کہ ”حجاب اسلام کا لازمی حصہ نہیں“ سراسر غلط اور حقائق کو جھٹلانا ہے۔ حجاب اسلام کا ایک لازمی اور ضروری حکم ہے، اس کے ثبوت کے لیے قرآن و سنت کے واضح دلائل موجود ہیں، جو عدالت میں دورانِ بحث پیش بھی کیے گئے؛ لیکن کرناٹک کی عدالت عالیہ کے ججوں نے تمام دلائل کو مسترد کرتے ہوئے وہ فیصلہ سنایا جو دستور اور شریعت دونوں کے خلاف ہے۔ اس فیصلے سے حجاب کے مخالفین کو کالج میں پڑھنے والی طالبات کو پریشان کرنے کا اور موقع ملےگا۔ اور تعلیمی اداروں کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی مسلم خواتین کو پریشان کیے جانے کا خدشہ ہے، جیسا کہ کچھ علاقوں میں یہ معاملہ سامنے بھی آیا ہے۔
کورٹ کا یہ فیصلہ غیر منصفانہ ہے؛ بلکہ آئین کی روح کے منافی ہے۔ حجاب اسلام کا ضروری حُکم ہے، مسلمان خواتین شریعت پر عمل کرتی رہیں گی۔ عدالت کا کام مذہب سِکھانا نہیں، انصاف کرنا ہے۔
صوبائی صدر نے مزید کہا کہ: حجاب/ پردہ نہ صرف اسلام کا حکم اور مسلمانوں کی روایت ہے؛ بلکہ دیگر مذاہب میں بھی خواتین کو پردے کا حکم دیا گیا ہے اور اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب میں بھی حجاب/ پردے کا تصور اور اہتمام پایا جاتا ہے؛ لہذا یہ فیصلہ سماج، سنودھان اور شریعت تینوں کے خلاف ہے؛ اس لیے ہم اس غیرجمہوری و غیردستوری فیصلے کو مسترد کرتے ہیں۔
آل انڈیا امامس کونسل عدالت سے مطالبہ کرتی ہے کہ: وہ اپنے اس متنازع اور سنودھان و شریعت کے خلاف فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے عرضی گزاروں کو انصاف فراہم کرے۔ اگر انصاف نہیں ملتا ہے تو آل انڈیا امامس کونسل اپنے جمہوری اور دستوری حق کا استعمال کرتے ہوئے پورے ملک میں پُرزور احتجاج کرےگی۔
آل انڈیا امامس کونسل تمام انصاف پسند ملی اور سماجی تنظیموں کے ذمہ داران سے اپیل کرتی ہے کہ اس فیصلہ کو مسترد کریں اور ساتھ ہی ہر طرح کی مصلحت کو بالائے طاق رکھ کر حجاب کے تئیں اسلام کے موقف کو مدلل انداز میں ڈنکے کی چوٹ پر میڈیا اور عدالت کے سامنے پیش کریں۔
Comments are closed.